🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب ذكر النداء بصلاة الكسوف: «الصلاة جامعة»:
باب: نماز کسوف کے لئے «الصّلاةُ جَامِعَةٌ» ‏‏‏‏ کہہ کر پکارنا چاہیئے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 913 ترقیم شاملہ: -- 2118
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: " بَيْنَمَا أَنَا أَرْمِي بِأَسْهُمِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَنَبَذْتُهُنَّ، وَقُلْتُ: لَأَنْظُرَنَّ إِلَى مَا يَحْدُثُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي انْكِسَافِ الشَّمْسِ الْيَوْمَ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَدْعُو وَيُكَبِّرُ وَيَحْمَدُ وَيُهَلِّلُ، حَتَّى جُلِّيَ عَنِ الشَّمْسِ، فَقَرَأَ سُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ".
بشر بن مفضل نے کہا: جریری نے ہمیں ابوعلاء حیان بن عمیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اپنے تیروں کے ذریعے سے تیر اندازی کر رہا تھا کہ سورج کو گرہن لگ گیا، تو میں نے ان کو پھینکا اور (دل میں) کہا کہ میں آج ہر صورت دیکھوں گا کہ سورج گرہن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا نئی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ میں آپ کے پاس پہنچا تو (دیکھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، (اللہ کو) پکار رہے تھے، اس کی بڑائی بیان کر رہے تھے، اس کی حمد و ثناء بیان کر رہے تھے اور «لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ» کا ورد فرما رہے تھے، یہاں تک کہ سورج سے گرہن ہٹا دیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہر رکعت میں) دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعتیں ادا کیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2118]
حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسی اثنا میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اپنے تیر چلا رہا تھا کہ سورج کو گہن لگ گیا، تو میں نے ان کو پھینک دیا اور جی میں کہا کہ میں آج دیکھوں گا کہ سورج گہن کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا نیا کام کرتے ہیں، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حال میں پہنچا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے دعا، تکبیر، تحمید اور تہلیل کہہ رہے تھے حتی کہ سورج روشن ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2118]
ترقیم فوادعبدالباقی: 913
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 913 ترقیم شاملہ: -- 2119
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كُنْتُ أَرْتَمِي بِأَسْهُمٍ لِي بِالْمَدِينَةِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهَا، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى مَا حَدَثَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الصَّلَاةِ رَافِعٌ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يُسَبِّحُ وَيَحْمَدُ وَيُهَلِّلُ وَيُكَبِّرُ وَيَدْعُو حَتَّى حُسِرَ عَنْهَا، قَالَ: فَلَمَّا حُسِرَ، عَنْهَا قَرَأَ سُورَتَيْنِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ.
عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ نے جریری سے، انہوں نے حیان بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تھے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک دن مدینہ میں اپنے تیروں سے نشانے لگا رہا تھا کہ اچانک سورج کو گرہن لگ گیا، اس پر میں نے انہیں (تیروں کو) پھینکا اور (دل میں) کہا: اللہ کی قسم! میں ضرور دیکھوں گا کہ سورج کے گرہن کے اس وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا نئی کیفیت طاری ہوئی ہے۔ کہا: میں آپ کے پاس آیا، آپ نماز میں کھڑے تھے، دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے، پھر آپ نے تسبیح، حمد و ثناء، «لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ» اور اللہ کی بڑائی کا ورد اور دعا مانگنی شروع کر دی یہاں تک کہ سورج کا گرہن چھٹ گیا، کہا: اور جب سورج کا گرہن چھٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2119]
حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ ايک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں میں اپنے تیروں سے تیر اندازی رہا تھا کہ اچانک آفتاب گہن میں آ گیا تو میں اپنے تیر پھنک دیئے اور جی میں کہا: اللہ کی قسم! چل کر دیکھوں گا کہ اس وقت ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا نئی کیفیت طاری ہوتی ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا نیا کام کرتے ہیں میں آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تسبیح، تحمید، تہلیل، تکبیر اور دعا کرنے لگے، (اور یہ دعا و نماز کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہا حتی کہ سورج کا گہن چھٹ گیا، اور وہ روشن ہو گیا)۔ اور جب سورج روشن ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2119]
ترقیم فوادعبدالباقی: 913
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 913 ترقیم شاملہ: -- 2120
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَمَّى بِأَسْهُمٍ لِي عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا.
سالم بن نوح نے کہا: ہمیں جریری نے حیان بن عمیر سے خبر دی اور انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں باہر نکل کر اپنے تیروں سے نشانہ بازی کی مشق کر رہا تھا کہ سورج گرہن ہو گیا، پھر (سالم بن نوح نے) ان دونوں (بشر اور عبدالاعلیٰ) کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2120]
حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں باہر نکل کر اپنے تیروں سے نشانہ بازی کی مشق کررہا تھا کہ سورج گرہن ہوگیا،پھر(سالم بن نوح نے) ان دونوں(بشر اور عبدالاعلیٰ) کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2120]
ترقیم فوادعبدالباقی: 913
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں