صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب إباحة الضب:
باب: گوہ کا گوشت حلال ہے (یعنی سوسمار کا)۔
ترقیم عبدالباقی: 1944 ترقیم شاملہ: -- 5032
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ ، سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فِيهِمْ سَعْدٌ وَأُتُوا بِلَحْمِ ضَبٍّ، فَنَادَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُوا فَإِنَّهُ حَلَالٌ وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي ".
عبیداللہ کے والد معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے توبہ عنبری سے حدیث بیان کی، انہوں نے شعبی سے سنا، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔ ان میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ اتنے میں سانڈے کا گوشت لایا گیا: اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ نے یہ آواز دی کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ، بلاشبہ حلال ہے لیکن یہ میرے کھانے میں (شامل) نہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5032]
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کچھ ساتھی تھے، جن میں حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے، ان کے پاس ضب کا گوشت لایا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے، ایک بیوی نے آواز دی، یہ ضب کا گوشت ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کھاؤ کیونکہ یہ حلال ہے، لیکن یہ میرا کھانا نہیں ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5032]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1944
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1944 ترقیم شاملہ: -- 5033
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي الشَّعْبِيُّ : أَرَأَيْتَ حَدِيثَ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَاعَدْتُ ابْنَ عُمَر قَرِيبًا مِنْ سَنَتَيْنِ أَوْ سَنَةٍ وَنِصْفٍ، فَلَمْ أَسْمَعْهُ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا، قَالَ: كَانَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سَعْدٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے توبہ عنبری سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: شعبی نے مجھ سے کہا: تم حسن (بصری) کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کردہ (مرسل) حدیث دیکھی (سنی اور لکھی ہوئی دیکھی، اور اس کے مرسل ہونے پر غور کیا؟) میں تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ڈیڑھ یا دو سال تک (اٹھتا) بیٹھتا رہا لیکن میں نے انہیں اس حدیث کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اور حدیث روایت کرتے ہوئے نہیں سنا۔ انہوں نے (اس طرح) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے بہت سے لوگ (موجود تھے) ان میں سعد رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ معاذ کی حدیث کے مانند۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5033]
توبہ عنبری کہتے ہیں کہ مجھے شعبی نے کہا، کیا آپ حسن کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی روایات سے آگاہ ہیں، حالانکہ میں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے ساتھ دو سال یا ڈیڑھ سال بیٹھا ہوں، اتنے عرصہ میں، میں نے ان سے صرف یہ حدیث سنی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھی تھے، ان میں حضرت سعد بھی تھے، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيد والذبائح وما يؤكل من الحيوان/حدیث: 5033]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1944
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة