صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
33. باب تحريم فعل الواصلة والمستوصلة والواشمة والمستوشمة والنامصة والمتنمصة والمتفلجات والمغيرات خلق الله:
باب: بالوں میں جوڑا لگانا اور لگوانا، گودنا اور گدانا اور منہ کی روئیں نکالنا اور نکلوانا، دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنا حرام ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2122 ترقیم شاملہ: -- 5565
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قالت: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي ابْنَةً عُرَيِّسًا أَصَابَتْهَا حَصْبَةٌ فَتَمَرَّقَ شَعْرُهَا أَفَأَصِلُهُ؟، فَقَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ ".
ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے فاطمہ بنت منذر رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری بیٹی دلہن ہے۔ اسے خسرہ (بعض روایات میں چیچک) نکلا تھا تو اس کے بال جھڑ گئے ہیں کیا میں (اس کے بالوں کے ساتھ) دوسرے بال جوڑ دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی (دونوں) پر لعنت کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5565]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اال تعالی عنہ بیان کرتی ہیں، ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگی، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری ایک بچی دلہن ہے، اسے چیچک نکلی، جس سے اس کے بال جھڑ گئے تو کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ بال ملا سکتی ہوں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی پر لعنت کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5565]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2122
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2122 ترقیم شاملہ: -- 5566
حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَعَبْدَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ وَكِيعًا وَشُعْبَةَ فِي حَدِيثِهِمَا فَتَمَرَّطَ شَعْرُهَا.
عبداللہ بن نمیر، عبدہ، وکیع اور شعبہ سب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ ابومعاویہ کی حدیث کی طرح روایت بیان کی، مگر وکیع اور شعبہ نے اپنی روایت میں (اس کے بال چھدرے ہو گئے ہیں) کے الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5566]
امام صاحب کہتے ہیں، یہی روایت مجھے چار اور اساتذہ نے اپنی اپنی سند سے سنائی، مگر شعبہ اور وکیع کی حدیث میں تمرق [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5566]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2122
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2122 ترقیم شاملہ: -- 5567
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي فَتَمَرَّقَ شَعَرُ رَأْسِهَا وَزَوْجُهَا يَسْتَحْسِنُهَا أَفَأَصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَنَهَاهَا ".
منصور کی والدہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے، اس کے بال جھڑ گئے ہیں، اس کا شوہر اس کو خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے، اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ دوسرے بال جوڑ دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5567]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگی، میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے ہیں اور اس کا خاوند اسے خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے تو کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ بال جوڑ دوں؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو روک دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5567]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2122
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة