🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب امر من نعس في صلاته او استعجم عليه القرآن او الذكر بان يرقد او يقعد حتى يذهب عنه ذلك:
باب: نماز یا قرآن مجید کی تلاوت یا ذکر کے دوران اونگھنے یا سستی غالب آنے پر اس کے جانے تک سونے یا بیٹھے رہنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 785 ترقیم شاملہ: -- 1833
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ الْحَوْلَاءَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى، مَرَّتْ بِهَا وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: هَذِهِ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ، وَزَعَمُوا أَنَّهَا لَا تَنَامُ اللَّيْلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَنَامُ اللَّيْلَ، خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَمُ اللَّهُ حَتَّى تَسْأَمُوا ".
ابن شہاب نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ حولا بنت تویت بن حبیب بن اسد بن عبدالعزیٰ اس عالم میں ان کے قریب سے گزری جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تھے، کہا: میں نے عرض کی: یہ حولا بنت تویت ہیں اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہ رات بھر نہیں سوتیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا رات بھر نہیں سوتی! اتنا عمل اپناؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو۔ اللہ کی قسم! اللہ نہیں اکتائے گا یہاں تک کہ تم اکتا جاؤ۔" [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1833]
عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا کہ حولاء بنت تویت بن حبیب بن اسد بن عبدالعزیٰ ان کے پاس سے گزری جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس موجود تھے تو میں نے عرض کیا: یہ حولہ بنت تویت ہے، اور لوگوں کا خیال ہے، یہ رات بھر نہیں سوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات بھر نہیں سوتی! اتنا عمل اپنا ؤ جس کی تم طاقت رکھتے ہو، اللہ کی قسم! اللہ نہیں اکتائے گا، یہاں تم ہی اکتا جاؤ گے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1833]
ترقیم فوادعبدالباقی: 785
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 785 ترقیم شاملہ: -- 1834
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ فَقُلْتُ: امْرَأَةٌ لَا تَنَامُ، تُصَلِّي، قَالَ: " عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا، وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ "، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ: أَنَّهَا امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ.
ابواسامہ اور یحییٰ بن سعید نے ہشام بن عروہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے خبر دی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس ایک خاتون موجود تھیں، آپ نے پوچھا: "یہ کون ہے؟" میں نے کہا: یہ ایسی عورت ہے جو رات بھر نہیں سوتی، نماز پڑھتی رہتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اتنا عمل کرو جتنا تمہارے بس میں ہو، اللہ کی قسم! اللہ نہیں اکتائے گا یہاں تک کہ تم ہی عمل سے اکتا جاؤ۔" اللہ کے ہاں دین کا وہی عمل پسند ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشگی کرے۔ ابواسامہ کی روایت میں ہے، یہ بنو اسد کی عورت تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1834]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے جبکہ میرے پاس ایک عورت موجود تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟اس پر میں نے کہا، یہ ایک عورت ہے جو رات بھر نہیں سوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنا عمل اختیار کرو جو تمہارے بس میں ہو، اللہ کی قسم! اللہ ثواب دینے سے نہیں اکتائے گا تم ہی عمل سے اکتا جاؤگے۔ اللہ کو و ہی اطاعت پسند ہے جس پر عمل کرنے والامداومت کرے۔ ابو اسامہ کی روایت میں ہے، یہ بنو اسد کی عورت تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1834]
ترقیم فوادعبدالباقی: 785
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں