صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
55. باب تفضيل الحلق على التقصير وجواز التقصير:
باب: سر منڈانا، بال کٹوانے سے بہتر ہے، اور بال کٹوانے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 1302 ترقیم شاملہ: -- 3148
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ فُضَيْلٍ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِلْمُقَصِّرِينَ، قَالَ: " وَلِلْمُقَصِّرِينَ "،
ابوزرعہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں کو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں کو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! سر منڈانے والوں کو بخش دے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور بال کٹوانے والوں کو؟ فرمایا: ”اور بال کٹوانے والوں کو بھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3148]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو معاف فرما دے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور بال کٹوانے والوں کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو معاف فرما دے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور بال کٹوانے والوں کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ» ”اے اللہ! سر منڈوانے والوں کو معاف فرما دے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور بال کٹوانے والوں کے لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَلِلْمُقَصِّرِينَ» ”اور بال کٹوانے والوں کو بھی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3148]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1302
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1302 ترقیم شاملہ: -- 3149
وَحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
علاء نے اپنے والد (عبدالرحمان بن یعقوب) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔۔۔ آگے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوزرعہ کی (روایت کردہ) حدیث کے ہم معنی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3149]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا مفہوم کی حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3149]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1302
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة