صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
49. باب استحباب تقديم دفع الضعفة من النساء وغيرهن من مزدلفة إلى منى في اواخر الليالي قبل زحمة الناس واستحباب المكث لغيرهم حتى يصلوا الصبح بمزدلفة:
باب: ضعیفوں اور عورتوں کو لوگوں کے جمگھٹے سے پہلے رات کے آخری حصہ میں مزدلفہ سے منیٰ روانہ کرنے کا استحباب، اور ان کے علاوہ لوگوں کو مزدلفہ میں ہی صبح کی نماز پڑھنے تک ٹھہرنے کا استحباب۔
ترقیم عبدالباقی: 1291 ترقیم شاملہ: -- 3122
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، قَالَ: قَالَتْ لِي أَسْمَاءُ ، وَهِيَ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ: هَلْ غَابَ الْقَمَرُ، قُلْتُ: لَا، فَصَلَّتْ سَاعَةً، ثُمّ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: ارْحَلْ بِي، فَارْتَحَلْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ صَلَّتْ فِي مَنْزِلِهَا، فَقُلْتُ لَهَا: أَيْ هَنْتَاهْ لَقَدْ غَلَّسْنَا، قَالَتْ: كَلَّا أَيْ بُنَيَّ " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ "،
یحییٰ قطان نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی، (کہا:) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ نے مجھ سے حدیث بیان کی کہا: حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے جب وہ مزدلفہ کے (اندر بنے ہوئے مشہور) گھر کے پاس ٹھہری ہوئی تھیں، مجھ سے پوچھا: کیا چاند غروب ہو گیا؟ میں نے عرض کی: نہیں، انہوں نے گھڑی بھر نماز پڑھی، پھر کہا: بیٹے! کیا چاند غروب ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: مجھے لے چلو۔ تو ہم روانہ ہوئے حتیٰ کہ انہوں نے جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں ماریں پھر (فجر کی) نماز اپنی منزل میں ادا کی۔ تو میں نے ان سے عرض کی: محترمہ! ہم رات کے آخری پہر میں (ہی) روانہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا: بالکل نہیں، میرے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو (پہلے روانہ ہونے کی) اجازت دی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3122]
حضرت اسماء کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بیان کرتے ہیں، کہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے دریافت کیا، جبکہ وہ مزدلفہ والے گھر کے پاس تھیں، کیا چاند غروب ہو گیا؟ میں نے کہا، نہیں، تو وہ کچھ وقت تک نماز پڑھتی رہیں، پھر پوچھا، اے بیٹا! کیا چاند غروب ہو گیا؟ میں نے کہا، جی ہاں۔ انہوں نے کہا، مجھے لے چلو، ہم چل پڑے، حتی کہ انہوں نے جمرہ پر کنکریاں ماریں، پھر اپنی قیام گاہ پر صبح کی نماز پڑھی، میں نے پوچھا، اے محترمہ! ہم نے بہت اندھیرے میں کام کر لیا، انہوں نے جواب دیا، بالکل نہیں، اے بیٹے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اجازت دے دی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3122]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1291
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1291 ترقیم شاملہ: -- 3123
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَتِهِ: قَالَتْ: لَا أَيْ بُنَيَّ، إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِظُعُنِهِ.
عیسیٰ بن یونس نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ (یہی) روایت بیان کی اور ان کی روایت میں ہے انہوں (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا) نے کہا: نہیں میرے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عورتوں (اور بچوں) کو اجازت دی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3123]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے نقل کرتے ہیں، اس روایت میں ہے، حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا، نہیں، اے بیٹا! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اجازت دی تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3123]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1291
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة