صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب إثبات حوض نبينا صلى الله عليه وسلم وصفاته:
باب: حوض کوثر کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2295 ترقیم شاملہ: -- 5974
وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَسْمَعُ النَّاسَ يَذْكُرُونَ الْحَوْضَ، وَلَمْ أَسْمَعْ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمًا مِنْ ذَلِكَ وَالْجَارِيَةُ تَمْشُطُنِي، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَيُّهَا النَّاسُ، فَقُلْتُ لِلْجَارِيَةِ: اسْتَأْخِرِي عَنِّي، قَالَتْ: إِنَّمَا دَعَا الرِّجَالَ، وَلَمْ يَدْعُ النِّسَاءَ، فَقُلْتُ: إِنِّي مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ عَلَى الْحَوْضِ، فَإِيَّايَ لَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ فَيُذَبُّ عَنِّي كَمَا يُذَبُّ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، فَأَقُولُ: فِيمَ هَذَا؟، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا ".
بکیر نے قاسم بن عباس ہاشمی سے روایت کی، انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے مولیٰ عبیداللہ بن رافع سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں لوگوں سے سنتی تھی کہ وہ حوض (کوثر) کا ذکر کرتے تھے۔ میں نے یہ بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی تھی، پھر ان (میری باری کے) دنوں میں سے ایک دن ہوا۔ اور خادمہ میری کنگھی کر رہی تھی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا:”اے لوگو!“میں نے خادمہ سے کہا: مجھ سے پیچھے ہٹ جاؤ! وہ کہنے لگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو پکارا (مخاطب فرمایا) ہے عورتوں کو نہیں۔ میں نے کہا: میں بھی لوگوں میں سے ہوں (صرف مرد ہی لوگ نہیں ہوتے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا۔ میرے پاس تم میں سے کوئی اس طرح نہ آئے کہ اسے مجھ سے دور دھکیلا جا رہا ہو، جس طرح بھٹکے ہوئے اونٹ کو (ریوڑ سے) اور دور دھکیلا جاتا ہے۔ میں پوچھوں گا۔ یہ کس وجہ سے ہو رہا ہے؟ تو کہا جائے گا۔ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد (دین میں) کیا نئے کام نکالے تھے۔ تو میں کہوں گا دوری ہو!““ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5974]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں لوگوں سے حوض کا تذکرہ سنتی تھی اور اس کا ذکر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا تھا، ایک دن ایک لڑکی مجھے کنگھی کر رہی تھی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اے لوگو!“ میں نے لڑکی سے کہا: مجھ سے دور ہو جاؤ، اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو بلایا ہے، عورتوں کو نہیں بلایا، تو میں نے کہا: میں بھی لوگوں میں داخل ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا، تم ہوشیار ہو جاؤ، تم میں سے کوئی اس حال میں نہ آئے کہ اسے مجھ سے دور ہٹایا جائے، جس طرح بھٹکا ہوا اونٹ ہٹایا جاتا ہے، سو میں کہوں گا: یہ کس بنا پر ہوا؟ تو کہا جائے گا: تمہیں معلوم نہیں، انہوں نے تیرے بعد کیا کیا نئی باتیں نکالیں، تو میں کہوں گا: دوری ہو، اس کو دور لے جاؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5974]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2295
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2295 ترقیم شاملہ: -- 5975
وحَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ وَهُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهِيَ تَمْتَشِطُ: أَيُّهَا النَّاسُ، فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِهَا: كُفِّي رَأْسِي، بِنَحْوِ حَدِيثِ بُكَيْرٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ.
ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں عبداللہ بن رافع نے حدیث سنائی، کہا: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کیا کرتی تھیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا، اس وقت وہ کنگھی کرا رہی تھیں، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) ”اے لوگو!“انہوں نے اپنی کنگھی کرنے والی سے کہا: میرا سر چھوڑ دو! جس طرح بکیر نے قاسم بن عباس سے حدیث بیان کی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5975]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا، جبکہ وہ کنگھی کروا رہی تھیں: ”اے لوگو!“ تو انہوں نے کنگھی کرنے والی سے کہا: میرے سر کے بالوں کو جمع کر دو، مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفضائل/حدیث: 5975]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2295
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة