صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
11. باب في قوله تعالى: {وإذا راوا تجارة او لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما}:
باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ جب وہ تجارت یا کوئی اور شکل دیکھتے ہیں تو اس کی طرف چلے جاتے ہیں اور تجھے اکیلا چھوڑ جاتے ہیں۔
ترقیم عبدالباقی: 863 ترقیم شاملہ: -- 1997
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَجَاءَتْ عِيرٌ مِنْ الشَّامِ فَانْفَتَلَ النَّاسُ إِلَيْهَا، حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 ".
جریر نے حصین بن عبدالرحمان سے روایت کی، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے کہ شام سے ایک تجارتی قافلہ آ گیا، لوگوں نے اس کا رخ کر لیا حتیٰ کہ پیچھے بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا تو یہ آیت نازل کی گئی جو سورہ جمعہ میں ہے: ”اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1997]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن کھڑے ہوکر خطبہ دے رہے تھے کہ شام سے ایک تجارتی قافلہ آ گیا، لوگ اس کی طرف چلے گئے حتیٰ کہ پیچھے بارہ آدمی رہ گئےتو سورہ جمعہ کی یہ آیت نازل کی گئی ”اور جب تجارت یا کھیل، مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف بھاگ کھڑے ہوتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1997]
ترقیم فوادعبدالباقی: 863
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 863 ترقیم شاملہ: -- 1998
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، وَلَمْ يَقُلْ قَائِمًا.
عبداللہ بن ادریس نے حصین سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، کہا: (جب تجارتی قافلہ آیا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ یہ نہیں کہا: کھڑے ہوئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1998]
امام صاحب یہی روایت دوسرے استاد سے اسی سند سے بیان کرتے ہیں اس میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ ﴿قائماً﴾ کھڑے ہوکر کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1998]
ترقیم فوادعبدالباقی: 863
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 863 ترقیم شاملہ: -- 1999
وحَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَدِمَتْ سُوَيْقَةٌ، قَالَ: فَخَرَجَ النَّاسُ إِلَيْهَا فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا أَنَا فِيهِمْ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا سورة الجمعة آية 11 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ".
خالد طحان نے حصین سے روایت کی، انہوں نے سالم اور ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم جمعے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک چھوٹا سا بازار (سامان بیچنے والوں کا قافلہ) آ گیا تو لوگ اس کی طرف نکل گئے اور (صرف) بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا، میں بھی ان میں تھا، کہا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ”اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں“ آیت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1999]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم جمعے کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک چھوٹا سا قافلہ آ گیا۔ تو لوگ نکل کر اس کی طرف چلے گئے، صرف بارہ آدمی رہ گئے میں بھی ان میں تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت اتاری: ”اور جب انہوں نے تجارت یا کھیل ومشغلہ دیکھا تو اس کی طرف بھاگ گئے اور آپ کو کھڑا چھوڑگئے۔“ پوری آیت اتری۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 1999]
ترقیم فوادعبدالباقی: 863
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 863 ترقیم شاملہ: -- 2000
وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ قَدِمَتْ عِيرٌ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَابْتَدَرَهَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، قَالَ: وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا سورة الجمعة آية 11 ".
ہشیم نے کہا: ہمیں حصین نے ابوسفیان اور سالم بن ابی جعد سے خبر دی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے بیان کیا، ایک بار جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن کھڑے ہوئے (خطبہ دے رہے) تھے کہ ایک تجارتی قافلہ مدینہ آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اس کی طرف لپک پڑے حتیٰ کہ آپ کے ساتھ بارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہ بچا۔ ان میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے۔ کہا: تو (اس پر) یہ آیت اتری: ”اور جب وہ تجارت یا کوئی مشغلہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2000]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ اس اثنا میں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غلہ کا قافلہ مدینہ آ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اس کی طرف لپکے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف بارہ آدمی رہ گئے۔ ان میں ابوبکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) بھی موجود تھے، اور یہ آیت اتری: ”اور جب انھوں نے تجارت یا مشغلہ دیکھا، اس کی طرف دوڑ گئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2000]
ترقیم فوادعبدالباقی: 863
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة