صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
34. باب صلح الحديبية في الحديبية:
باب: حدیبیہ میں جو صلح ہوئی اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1785 ترقیم شاملہ: -- 4633
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ سِيَاهٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قَامَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ يَوْمَ صِفِّينَ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ، لَقَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا، وَذَلِكَ فِي الصُّلْحِ الَّذِي كَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ؟، قَالَ: بَلَى، قَالَ: أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ؟، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟، فَقَالَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ: إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَنِي اللَّهُ أَبَدًا، قَالَ: فَانْطَلَقَ عُمَرُ فَلَمْ يَصْبِرْ مُتَغَيِّظًا، فَأَتَى أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ؟، قَالَ: بَلَى، قَالَ: أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ؟، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَعَلَامَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟، فَقَالَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا، قَالَ: فَنَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفَتْحِ، فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ فَأَقْرَأَهُ إِيَّاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْ فَتْحٌ هُوَ، قَالَ: نَعَمْ فَطَابَتْ نَفْسُهُ وَرَجَعَ ".
حبیب بن ابی ثابت نے ابووائل (شقیق) سے روایت کی، انہوں نے کہا: سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ جنگ صفین کے روز کھڑے ہوئے اور (لوگوں کو مخاطب کر کے) کہا: لوگو! (امیر المومنین پر الزام لگانے کے بجائے) خود کو الزام دو (صلح کو مسترد کر کے اللہ اور اس کے بتائے ہوئے راستے سے تم ہٹ رہے ہو) ہم حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے اور اگر ہم جنگ (ہی کو ناگزیر) دیکھتے تو جنگ کر گزرتے۔ یہ اس صلح کا واقعہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان ہوئی۔ (اب تو مسلمانوں کے دو گروہوں کا معاملہ ہے۔) عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں!“ عرض کی: کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول آگ میں نہ جائیں گے؟ فرمایا: ”کیوں نہیں!“ عرض کی: تو ہم اپنے دین میں نیچے لگ کر (صلح) کیوں کریں؟ اور اس طرح کیوں لوٹ جائیں کہ اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خطاب کے بیٹے! میں اللہ کا رسول ہوں، (اس کے حکم سے صلح کر رہا ہوں) اللہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔“ کہا: عمر رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں چل پڑے اور صبر نہ کر سکے۔ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے ابوبکر! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں؟ کہا: کیوں نہیں! کہا: کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول آگ میں نہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو ہم اپنے دین میں نیچے لگ کر (جیسی صلح وہ چاہتے ہیں انہیں) کیوں دیں؟ اور اس طرح کیوں لوٹ جائیں کہ اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا؟ تو انہوں نے کہا: ابن خطاب! وہ اللہ کے رسول ہیں، اللہ انہیں ہرگز کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح (کی خوشخبری) کے ساتھ قرآن اترا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور انہیں (جو نازل ہوا تھا) وہ پڑھوایا۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا یہ فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو (اس پر) عمر رضی اللہ عنہ کا دل خوش ہو گیا اور وہ لوٹ آئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4633]
ابو وائل سے روایت ہے کہ صفین کے دن حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے: اے لوگو! اپنی رائے کو متہم قرار دو، اپنے آپ کو قصوروار خیال کرو، ہم حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اگر ہم جنگ ضروری سمجھتے تو ضرور لڑتے اور یہ اس صلح کی بات ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکوں کے درمیان ہوئی، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حاضر ہو کر عرض کرنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں؟“ انہوں نے کہا: تو پھر اپنے دین میں ہم دباؤ کیوں قبول کریں اور اس حال میں لوٹ جائیں کہ ابھی اللہ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خطاب کے بیٹے! میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ چل دیے اور غصے پر قابو نہ پا سکے (غصے کی وجہ سے رک نہ سکے) اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے ابوبکر رضی اللہ عنہ! کیا ہم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ہیں؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں ہوں گے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر ہم اپنے دین میں خست اور کوتاہی کیوں قبول کریں؟ اور اس حال میں کیوں واپس لوٹیں کہ ابھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا؟ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے خطاب کے بیٹے! وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ انہیں کبھی ضائع نہیں کرے گا، حضرت سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فتح کی بشارت کے سلسلے میں قرآن اترا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور انہیں قرآن پڑھایا تو انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ فتح ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اور وہ خوش خوش مطمئن ہو کر لوٹ آئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4633]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1785
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1785 ترقیم شاملہ: -- 4634
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ ، يَقُولُ: " بِصِفِّينَ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ، وَلَوْ أَنِّي أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَدَدْتُهُ وَاللَّهِ، مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا إِلَى أَمْرٍ قَطُّ، إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ إِلَّا أَمْرَكُمْ هَذَا "، لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ نُمَيْرٍ إِلَى أَمْرٍ قَطُّ،
ابوکریب محمد بن علاء اور محمد بن عبداللہ بن نمیر دونوں نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے شقیق (بن سلمہ ابووائل) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے صفین میں سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: لوگو! اپنی رائے پر (غلط ہونے کا) الزام لگاؤ۔ اللہ کی قسم! میں نے ابوجندل (کے واقعے) کے دن اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (صلح کے) معاملے کو رد کر سکتا تو رد کر دیتا۔ اللہ کی قسم! ہم نے کبھی کسی کام کے لیے اپنے کندھوں پر تلواریں نہیں رکھیں تھیں مگر ان تلواروں نے ہمارے لیے ایسے معاملے تک پہنچنے میں آسانی کر دی جس کو ہم جانتے تھے، سوائے تمہارے موجودہ معاملے کے۔ ابن نمیر نے ”کبھی کسی معاملے کے لیے“ کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4634]
حضرت شقیق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو صفین کے موقع پر یہ کہتے سنا، اے لوگو! اپنی سوچ پر الزام عائد کرو، اللہ کی قسم! میں نے ابوجندل کے دن اپنے آپ کو اس حال میں پایا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم رد کر سکتا ہوتا تو ضرور رد کر دیتا، اللہ کی قسم! ہم نے جب بھی کسی معاملے کے سلسلے میں تلواریں اپنے کندھوں پر رکھیں تو وہ آسانی کے ساتھ ہمیں اچھی اور بہترین نتیجے کی طرف لے گئیں، مگر تمہارا یہ معاملہ (تلواروں سے حل نہیں ہو رہا)، ابن نمیر کی روایت میں «إِلَى أَمْرٍ قَطُّ» ”کسی بھی معاملے کی طرف“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4634]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1785
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1785 ترقیم شاملہ: -- 4635
وحَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ جَمِيعًا، عَنْ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا إِلَى أَمْرٍ يُفْظِعُنَا.
جریر اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، ان دونوں کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں: ”ایسے کام کی طرف جو ہمیں مشکل میں مبتلا کر رہا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4635]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے اعمش ہی کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں اور ان کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں: «إِلَى أَمْرٍ يُفْظِعُنَا» ”ایسے معاملے کی طرف جو ہمیں گھبراہٹ میں ڈال دیتا تھا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4635]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1785
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1785 ترقیم شاملہ: -- 4636
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ بِصِفِّينَ، يَقُولُ: " اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا فَتَحْنَا مِنْهُ فِي خُصْمٍ إِلَّا انْفَجَرَ عَلَيْنَا مِنْهُ خُصْمٌ ".
ابوحصین نے ابووائل سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے صفین میں سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: اپنے دین کے مقابلے میں اپنی رائے پر الزام دھرو۔ ابوجندل (کے واقعے) کے دن میں نے خود کو اس حالت میں دیکھا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو رد کر سکتا (تو حاشا و کلا رد کر دیتا۔) لیکن یہ معاملہ ایسا ہے کہ ہم اس کے ایک کونے کو مضبوط نہیں کر پاتے کہ ہمارے سامنے اس کا دوسرا کونا کھل جاتا ہے۔ (کیونکہ یہ مسلمانوں کا آپس میں اختلاف ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4636]
حضرت ابو وائل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جنگِ صفین کے موقع پر حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے سنا: دین کے سلسلے میں اپنی سوچ اور رائے کو ناقص سمجھو، میں نے حضرت ابو جندل رضی اللہ عنہ کے دن اپنے آپ کو اس کیفیت میں پایا کہ اگر میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو رد کرنا ممکن ہوتا (تو میں ضرور رد کر دیتا)۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4636]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1785
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة