صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
34. باب الطيرة والفال وما يكون فيه الشؤم:
باب: بدفال اور نیک فال کا بیان اور کن چیزوں میں نحوست ہوتی ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2225 ترقیم شاملہ: -- 5804
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ابني عبد الله بن عمر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ ".
امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے دو بیٹوں حمزہ اور سالم سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”عدم موافقت (ناسازگاری) گھر، عورت اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے۔” [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5804]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نحوست گھر میں، عورت میں اور گھوڑے میں ہوتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5804]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2225
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2225 ترقیم شاملہ: -- 5805
وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حَمْزَةَ ، وَسَالِمٍ ابني عبد الله بن عمر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَإِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ ".
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے دو بیٹوں حمزہ اور سالم سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کسی سے خود بخود مرض کا لگ جانا اور بد شگونی کی کوئی حقیقت نہیں۔ ناموافقت تین چیزوں میں ہوتی ہے: عورت، گھوڑے اور گھر میں۔” [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5805]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں ہے اور نہ ہی برا شگون ہے، نحوست صرف تین چیزوں میں ہے: عورت، گھوڑا اور گھر۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5805]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2225
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2225 ترقیم شاملہ: -- 5806
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ وَحَمْزَةَ ابني عبد الله، عَنْ أَبِيهِمَا ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِى ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، وَحَمْزَةَ ابني عبد الله بن عمر، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ . وحَدَّثَنِي ح عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشُّؤْمِ بمثل حديث مَالِكٍ لَا يَذْكُرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ الْعَدْوَى وَالطِّيَرَةَ غَيْرُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ.
سفیان، صالح، عقیل، بن خالد، عبدالرحمن بن اسحاق اور شعیب، ان سب نے زہری سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) سے، انہوں نے ناموافقت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امام مالک کی حدیث کے مانند بیان کیا، یونس بن یزید کے علاوہ ان میں سے کسی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ”کسی بیماری کے خود بخود کسی دوسرے کو لگ جانے اور بد شگونی“ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5806]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2225
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2225 ترقیم شاملہ: -- 5807
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنْ يَكُنْ مِنَ الشُّؤْمِ شَيْءٌ حَقٌّ، فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عمر بن محمد بن یزید سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے سنا، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر کسی چیز میں کسی ناموافقت کا ہونا برحق ہو سکتا ہے تو وہ گھوڑے، عورت اور مکان میں ہے۔” [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5807]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر نحوست میں کچھ حقیقت ہوتی تو گھوڑے، عورت اور گھر میں ہوتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5807]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2225
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2225 ترقیم شاملہ: -- 5808
وحدثني هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَقُلْ حَقٌّ.
روح بن عبادہ نے کہا: شعبہ نے ہمیں اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنائی لیکن انہوں نے ”برحق“ نہیں کہا: (امکان یہی ہے کہ وہ حدیث روایت بالمعنی ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5808]
امام صاحب رحمہ اللہ کے اور اساتذہ یہی روایت سناتے ہیں، لیکن وہ حق کا لفظ بیان نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5808]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2225
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2225 ترقیم شاملہ: -- 5809
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنْ كَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْءٍ، فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَسْكَنِ وَالْمَرْأَةِ ".
حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اگر کسی چیز میں عدم موافقت ہو تو گھوڑے، مکان اور عورت میں ہوگی۔” [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5809]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر شوم (نحوست) کسی چیز میں ہوتی تو گھوڑے، گھر اور بیوی میں ہوتی۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5809]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2225
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة