صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب في فضل سعد بن ابي وقاص رضي الله عنه:
باب: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
ترقیم عبدالباقی: 2413 ترقیم شاملہ: -- 6240
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، فِيَّ نَزَلَتْ: وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ سورة الأنعام آية 52، قَالَ: " نَزَلَتْ فِي سِتَّةٍ أَنَا، وَابْنُ مَسْعُودٍ مِنْهُمْ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ قَالُوا لَهُ تُدْنِي هَؤُلَاءِ ".
سفیان نے مقدام بن شریح سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے (آیت) «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ» ”اور ان (مسکین مومنوں) کو خود سے دور نہ کریں جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں“ کے بارے میں روایت کی، کہا: یہ چھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ میں اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ ان میں شامل تھے، مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا: ان لوگوں کو اپنے قریب نہ کریں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6240]
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،یہ آیت میرے بارے میں اتری،"جو لوگ اپنے رب کو صبح وشام پکارتے ہیں،ان کو دھتکارئیے نہیں۔(الانعام آیت نمبر۔52)حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں،یہ آیت چھ آدمیوں کے بارے میں اتری،میں اورابن مسعود بھی ان میں سے ہیں،مشرکوں نے آپ سے کہاتھا،آپ ان کو قریب کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6240]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2413
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2413 ترقیم شاملہ: -- 6241
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ نَفَرٍ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اطْرُدْ هَؤُلَاءِ لَا يَجْتَرِئُونَ عَلَيْنَا، قَالَ: وَكُنْتُ أَنَا، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ، وَبِلَالٌ، وَرَجُلَانِ لَسْتُ أُسَمِّيهِمَا، فَوَقَعَ فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقَعَ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ سورة الأنعام آية 52.
اسرائیل نے مقدام بن شریح سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم چھ شخص تھے تو مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”ان لوگوں کو بھگا دیجیے، یہ ہمارے سامنے آنے کی جرات نہ کریں۔“ (حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے) کہا: (یہ لوگ تھے) میں، ابن مسعود، ہذیل کا ایک شخص، بلال اور دو اور شخص جن کا نام میں نہیں لوں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو اللہ نے چاہا سو آیا، آپ نے اپنے دل میں کچھ کہا بھی، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی: «وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ» ”اور ان لوگوں کو دور نہ کیجیے جو صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں صرف اس کی رضا چاہتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6241]
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم چھ شخص تھے تو مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا:"ان لوگوں کو بھگا دیجیے، یہ ہمارے سامنے آنے کی جرات نہ کریں۔(حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) کہا: (یہ لوگ تھے) میں ابن مسعود ہذیل کا ایک شخص بلال اور دواور شخص جن کا نام میں نہیں لو ں گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو اللہ نے چاہا سوآیا،آپ نے اپنے دل میں کچھ کہا: بھی، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی:" اور ان لوگوں کو دورنہ کیجیے جو صبح،شام اپنے رب کو پکا رتے ہیں صرف اس کی رضا چاہتے ہیں۔(انعام آیت نمبر 52) [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6241]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2413
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة