🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب استحباب النكاح لمن تاقت نفسه إليه ووجد مؤنة واشتغال من عجز عن المؤن بالصوم:
باب: صاحب استطاعت کے لیے نکاح کرنے کا استحباب، اور جو اس کی طاقت نہیں رکھتا اس کو روزوں کے ساتھ مشغول رہنے کا استحباب۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1400 ترقیم شاملہ: -- 3398
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، جميعا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى: أَخْبَرَنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بِمِنًى، فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ، فَقَامَ مَعَهُ يُحَدِّثُهُ، فقَالَ: لَهُ عُثْمَانُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَلَا نُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً لَعَلَّهَا تُذَكِّرُكَ بَعْضَ مَا مَضَى مِنْ زَمَانِكَ، قَالَ: فقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ، لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ، فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ "،
ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے خبر دی، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیدل چل رہا تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی، وہ کھڑے ہو کر ان سے باتیں کرنے لگے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا ہم کسی نوجوان لڑکی سے آپ کی شادی نہ کرا دیں، شاید وہ آپ کو آپ کا وہی زمانہ یاد کرا دے جو گزر چکا ہے؟ کہا: تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ نے یہ بات کہی ہے تو (اس سے پہلے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا: اے جوانوں کے گروہ! تم میں سے جو کوئی شادی کی استطاعت رکھتا ہو وہ شادی کر لے، یہ نگاہ کو زیادہ جھکانے والی اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والی ہے اور جو استطاعت نہیں رکھتا تو وہ روزے کو لازم کر لے، یہ اس کے لیے خواہش کو قابومیں کرنے کا ذریعہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3398]
علقمہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ منیٰ میں جا رہا تھا کہ انہیں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ملے، اور وہ ان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ٹھہر گئے، تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں کہا، اے ابو عبدالرحمٰن! کیا ہم تمہاری شادی کسی نوجوان لڑکی سے نہ کر دیں، شاید وہ تمہیں گزشتہ دور کی یاد تازہ کر دے، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا، اگر آپ یہ بات کہتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ فرما چکے ہیں، اے جوانوں کی جماعت! تم میں سے جو نکاح کے اخراجات برداشت کر سکتا ہو، وہ شادی کر لے، کیونکہ نکاح سے نظریں خوب جھک جاتی ہیں اور شرم گاہ اچھی طرح محفوظ ہو جاتی ہے اور جو شخص (نان و نفقہ کی ادائیگی) کی استطاعت نہیں رکھتا، وہ روزوں کی پابندی کرے، کیونکہ اس سے شہوت کا زور ٹوٹ جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3398]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1400
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1400 ترقیم شاملہ: -- 3399
حدثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: إِنِّي لَأَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِمِنًى إِذْ لَقِيَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فقَالَ: هَلُمَّ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: فَاسْتَخْلَاهُ، فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَيْسَتْ لَهُ حَاجَةٌ، قَالَ: قَالَ لِي: تَعَالَ يَا عَلْقَمَةُ، قَالَ: فَجِئْتُ، فقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: أَلَا نُزَوِّجُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ جَارِيَةً بِكْرًا لَعَلَّهُ يَرْجِعُ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ مَا كُنْتَ تَعْهَدُ، فقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے روایت کی، کہا: میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیدل چل رہا تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان سے ملے تو انہوں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! (میرے ساتھ) آئیں۔ کہا: وہ انہیں تنہائی میں لے گئے۔ جب عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ انہیں اس (تنہائی) کی ضرورت نہیں، تو انہوں نے مجھے بلا لیا۔ (کہا:) علقمہ آ جاؤ! میں آ گیا، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا ہم کسی کنواری لڑکی سے آپ کی شادی نہ کرا دیں، شاید یہ آپ کے دل کی اسی کیفیت کو لوٹا دے جو آپ (عہد جوانی) میں محسوس کرتے تھے؟ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اگر آپ نے یہ بات کہی ہے۔ پھر ابومعاویہ کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3399]
علقمہ  بیان کرتے ہیں کہ میں منیٰ میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ چل رہا تھا، کہ ان کی اچانک حضرت عثمان بن عفان ؓ سے ملاقات ہو گئی، تو انہوں نے کہا، آئیے، اے ابو عبدالرحمٰن! انہیں الگ لے گئے، تو حضرت عبداللہ ؓ نے جان لیا، انہیں خواہش نہیں ہے، انہوں نے مجھے بلایا، اے علقمہ آؤ، میں آ گیا، تو حضرت عثمان ؓ نے انہیں کہا، اے ابو عبدالرحمان! ہم آپ کی شادی دوشیزہ لڑکی سے نہ کر دیں، شاید وہ تمہارے اندر گزشتہ دور کی یاد تازہ کر دے، تو حضرت عبداللہ ؓ نے جواب دیا، اگر آپ یہ بات کہتے ہیں، پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3399]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1400
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1400 ترقیم شاملہ: -- 3400
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ، فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ "،
ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: اے جوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کرنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ شادی کر لے، یہ نگاہوں کو جھکانے اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے میں (دوسری چیزوں کی نسبت) بڑھ کر ہے، اور جو استطاعت نہ پائے، وہ خود پر روزے کو لازم کر لے، یہ اس کے لیے اس کی خواہش کو قطع کرنے والا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3400]
حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے نوجوانوں کا گروہ! تم میں سے جو گھر بسانے کی استطاعت رکھتا ہے، وہ نکاح کر لے، کیونکہ اس سے نظر خوب نیچی ہوتی ہے، اور شرم گاہ اچھی طرح (غلط کاری) سے بچ جاتی ہے، اور جو گھر آباد نہ کر سکتا ہو، وہ روزوں کی پابندی کرے، وہ اس کی شہوت کو توڑ دیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3400]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1400
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1400 ترقیم شاملہ: -- 3401
حدثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا، وَعَمِّي عَلْقَمَةُ، وَالْأَسْوَدُ، عَلَى عبد الله بن مسعود ، قَالَ: وَأَنَا شَابٌّ يَوْمَئِذٍ، فَذَكَرَ حَدِيثًا رُئِيتُ أَنَّهُ حَدَّثَ بِهِ مِنْ أَجْلِي، قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَزَادَ قَالَ: فَلَمْ أَلْبَثْ حَتَّى تَزَوَّجْتُ،
جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمارہ بن عمیر سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید (بن قیس) سے روایت کی، کہا: میں، میرے چچا علقمہ (بن قیس) اور (میرے بھائی) اسود (بن یزید بن قیس) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کہا: میں ان دنوں جوان تھا۔ انہوں نے ایک حدیث بیان کی، مجھے یوں لگتا ہے کہ وہ انہوں نے میری وجہ سے بیان کی۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ (آگے) ابومعاویہ کی حدیث کے مانند ہے۔ اور (یہ) اضافہ کیا، کہا: اس کے بعد میں نے زیادہ عرصہ توقف کیے بغیر شادی کر لی۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3401]
عبدالرحمٰن بن یزید  بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا چچا علقمہ اور (بھائی) اسود حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور میں ان دنوں نوجوان تھا، تو میرے خیال میں انہوں نے میری ہی خاطر ایک حدیث بیان کی، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "آگے مذکورہ بالا روایت بیان کی اور آگے یہ اضافہ ہے، تھوڑے ہی عرصہ کے بعد میں نے شادی کر لی۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3401]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1400
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1400 ترقیم شاملہ: -- 3402
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حدثنا وَكِيعٌ ، حدثنا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَيْهِ وَأَنَا أَحْدَثُ الْقَوْمِ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ: فَلَمْ أَلْبَثْ حَتَّى تَزَوَّجْتُ.
وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (عبدالرحمان بن یزید نے) کہا: ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، میں سب سے کم عمر تھا، آگے انہی کی حدیث کے مانند ہے، (مگر) انہوں نے یہ نہیں کہا: اس کے بعد میں نے زیادہ عرصہ توقف کیے بغیر شادی کر لی۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3402]
عبدالرحمٰن بن یزید  سے روایت ہے کہ ہم حضرت عبداللہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور میں سب میں سے نوخیز یا نو عمر تھا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے، لیکن یہ نہیں ہے، میں نے تھوڑے ہی عرصہ بعد شادی کر لی۔ [صحيح مسلم/كتاب النكاح/حدیث: 3402]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1400
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں