🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب لبس النبي صلى الله عليه وسلم خاتما من ورق نقشه محمد رسول الله ولبس الخلفاء له من بعده:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چاندی کی انگوٹھی پہننے کا بیان جس میں محمد رسول اللہ نقش تھا۔ اور بعد میں خلفاء کے انگوٹھی پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2092 ترقیم شاملہ: -- 5478
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ كُلُّهُمْ، عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَقَالَ: " لِلنَّاسِ إِنِّي اتَّخَذْتُ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، وَنَقَشْتُ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَلَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِهِ ".
حماد نے ہمیں عبدالعزیز بن صہیب سے خبر دی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، اس میں محمد رسول اللہ نقش کرایا اور لوگوں سے فرمایا: میں نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنائی ہے اور اس میں محمد رسول اللہ نقش کرایا ہے، سو کوئی شخص اس نقش کے مطابق نقش کندہ نہ کرائے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5478]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس میں «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» محمد اللہ کے رسول ہیں کندہ کروایا اور لوگوں سے فرمایا: میں نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ہے اور میں نے اس میں «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» محمد اللہ کے رسول ہیں (کندہ کروایا ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5478]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2092
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2092 ترقیم شاملہ: -- 5479
وحدثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ.
اسماعیل (ابن علیہ) نے عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور اس میں محمد رسول اللہ (نقش کرانے) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5479]
امام صاحب یہی حدیث اپنے تین اساتذہ سے بیان کرتے ہیں اور حدیث میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5479]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2092
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2092 ترقیم شاملہ: -- 5480
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ، قَالَ: قَالُوا: إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا، قَالَ: فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ".
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے قتادہ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روم (کے بادشاہ) کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ نے عرض کی: وہ لوگ کوئی ایسا خط نہیں پڑھتے جس پر مہر نہ لگائی گئی ہو، کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، ایسا لگتا ہے کہ میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں اس کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں، اس پر محمد رسول اللہ نقش ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5480]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (شام) روم کی طرف خط لکھنا چاہا، صحابہ نے عرض کیا کہ وہ لوگ بلا مہر خط نہیں پڑھتے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک مہر بنوائی، گویا کہ میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس کی سفیدی دیکھ رہا ہوں، اس کا نقش «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ» محمد اللہ کے رسول تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5480]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2092
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2092 ترقیم شاملہ: -- 5481
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْعَجَمِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ الْعَجَمَ لَا يَقْبَلُونَ إِلَّا كِتَابًا عَلَيْهِ خَاتَمٌ، فَاصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ ".
معاذ بن ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عجم کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ سے عرض کی گئی کہ وہ لوگ صرف اس خط کو قبول کرتے ہیں جس پر مہر لگی ہو، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ کہا: مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں (اب بھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس (انگوٹھی) کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5481]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عجمیوں کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ عجمی وہی خط قبول کرتے ہیں جس پر مہر ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، گویا کہ میں اب بھی اس کی سفیدی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں دیکھ رہا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5481]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2092
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2092 ترقیم شاملہ: -- 5482
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَر وَالنَّجَاشِيِّ، فَقِيلَ: إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ، فَصَاغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا حَلْقَتُهُ فِضَّةً، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ".
خالد بن قیس نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ، قیصر اور نجاشی کی طرف خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کی گئی کہ وہ لوگ صرف اس خط کو قبول کرتے ہیں جس پر مہر لگی ہو، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر ڈھلوائی، وہ چاندی کی انگوٹھی تھی اور اس میں محمد رسول اللہ نقش کرایا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5482]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ، قیصر اور نجاشی کی طرف خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے) کہا گیا کہ وہ صرف مہر والا خط قبول کرتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک گول انگوٹھی بنوائی جس میں «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ» محمد اللہ کے رسول ہیں (نقش تھا)۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5482]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2092
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں