🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

49. باب اسْتِحْبَابِ تَقْدِيمِ دَفْعِ الضَّعَفَةِ مِنَ النِّسَاءِ وَغَيْرِهِنَّ مِنْ مُزْدَلِفَةَ إِلَى مِنًى فِي أَوَاخِرِ اللَّيَالِي قَبْلَ زَحْمَةِ النَّاسِ وَاسْتِحْبَابِ الْمُكْثِ لِغَيْرِهِمْ حَتَّى يُصَلُّوا الصُّبْحَ بِمُزْدَلِفَةَ:
باب: ضعیفوں اور عورتوں کو لوگوں کے جمگھٹے سے پہلے رات کے آخری حصہ میں مزدلفہ سے منیٰ روانہ کرنے کا استحباب، اور ان کے علاوہ لوگوں کو مزدلفہ میں ہی صبح کی نماز پڑھنے تک ٹھہرنے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1290 ترقیم شاملہ: -- 3118
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: " اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ، تَدْفَعُ قَبْلَهُ وَقَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً ثَبِطَةً يَقُولُ الْقَاسِمُ: وَالثَّبِطَةُ: الثَّقِيلَةُ، قَالَ: فَأَذِنَ لَهَا فَخَرَجَتْ قَبْلَ دَفْعِهِ، وَحَبَسَنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا فَدَفَعْنَا بِدَفْعِهِ "، وَلَأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، فَأَكُونَ أَدْفَعُ بِإِذْنِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ.
فلح بن حمید نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: مزدلفہ کی رات حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے، اور لوگوں کا اذدھام ہونے سے پہلے (منیٰ) چلی جائیں۔ اور وہ تیزی سے حرکت نہ کر سکنے والی خاتون تھیں۔ قاسم نے کہا: ثبطہ بھاری جسم والی عورت کو کہتے ہیں۔ کہا، (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:) آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ وہ آپ کی روانگی سے پہلے ہی نکل پڑیں اور ہمیں آپ نے روکے رکھا یہاں تک کہ ہم نے (وہیں) صبح کی، اور آپ کی روانگی کے ساتھ ہی ہم روانہ ہوئیں۔ اگر میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیتی، جیسے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی تھی۔ اور یہ کہ (ہمیشہ) آپ کی اجازت سے (جلد) روانہ ہوتی تو یہ میرے لیے ہر خوش کرنے والی چیز سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3118]
حضرت عائشہ رضی الله تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت سودہ رضی الله تعالیٰ عنہا نے مزدلفہ کی رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اور لوگوں کے دھکم پیل سے پہلے (منیٰ) چلی جائیں، کیونکہ وہ بھاری بھر کم عورت تھیں، (قاسم نے ثَبِطَة [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3118]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1290
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1290 ترقیم شاملہ: -- 3119
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، جميعا عَنِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ضَخْمَةً ثَبِطَةً " فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ، فَأَذِنَ لَهَا "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَيْتَنِي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ لَا تُفِيضُ إِلَّا مَعَ الْإِمَامِ.
ایوب نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بڑی (اور) بھاری جسم والی خاتون تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ وہ رات ہی کو مزدلفہ سے روانہ ہو جائیں، تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کاش جیسے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (صبح کو باقی لوگوں کی طرح) امیر (حج) کے ساتھ ہی واپس لوٹا کرتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3119]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھاری بھر کم جسم کی عورت تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزدلفہ سے رات کے وقت واپس جانے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں، اے کاش! میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگ لیتی، جیسا کہ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت طلب کر لی تھی، حضرت عائشہ ایام حج کے ساتھ ہی واپس جایا کرتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3119]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1290
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1290 ترقیم شاملہ: -- 3120
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، فَأُصَلِّي الصُّبْحَ بِمِنًى، فَأَرْمِي الْجَمْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ، فَقِيلَ لِعَائِشَةَ: فَكَانَتْ سَوْدَةُ اسْتَأْذَنَتْهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، إِنَّهَا كَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهَا "،
عبیداللہ بن عمر نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے قاسم سے، اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میری آرزو تھی کہ جیسے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی تھی، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی، میں بھی صبح کی نماز منیٰ میں ادا کیا کرتی اور لوگوں کے منیٰ آنے سے پہلے جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں مار لیتی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا: (کیا) حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ وہ بھاری کم حرکت کر سکنے والی خاتون تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3120]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، میں چاہتی ہوں، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لے لی تھی، تو میں بھی صبح کی نماز منیٰ میں پڑھ کر لوگوں کی آمد سے پہلے جمرہ پر کنکریاں مار لیتی، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا گیا، حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی تھی؟ انہوں نے جواب دیا، ہاں، وہ بھاری بھر کم عورت تھیں، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3120]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1290
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1290 ترقیم شاملہ: -- 3121
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
سفیان ثوری نے عبدالرحمان بن قاسم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3121]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3121]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1290
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1291 ترقیم شاملہ: -- 3122
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، قَالَ: قَالَتْ لِي أَسْمَاءُ ، وَهِيَ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ: هَلْ غَابَ الْقَمَرُ، قُلْتُ: لَا، فَصَلَّتْ سَاعَةً، ثُمّ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: ارْحَلْ بِي، فَارْتَحَلْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ صَلَّتْ فِي مَنْزِلِهَا، فَقُلْتُ لَهَا: أَيْ هَنْتَاهْ لَقَدْ غَلَّسْنَا، قَالَتْ: كَلَّا أَيْ بُنَيَّ " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ "،
یحییٰ قطان نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی، (کہا:) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ نے مجھ سے حدیث بیان کی کہا: حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے جب وہ مزدلفہ کے (اندر بنے ہوئے مشہور) گھر کے پاس ٹھہری ہوئی تھیں، مجھ سے پوچھا: کیا چاند غروب ہو گیا؟ میں نے عرض کی: نہیں، انہوں نے گھڑی بھر نماز پڑھی، پھر کہا: بیٹے! کیا چاند غروب ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: مجھے لے چلو۔ تو ہم روانہ ہوئے حتیٰ کہ انہوں نے جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں ماریں پھر (فجر کی) نماز اپنی منزل میں ادا کی۔ تو میں نے ان سے عرض کی: محترمہ! ہم رات کے آخری پہر میں (ہی) روانہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا: بالکل نہیں، میرے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو (پہلے روانہ ہونے کی) اجازت دی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3122]
حضرت اسماء کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بیان کرتے ہیں، کہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھ سے دریافت کیا، جبکہ وہ مزدلفہ والے گھر کے پاس تھیں، کیا چاند غروب ہو گیا؟ میں نے کہا، نہیں، تو وہ کچھ وقت تک نماز پڑھتی رہیں، پھر پوچھا، اے بیٹا! کیا چاند غروب ہو گیا؟ میں نے کہا، جی ہاں۔ انہوں نے کہا، مجھے لے چلو، ہم چل پڑے، حتی کہ انہوں نے جمرہ پر کنکریاں ماریں، پھر اپنی قیام گاہ پر صبح کی نماز پڑھی، میں نے پوچھا، اے محترمہ! ہم نے بہت اندھیرے میں کام کر لیا، انہوں نے جواب دیا، بالکل نہیں، اے بیٹے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو اجازت دے دی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3122]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1291
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1291 ترقیم شاملہ: -- 3123
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَتِهِ: قَالَتْ: لَا أَيْ بُنَيَّ، إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِظُعُنِهِ.
عیسیٰ بن یونس نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ (یہی) روایت بیان کی اور ان کی روایت میں ہے انہوں (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا) نے کہا: نہیں میرے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عورتوں (اور بچوں) کو اجازت دی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3123]
امام صاحب یہی روایت ایک اور استاد سے نقل کرتے ہیں، اس روایت میں ہے، حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا، نہیں، اے بیٹا! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو اجازت دی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3123]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1291
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1292 ترقیم شاملہ: -- 3124
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ ابْنَ شَوَّالٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ ، فَأَخْبَرَتْهُ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِهَا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ ".
ابن جریج سے روایت ہے (کہا:) مجھے عطاء نے خبر دی کہ انہیں ابن شوال نے خبر دی کہ وہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے انہوں نے ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3124]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3124]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1292
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1292 ترقیم شاملہ: -- 3125
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ: " كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُغَلِّسُ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى "، وَفِي رِوَايَةِ النَّاقِدِ: نُغَلِّسُ مِنْ مُزْدَلِفَةَ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے سفیان بن عیینہ کے حوالے سے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم بن شوال سے اور انہوں نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم (خواتین) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں یہی کرتی تھیں (کہ) ہم رات کے آخری پہر میں جمع (مزدلفہ) سے منیٰ کی طرف روانہ ہو جاتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3125]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اندھیرے میں ہی جمع (مزدلفہ) سے منیٰ کی طرف روانہ ہو جاتے تھے، اور ناقد کی روایت میں مِنْ جَمْعٍ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3125]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1292
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1293 ترقیم شاملہ: -- 3126
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ، أَوَ قَالَ: فِي الضَّعَفَةِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ ".
حماد بن زید نے ہمیں عبیداللہ بن ابی یزید سے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے (اونٹوں پر لدے) بوجھ۔۔۔ یا کہا: کمزور افراد۔۔۔ کے ساتھ رات ہی روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3126]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی الله تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مزدلفہ سے رات ہی کو سامان یا کمزوروں (عورتوں، بچوں) کے ساتھ بھیج دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3126]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1293
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1293 ترقیم شاملہ: -- 3127
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ ".
ہم سے سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبیداللہ بن ابی یزید نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں ان لوگوں میں سے تھا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کے کمزور افراد میں (شامل کرتے ہوئے) پہلے روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3127]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کمزور اہل کے ساتھ پہلے بھیج دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3127]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1293
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں