🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب إثم مانع الزكاة:
باب: زکوٰۃ نہ دینے کا عذاب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 988 ترقیم شاملہ: -- 2296
حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ قَطُّ، وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا، وَلَا صَاحِبِ بَقَرٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ، وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا، وَلَا صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ، وَقَعَدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلَا مُنْكَسِرٌ قَرْنُهَا، وَلَا صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ، إِلَّا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاتِحًا فَاهُ، فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ، فَيُنَادِيهِ خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَأْتَهُ فَأَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ، فَإِذَا رَأَى أَنْ لَا بُدَّ مِنْهُ سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ، فَيَقْضَمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ "، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ، ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْإِبِلِ؟، قَالَ: " حَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا، وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنِيحَتُهَا، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ".
ابن جریج نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: کوئی اونٹوں کا مالک نہیں جو ان کے معاملے میں اس طرح نہیں کرتا جس طرح ان کا حق ہے مگر وہ قیامت کے دن اپنی انتہائی زیادہ تعداد میں آئیں گے جو کبھی ان کی تھی اور وہ ان (اونٹوں) کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بیٹھے گا اور وہ اسے اپنے اگلے قدموں اور اپنے پاؤں سے روندیں گے۔ اسی طرح کوئی گائے کا مالک نہیں جو ان کا حق ادا نہیں کرتا مگر وہ قیامت کے دن اس سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گی جو کبھی ان کی تھی۔ اور وہ ان کے سامنے چٹیل میدان میں بیٹھے گا، وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے پیروں سے روندیں گی اور اسی طرح بکریوں کا کوئی مالک نہیں جو ان کا حق ادا نہیں کرتا تو وہ قیامت کے دن اپنی زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گی جو کبھی ان کی تھی اور وہ ان کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بیٹھے گا اور وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے سموں سے اسے روندیں گی اور ان میں نہ کوئی سینگوں کے بغیر ہوگی اور نہ ہی کوئی ٹوٹے سینگوں والی ہوگی اور کوئی (سونے چاندی کے) خزانے کا مالک نہیں جو اس کا حق ادا نہیں کرتا مگر قیامت کے دن اس کا خزانہ گنجا سانپ بن کر آئے گا اور اپنا منہ کھولے ہوئے اس کا تعاقب کرے گا، جب اس کے پاس پہنچے گا تو وہ اس سے بھاگے گا، پھر وہ (سانپ) اسے آواز دے گا: اپنا خزانہ لے لو جو تم نے (دنیا میں) چھپا کر رکھا تھا۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ جب (خزانے والا) دیکھے گا اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں تو وہ اپنا ہاتھ اس (سانپ) کے منہ میں داخل کرے گا، وہ اسے اس طرح چبائے گا جس طرح سانڈھ چباتا ہے۔ ابوزبیر نے کہا: میں نے عبید بن عمیر کو یہ بات کہتے ہوئے سنا، پھر ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس (حدیث) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسی طرح کہا جس طرح عبید بن عمیر نے کہا۔ اور ابوزبیر نے کہا: میں نے عبید بن عمیر کو کہتے ہوئے سنا ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی (پلانے کا موقع) پر ان کا دودھ دوہنا (اور لوگوں کو پلانا) اور اس کا ڈول ادھار دینا اور اس کا سانڈ ادھار دینا اور اونٹنی کو دودھ پینے کے لیے دینا اور اللہ کی راہ میں سواری کی خاطر دینا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2296]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی اونٹوں کا مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا ہے تو وہ قیامت کے دن اپنی زیادہ تعداد میں آئیں گے جو کبھی ان کی تھی اور وہ ان (اونٹوں) کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بٹھایا جائے گا اور وہ اسے اپنے اگلے پاؤں اور کھروں سے روندیں گے۔ اور جو گائیوں کا مالک ان کا حق ادا نہیں کرے گا تو وہ قیامت کے دن اپنی زیادہ تعداد ہونے کی صورت میں آئیں گی، اور وہ ان کے سامنے چٹیل میدان میں بٹھایا جائے گا، وہ اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے پیروں سے روندیں گی اور جو بکریوں کا مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا ہے تو وہ قیامت کے دن اپنی زیادہ سے زیادہ تعداد ہونے کی صورت میں آئیں گی اور وہ ان کے سامنے چٹیل میدان میں بٹھایا جائے گا اور وہ اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی اور ان میں کوئی بکری بغیر سینگوں کے ہوگی اور نہ ہی ٹوٹے ہوئے سینگوں والی، اور نہ ہی کوئی خزانہ کا مالک ہے جو اس کا حق ادا نہیں کرتا مگر قیامت کے دن اس کا خزانہ گنجا سانپ بن کر آئے گا اور اپنا منہ کھولے ہوئے اس کا تعاقب کرے گا، جب وہ اس کے پاس پہنچے گا تو وہ اس سے بھاگے گا، تو وہ (سانپ) اسے آواز دے گا: اپنا خزانہ پکڑو! جسے تم چھپا کر رکھا کرتے تھے، مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔ جب صاحبِ خزانہ دیکھے گا کہ اس سے بچنے کی کوئی صورت و چارہ نہیں تو اپنا ہاتھ اس (سانپ) کے منہ میں داخل کر دے گا، وہ اسے سانڈھ (نر اونٹ) کی طرح چبائے گا۔ ابو زبیر نے کہا: یہ بات میں نے عبید بن عمیر سے سنی تھی پھر ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بھی عبید بن عمیر کی طرح سنائی، ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے عبید بن عمیر سے سنا کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (پانی پر ان کا دودھ دوہنا تاکہ ضرورت مند لے سکیں) اور اس کا ڈول عاریتاً (پانی پلانے کے لیے) دینا اور ان میں نر کو جفتی کے لیے مانگنے پر عاریتاً دینا، اور اونٹنی کو «الْمَنِيحَةُ» دودھ پینے اور اون کاٹنے کے لیے عاریتاً دینا اور کسی کو جہاد کے لیے سواری کے لیے دینا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2296]
ترقیم فوادعبدالباقی: 988
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 988 ترقیم شاملہ: -- 2297
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا، إِلَّا أُقْعِدَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، تَطَؤُهُ ذَاتُ الظِّلْفِ بِظِلْفِهَا، وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا؟، قَالَ: إِطْرَاقُ فَحْلِهَا، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَمَنِيحَتُهَا، وَحَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَا مِنْ صَاحِبِ مَالٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ، إِلَّا تَحَوَّلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ حَيْثُمَا ذَهَبَ، وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ، وَيُقَالُ: هَذَا مَالُكَ الَّذِي كُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ، فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْهُ، أَدْخَلَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ يَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ".
عبدالملک نے ابوزبیر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹوں، گائے اور بکریوں کا جو بھی مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا تو اسے قیامت کے دن ان کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بٹھایا جائے گا۔ سموں والا جانور اسے اپنے سموں سے روندے گا اور سینگوں والا اسے اپنے سینگوں سے مارے گا، ان میں سے اس دن نہ کوئی (گائے یا بکری) بغیر سینگ کے ہوگی اور نہ ہی کوئی ٹوٹے ہوئے سینگوں والی ہوگی۔ ہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ان کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ان میں سے نر کو جفتی کے لیے دینا، ان کا ڈول ادھار دینا، ان کو دودھ پینے کے لیے دینا، ان کو پانی کے گھاٹ پر دوہنا (اور لوگوں کو پلانا) اور اللہ کی راہ میں سواری کے لیے دینا۔ اور جو بھی صاحب مال اس کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، تو قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی شکل اختیار کر لے گا، اس کا مالک جہاں جائے گا وہ اس کے پیچھے لگا رہے گا اور وہ اس سے بھاگے گا، اسے کہا جائے گا: یہ تیرا وہی مال ہے جس میں تو بخل کیا کرتا تھا۔ جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں داخل کرے گا، وہ اسے اس طرح چبائے گا جس طرح اونٹ (چارے کو) چباتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2297]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی اونٹوں، گائیوں اور بکریوں کا مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا، اسے قیامت کے دن ان کے سامنے وسیع چٹیل میدان میں بٹھایا جائے گا، کھروں والا جانور اسے اپنے کھروں سے روندے گا اور سینگوں والا اسے اپنے سینگوں سے مارے گا، ان میں سے اس دن کوئی بھی بلا سینگ یا ٹوٹے ہوئے سینگوں والا نہیں ہو گا۔ ہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ان میں سے نر کو جفتی کے لیے دینا، ان کے ڈول کو عاریۃً پانی پلانے کے لیے دینا، ان کو کچھ وقت دودھ پینے کے لیے دینا، ان کو پانی کے گھاٹ پر دوہنا اور سواری کے قابل کو) مجاہد کو سواری کے لیے دینا۔ اور جو مال کا مالک بھی اس کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، تو وہ مال قیامت کے دن گنجے سانپ کی شکل میں تبدیل ہو گا، اس کا مالک جہاں جائے گا وہ اس کا پیچھا کرے گا اور وہ اس سے بھاگے گا، اسے کہا جائے گا: یہ تیرا وہ مال ہے جسے تو روک روک رکھتا تھا، تو جب وہ دیکھے گا کہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں ہے تو اس کے منہ میں داخل کرے گا، وہ اسے نر اونٹ کی طرح چبانا شروع کر دے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2297]
ترقیم فوادعبدالباقی: 988
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں