🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب ميراث الكلالة:
باب: کلالہ کی وراثت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1617 ترقیم شاملہ: -- 4150
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ يَوْمَ جُمُعَةٍ، فَذَكَرَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي لَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا أَهَمَّ عِنْدِي مِنَ الْكَلَالَةِ، مَا رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مَا رَاجَعْتُهُ فِي الْكَلَالَةِ، وَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْءٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهِ، حَتَّى طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: يَا عُمَرُ أَلَا تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ، وَإِنِّي إِنْ أَعِشْ أَقْضِ فِيهَا بِقَضِيَّةٍ يَقْضِي بِهَا مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَمَنْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ "،
ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی: ہمیں قتادہ نے سالم بن ابی جعد سے حدیث بیان کی، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ دیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا، پھر کہا: میں اپنے بعد کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑ رہا جو میرے ہاں کلالہ سے زیادہ اہم ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں اتنی مراجعت نہیں کی جتنی کلالہ کے بارے میں کی، اور آپ نے بھی مجھ سے کسی چیز کے بارے میں اتنی شدت اختیار نہیں فرمائی جتنی کلالہ کے بارے میں فرمائی حتیٰ کہ آپ نے اپنی انگلی میرے سینے میں چبھوئی اور فرمایا: اے عمر! تمہیں موسم گرما (میں نازل ہونے) والی آیت کافی نہیں جو سورہ نساء کے آخر میں ہے؟ (جس سے مسئلہ واضح ہو گیا ہے) اور میں (عمر) اگر زندہ رہا تو اس کے بارے میں ایسا واضح فیصلہ کروں گا جس (کو دیکھتے ہوئے) ایسا شخص (بھی) فیصلہ کر سکے گا جو قرآن پڑھتا (اور سمجھتا) ہے اور وہ بھی جو قرآن نہیں پڑھتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفرائض/حدیث: 4150]
معدان بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن خطبہ دیا، اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا کہ میں اپنے بعد (پیچھے) کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑ رہا جو میرے نزدیک کلالہ کے مسئلہ سے زیادہ اہمیت والی ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں کلالہ کے مسئلہ سے زیادہ بار بار نہیں پوچھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز میں مجھ سے اس قدر سخت گفتگو نہیں کی جس قدر اس کے بارے میں شدت اختیار کی، حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے میرے سینے میں کچوکا لگایا اور فرمایا: اے عمر! کیا تیرے لیے گرمی کے موسم میں اترنے والی، سورہ نساء کے آخر میں آنے والی آیت کافی نہیں ہے؟ (اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا) اگر میں زندہ رہا تو اس کے بارے میں ایسا دو ٹوک فیصلہ کروں گا جس کے مطابق ہر وہ انسان فیصلہ کر سکے گا جو قرآن پڑھتا ہے یا قرآن نہیں پڑھتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفرائض/حدیث: 4150]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1617
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1617 ترقیم شاملہ: -- 4151
سعید بن ابی عروبہ اور شعبہ دونوں نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفرائض/حدیث: 4151]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفرائض/حدیث: 4151]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1617
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں