صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب وقتها:
باب: قربانی کا وقت کیا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1960 ترقیم شاملہ: -- 5064
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ . ح، وحَدَّثَنَاه يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، حَدَّثَنِي جُنْدَبُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: شَهِدْتُ الْأَضْحَى مَع رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَعْدُ أَنْ صَلَّى وَفَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يَرَى لَحْمَ أَضَاحِيَّ قَدْ ذُبِحَتْ قَبْلَ أَنْ يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ، فَقَالَ: " مَنْ كَانَ ذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ أَوْ نُصَلِّيَ، فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرَى، وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ ".
ابوخثیمہ زہیر (بن معاویہ) نے اسود بن قیس سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت جندب بن سفیان (بجلی) رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الاضحیٰ منائی، آپ نے نماز پڑھی اور آپ اس (نماز کے بعد خطبہ، دعا وغیرہ) سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ آپ نے قربانی کے جانوروں کا گوشت دیکھا جو نماز پڑھے جانے سے پہلے ذبح کر دیے گئے تھے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے نماز پڑھنے سے۔ یا (فرمایا:) ہمارے نماز پڑھنے سے۔ پہلے اپنا قربانی کا جانور ذبح کر لیا وہ اس کی جگہ دوسرا ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا، وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5064]
حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں عید الاضحیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوا، جوں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر، نمازِ عید سے فارغ ہوئے اور سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً قربانیوں کا گوشت دیکھا، جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی ذبح کیا جا چکا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنی قربانی نماز پڑھنے یا ہماری نماز پڑھنے سے پہلے ذبح کر ڈالی، وہ اس کی جگہ اور ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5064]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1960
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1960 ترقیم شاملہ: -- 5065
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ ، قَالَ: شَهِدْتُ الْأَضْحَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ بِالنَّاسِ نَظَرَ إِلَى غَنَمٍ قَدْ ذُبِحَتْ، فَقَالَ: " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ، فَلْيَذْبَحْ شَاةً مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ، فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ ".
ابواحوص سلام بن سلیم نے اسود بن قیس سے، انہوں نے حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الاضحی میں شریک ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی کچھ بھی نہ کیا تھا سوائے اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عید کی) نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہوئے، سلام پھیرا کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی بکری دیکھی کہ وہ نماز سے پہلے ذبح کی جا چکی ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے قربانی نماز عید سے پہلے کر لی تو اس قربانی کی جگہ دوسری قربانی کرے اور جس نے قربانی نہیں کی تو وہ اللہ کے نام کے ساتھ قربانی ذبح کر دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5065]
حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عید الاضحیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، جب آپ لوگوں کو نماز پڑھا کر فارغ ہوئے تو آپ نے ایک بکری دیکھی جو ذبح کی جا چکی تھی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز سے پہلے قربانی کر دی، وہ اس کی جگہ بکری ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کی وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5065]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1960
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1960 ترقیم شاملہ: -- 5066
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا عَلَى اسْمِ اللَّهِ كَحَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ.
ابوعوانہ اور ابن عینیہ نے اسود بن قیس سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور دونوں نے کہا: ”اللہ کے نام پر (ذبح کرے)“ جس طرح ابواحوص کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5066]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے دیگر اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، اس میں بھی «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ کی بجائے «عَلٰى اسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام پر“ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5066]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1960
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1960 ترقیم شاملہ: -- 5067
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، سَمِعَ جُنْدَبًا الْبَجَلِيَّ ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ أَضْحًى ثُمَّ خَطَبَ، فَقَالَ: " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ ".
عبیداللہ کے والد معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسود بن قیس سے حدیث بیان کی، انہوں نے جندب بجلی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عید الاضحیٰ کے دن دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا اور فرمایا: ”جس نے نماز پڑھنے سے پہلے (اپنی قربانی کا جانور) ذبح کر دیا تھا، وہ اس کی جگہ دوسرا ذبح کرے اور جس نے ذبح نہیں کیا وہ اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5067]
حضرت جندب بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الاضحیٰ کی نماز میں شریک ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”جس نے نماز پڑھنے سے پہلے قربانی کر دی ہے وہ اس کی جگہ اور قربانی کرے اور جس نے ذبح نہیں کی وہ «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ پڑھ کر ذبح کر لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5067]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1960
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1960 ترقیم شاملہ: -- 5068
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5068]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے دو اساتذہ سے شعبہ رحمہ اللہ ہی کی سند سے یہ روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأضاحي/حدیث: 5068]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1960
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة