🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب رمي جمرة العقبة من بطن الوادي وتكون مكة عن يساره ويكبر مع كل حصاة:
باب: بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے، اور مکہ کو اپنے بائیں طرف کرنے، اور ہر ایک کنکری مارنے کے ساتھ تکبیر کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1296 ترقیم شاملہ: -- 3131
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: رَمَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أُنَاسًا يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ".
ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم سے انہوں نے عبدالرحمان بن یزید سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے سات کنکریوں کے ساتھ رمی کی وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے۔ (عبدالرحمان نے) کہا: ان سے کہا گیا: کچھ لوگ اسے (جمرہ کو) اس کی بالائی طرف سے کنکریاں مارتے ہیں تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! یہی اس ہستی کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3131]
عبدالرحمٰن بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے سات کنکریاں ماریں، وہ ہر کنکری کے ساتھ «اَللّٰہُ اَکْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے تھے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کچھ لوگ اس کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا: اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی لائق بندگی نہیں، یہ اس کے مارنے کی جگہ ہے، جس پر سورہ بقرہ اتری ( صلی اللہ علیہ وسلم [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3131]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1296
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1296 ترقیم شاملہ: -- 3132
وحَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ، يَقُولُ، وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَلِّفُوا الْقُرْآنَ كَمَا أَلَّفَهُ جِبْرِيلُ، السُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا الْبَقَرَةُ، وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا النِّسَاءُ، وَالسُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا آلُ عِمْرَانَ، قَالَ: فَلَقِيتُ إِبْرَاهِيمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهِ، فَسَبَّهُ، وَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَأَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَاسْتَبْطَنَ الْوَادِي، فَاسْتَعْرَضَهَا فَرَمَاهَا مِنْ بَطْنِ الْوَادِي بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِنَّ النَّاسَ يَرْمُونَهَا مِنْ فَوْقِهَا، فَقَالَ: هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ".
ابن مسہر نے مجھے اعمش سے خبر دی (انہوں نے) کہا: میں نے حجاج بن یوسف سے سنا وہ منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہا تھا: قرآن کی وہی ترتیب رکھو جو جبریل علیہ السلام نے رکھی (نیز سورہ بقرہ کہنے کے بجائے کہو) وہ سورت جس میں بقرہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ سورت جس میں نساء کا تذکرہ ہے وہ سورت جس میں آل عمران کا تذکرہ ہے۔ (اعمش نے) کہا اس کے بعد میں ابراہیم سے ملا، میں نے انہیں اس کی بات سنائی تو انہوں نے اس پر سب و شتم کیا اور کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن یزید نے حدیث بیان کی کہ وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔۔ وہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے وادی کے اندر کھڑے ہوئے اس (جمرہ) کو چوڑائی کے رخ اپنے سامنے رکھا اس کے بعد وادی کے اندر سے اس کو سات کنکریاں ماریں وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے کہا: میں نے عرض کی: ابوعبدالرحمٰن کچھ لوگ اس کے اوپر (کی طرف) سے اسے کنکریاں مارتے ہیں انہوں نے کہا اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں! یہی اس ہستی کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3132]
امام اعمش سے روایت ہے، میں نے حجاج بن یوسف سے سنا، جبکہ وہ منبر پر خطبہ دے رہا تھا: قرآن کو اس طرح مرتب کرو جس طرح اسے جبریل علیہ السلام نے مرتب کیا تھا، وہ سورۃ جس میں بقرہ کا تذکرہ ہے، وہ سورۃ جس میں عورتوں (نساء) کا تذکرہ ہے، وہ سورۃ جس میں آل عمران کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اعمش کہتے ہیں: میری ابراہیم سے ملاقات ہوئی، میں نے انہیں حجاج کی بات بتائی، انہوں نے حجاج کو برا بھلا کہا اور کہا: مجھے عبدالرحمٰن بن یزید نے بتایا کہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، وہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے، وادی کے اندر چلے گئے اور جمرہ عقبہ کی طرف رخ کر کے وادی کے اندر سے سات کنکریاں ماریں، وہ ہر کنکری کے ساتھ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہتے تھے، میں نے پوچھا: اے ابو عبدالرحمٰن! لوگ تو جمرہ کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں، تو انہوں نے جواب دیا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، یہی جگہ ہے (جہاں سے) اس ذات صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں ماریں جن پر سورۃ بقرہ اتری تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3132]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1296
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1296 ترقیم شاملہ: -- 3133
وَحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ: لَا تَقُولُوا سُورَةُ الْبَقَرَةِ، وَاقْتَصَّا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ.
ابن ابی زائدہ اور سفیان دونوں نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حجاج سے سنا، کہہ رہا تھا: سورہ بقرہ نہ کہو۔۔۔ اور ان دونوں نے ابن مسہر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3133]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، اس میں ہے: میں نے حجاج سے سنا، وہ کہہ رہا تھا: «سُورَةُ الْبَقَرَةِ» سورۃ البقرۃ نہ کہو، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3133]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1296
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1296 ترقیم شاملہ: -- 3134
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: فَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، وَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ: هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ "،
ہمیں محمد بن جعفر غندر نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی انہوں نے ابراہیم سے اور انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی معیت میں حج کیا کہا: انہوں نے جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں اور بیت اللہ کو اپنی بائیں طرف اور منیٰ کو دائیں طرف رکھا اور کہا یہی ان کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3134]
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، انہوں نے جمرہ پر سات کنکر مارے، بیت اللہ کو بائیں طرف کیا اور منیٰ کو دائیں طرف اور فرمایا: یہ اس کے کھڑے ہونے کی جگہ، جس پر سورۃ البقرہ اتری تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3134]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1296
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1296 ترقیم شاملہ: -- 3135
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَلَمَّا أَتَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ.
ہمیں معاذ عنبری نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے کہا: جب وہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3135]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، اس میں ہے کہ جب وہ جمرہ عقبہ پر پہنچے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3135]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1296
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1296 ترقیم شاملہ: -- 3136
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُحَيَّاةِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى أَبُو الْمُحَيَّاةِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ : إِنَّ نَاسًا يَرْمُونَ الْجَمْرَةَ مِنْ فَوْقِ الْعَقَبَةِ، قَالَ: فَرَمَاهَا عَبْدُ اللَّهِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ثُمَّ قَالَ: مِنْ هَا هُنَا، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ رَمَاهَا الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ".
سلمہ بن کہیل نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: کچھ لوگ جمرہ عقبہ کو گھاٹی کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں۔ کہا: تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وادی کے اندر سے اسے کنکریاں ماریں۔ پھر کہا: یہیں سے اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! اس ہستی نے کنکریاں ماریں جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3136]
عبدالرحمٰن بن یزید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ کچھ لوگ جمرہ پر کنکریاں عقبہ کے اوپر سے مارتے ہیں، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے وادی کے اندر سے کنکریاں مار کر کہا: یہاں سے، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اس شخص نے کنکریاں ماری تھیں جس پر سورہ بقرہ نازل کی گئی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3136]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1296
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں