صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب التشديد في النياحة:
باب: نوحہ کرنے کی سختی کے ساتھ ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 936 ترقیم شاملہ: -- 2163
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْبَيْعَةِ أَلَّا نَنُوحَ، فَمَا وَفَتْ مِنَّا امْرَأَةٌ إِلَّا خَمْسٌ: أُمُّ سُلَيْمٍ، وَأُمُّ الْعَلَاءِ، وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةُ مُعَاذٍ أَوْ ابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ، وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ ".
محمد بن سیرین نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت کے ساتھ ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی، تو ہم میں سے ان پانچ عورتوں: ام سلیم، ام علاء، ابوسیرہ کی بیٹی، معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی یا ابوسیرہ کی بیٹی اور معاذ رضی اللہ عنہ کی بیوی کے سوا کسی نے (کماحقہ) اس کی پاسداری نہیں کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2163]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت کے ساتھ یہ عہد بھی لیاکہ ہم نوحہ نہیں کریں گی لیکن ہم میں سے کسی عورت نے پانچ عورتوں، ام سلیم، ام العلاء، معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی ابوسبرہ کی بیٹی معاذ کی بیوی، یا ابوسبرہ کی بیٹی اور معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی کے سوا کسی نے اس عہد کا حق ادا نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2163]
ترقیم فوادعبدالباقی: 936
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 936 ترقیم شاملہ: -- 2164
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: " أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْعَةِ أَلَّا تَنُحْنَ، فَمَا وَفَتْ مِنَّا غَيْرُ خَمْسٍ، مِنْهُنَّ أُمُّ سُلَيْمٍ ".
ہشام نے حفصہ سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت میں ہم سے یہ عہد لیا کہ ”تم نوحہ نہیں کرو گی۔“ ہم میں سے پانچ کے سوا کسی نے اس کی (کماحقہ) پاسداری نہیں کی، ان (پانچ) میں سے ایک ام سلیم رضی اللہ عنہا ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2164]
حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت میں یہ عہد بھی لیا تھا کہ ہم بین نہیں کریں گی، مگر ہم میں سے پانچ کے سوا، جن میں ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی داخل ہیں، کسی اور عورت نے اس کا صحیح حق ادا نہیں کیا۔ (مراد بیعت کرنے والی عورتوں میں سے پانچ ہیں، کل پانچ عورتیں مراد نہیں ہیں۔) [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2164]
ترقیم فوادعبدالباقی: 936
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 936 ترقیم شاملہ: -- 2165
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12، وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ سورة الممتحنة آية 12، قَالَتْ: كَانَ مِنْهُ النِّيَاحَةُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا آلَ فُلَانٍ، فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَا بُدَّ لِي مِنْ أَنْ أُسْعِدَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا آلَ فُلَانٍ ".
عاصم نے حفصہ سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: «وَإِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا» (عورتیں آپ سے بیعت کریں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔۔۔ اور کسی نیک کام میں آپ کی مخالفت نہیں کریں گی) کہا: اس (عہد) میں سے ایک نوحہ گری (کی شق) بھی تھی، تو میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! فلاں خاندان کے سوا، کیونکہ انہوں نے جاہلیت کے دور میں (نوحہ کرنے پر) میرے ساتھ تعاون کیا تھا، تو اب میرے لیے بھی لازم ہے کہ میں (ایک بار) ان کے ساتھ تعاون کروں۔“ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں کے خاندان کے سوا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2165]
حضرت اُم عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے: کہ جب سورۃ ممتحنہ کی یہ آیت اتری: ”عورتیں آپ سے اس بات پر بیعت کریں کہ وہ اللہ تعا لیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی۔۔۔اور آخر میں ہے کہ کسی نیک کا م میں آپ کی مخالفت نہیں کریں گی۔“ (آیت:12) وہ بتاتی ہیں (باز رہنے والی چیزرں میں) نوحہ بھی داخل تھا۔ تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فلا ں خاندان کے سوا، کیونکہ انھوں نے جا ہلیت کے دور میں نوحہ کرنے میں میرے ساتھ تعاون کیا تھا تو میرے لیے ان تعاون بغیر کوئی چارہ نہیں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں شخص کا خاندان مستثنیٰ ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2165]
ترقیم فوادعبدالباقی: 936
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة