صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
51. باب الاوقات التي نهي عن الصلاة فيها:
باب: جن وقتوں میں نماز ممنوع ہے ان کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 826 ترقیم شاملہ: -- 1921
وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، وإِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، جميعا، عَنْ هُشَيْمٍ ، قَالَ دَاوُدُ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ غَيْر وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَكَانَ أَحَبَّهُمْ إِلَيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ".
منصور نے قتادہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوعالیہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک سے زیادہ ساتھیوں سے سنا ہے ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں اور وہ مجھے ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1921]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی ساتھیوں سے (یعنی بہت سے صحابہ سے) سنا ہے، ان میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی داخل ہیں جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے“۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1921]
ترقیم فوادعبدالباقی: 826
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 826 ترقیم شاملہ: -- 1922
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، كُلُّهُمْ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سَعِيدٍ، وهِشَامٍ " بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ ".
شعبہ، سعید اور معاذ بن ہشام نے اپنے والد کے واسطے سے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ یہ روایت بیان کی، البتہ سعید اور ہشام کی حدیث میں (نماز فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک کے بجائے) "صبح کے بعد سورج چمکنے تک" کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1922]
یہی حدیث امام صاحب اپنے اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، سعید اور ہشام کی حدیث میں ہے: ”صبح کے بعد حتی کہ سورج روشن ہو جائے یا سورج بلند اور روشن ہو جائے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1922]
ترقیم فوادعبدالباقی: 826
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة