صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب النهي عن طلب الإمارة والحرص عليها:
باب: امارت کی درخواست اور حرص کرنا منع ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1652 ترقیم شاملہ: -- 4281
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ "، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ الْجُلُودِيُّ: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَاسَرْجَسِيُّ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ بِهَذَا الْحَدِيثِ،
شیبان بن فروخ نے کہا: ہمیں جریر بن حازم نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں حسن نے حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”عبدالرحمان بن سمرہ! تم (خود) امارت کی درخواست مت کرو، (کیونکہ) اگر وہ تمہیں مانگنے پر دی گئی تو تم اس کے حوالے کر دیے جاؤ گے اور اگر تمہیں بن مانگے ملے گی تو (اللہ کی طرف سے) تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی کام پر قسم کھاؤ، پھر اس کے بجائے کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دو اور وہی اختیار کرو جو بہتر ہے۔“ (امام مسلم کے شاگرد) ابواحمد جلودی نے کہا: ہمیں ابوعباس ماسرجسی نے حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں شیبان بن فروخ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں جریر بن حازم نے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4281]
حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبدالرحمٰن بن سمرہ! عہدہ و منصب یا اقتدارِ حکومت کا سوال نہ کرنا (نہ مانگنا) کیونکہ اگر تمہیں اقتدار و اختیار مانگنے کی بنا پر ملا، تو تم اس کے سپرد کر دیے جاؤ گے (اللہ کی توفیق و اعانت سے محروم رہو گے) اور اگر تم عہدہ و اقتدار بلا طلب دیے گئے تو اس پر تمہاری اعانت و مدد کی جائے گی (اللہ کی طرف سے درستگی کی توفیق ملے گی) اور جب تم کسی کام پر قسم اٹھا لو، پھر اس کے برعکس کو اس سے بہتر سمجھو، تو اپنی قسم کا کفارہ دو اور وہ کام کرو جو بہتر ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4281]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1652
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1652 ترقیم شاملہ: -- 4282
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُمَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ فِي آخَرِينَ. ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ . ح وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ أَبِيهِ ذِكْرُ الْإِمَارَةِ.
یونس، منصور، حمید، سماک بن عطیہ، ہشام بن حسان، معتمر کے والد (سلیمان طرخان) اور قتادہ، ان سب نے حسن سے، انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی اور معتمر کی اپنے والد (سلیمان طرخان) سے روایت کردہ حدیث میں امارت (والی بات) کا ذکر نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4282]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی مختلف سندوں سے عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت بیان کرتے ہیں، لیکن معمر اپنے باپ سے امارہ کا ذکر نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4282]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1652
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1652 ترقیم شاملہ: -- 4715
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ: " لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ أُكِلْتَ إِلَيْهَا، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا "،
جریر بن حازم نے کہا: ہمیں حسن بصری نے اور انہیں عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”عبدالرحمٰن! امارت طلب نہ کرنا کیونکہ اگر تم کو طلب کرنے سے (امارت) ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے (اس کی تمام تر ذمہ داریاں خود اٹھاؤ گے، اللہ کی مدد شامل نہ ہو گی) اور اگر تمہیں مانگے بغیر ملی تو (اللہ کی طرف سے) تمہاری اعانت ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4715]
حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”اے عبدالرحمٰن! امارت کا سوال نہ کرنا، کیونکہ اگر وہ تمہیں طلب کرنے کی بنا پر دی گئی، تو تمہیں اس کے سپرد کر دیا جائے گا اور اگر وہ تمہیں بلا طلب ملی، تو اس میں تمہاری اعانت کی جائے گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4715]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1652
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1652 ترقیم شاملہ: -- 4716
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ . ح وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يُونُسَ ، وَمَنْصُورٍ ، وَحُمَيْدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ ، وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ كلهم، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ.
یونس بن عبید، منصور، حمید اور ہشام بن حسان سب نے حسن بصری سے، انہوں نے حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جریر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4716]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت اپنے مختلف اساتذہ کی اسانید سے، جریر کی حدیث کی طرح ہی بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4716]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1652
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة