صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب حد الخمر:
باب: شراب کی حد کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1706 ترقیم شاملہ: -- 4452
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ، فَجَلَدَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ أَرْبَعِينَ "، قَالَ: وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ اسْتَشَارَ النَّاسَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: أَخَفَّ الْحُدُودِ ثَمَانِينَ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ،
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی، تو آپ نے اسے کھجور کی دو ٹہنیوں سے تقریباً چالیس ضربیں لگائیں۔ کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا، انہوں نے لوگوں سے مشورہ لیا تو حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: حدود میں سب سے ہلکی حد اسی کوڑے ہے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کا حکم صادر کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4452]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جو شراب پی چکا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دو بڑی چھڑیاں چالیس دفعہ ماریں، حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی یہی کام کیا، تو جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا، انہوں نے لوگوں سے مشورہ طلب کیا تو حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا: ”سب سے ہلکی حد اَسی (80) کوڑے ہے“، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا حکم دے دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4452]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1706
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1706 ترقیم شاملہ: -- 4453
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
خالد بن حارث نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا۔۔ پھر اسی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4453]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا، آگے حسب سابق روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4453]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1706
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1706 ترقیم شاملہ: -- 4454
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَدَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ ثُمَّ جَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ "، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ وَدَنَا النَّاسُ مِنَ الرِّيفِ وَالْقُرَى، قَالَ: " مَا تَرَوْنَ فِي جَلْدِ الْخَمْرِ؟ "، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا كَأَخَفِّ الْحُدُودِ، قَالَ: فَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِينَ،
معاذ بن ہشام نے کہا: مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب میں کھجور کی ٹہنی اور جوتوں سے مارا۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس (کوڑے) مارے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور لوگ سرسبز و شاداب مقامات اور بستیوں کے قریب جا بسے تو انہوں نے (مشورہ کرتے ہوئے) پوچھا: شراب کی سزا کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ تو حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میری رائے ہے کہ آپ اسے سب سے ہلکی حد کے برابر مقرر کر دیں۔ کہا: اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے مارے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4454]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب پینے پر چھڑی اور جوتیوں سے مارا، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے مارے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور لوگ سبزہ زاروں (سرسبز و شاداب جگہوں) اور بستیوں کے قریب رہنے لگے، (شرابیوں میں اضافہ ہو گیا) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ساتھیوں سے پوچھا: تمہارا شراب نوشی کی سزا کے بارے میں کیا خیال ہے؟ تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے آپ رضی اللہ عنہ اسے کم تر حد کے برابر کر دیں، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگوانے شروع کر دیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4454]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1706
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1706 ترقیم شاملہ: -- 4455
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ،
یحییٰ بن سعید نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4455]
امام صاحب ایک اور استاد سے ہشام کی مذکورہ بالا سند سے مذکورہ بالا حدیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4455]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1706
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1706 ترقیم شاملہ: -- 4456
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَضْرِبُ فِي الْخَمْرِ بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيدِ أَرْبَعِينَ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا، وَلَمْ يَذْكُرِ الرِّيفَ وَالْقُرَى.
وکیع نے ہشام سے، انہوں نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شراب کے جرم میں جوتوں اور کھجور کی ٹہنی سے چالیس ضربیں لگاتے تھے۔۔ پھر ان دونوں کی حدیث کی طرح بیان کیا اور انہوں نے سرسبز و شاداب مقامات اور بستیوں (کے قریب بسنے) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4456]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شراب نوشی کی صورت میں چالیس جوتے اور چھڑیاں مارتے تھے، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے، لیکن سرسبز و شاداب علاقہ اور بستیوں کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحدود/حدیث: 4456]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1706
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة