🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب من فضائل انس بن مالك رضي الله عنه:
باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2481 ترقیم شاملہ: -- 6375
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا، وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا، وَأُمِّي، وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي، فَقَالَتْ أُمِّي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خُوَيْدِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ: فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ، وَكَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا لِي بِهِ، أَنْ قَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، اس وقت گھر میں صرف میں، میری والدہ اور میری خالہ ام حرام رضی اللہ عنہا تھیں، میری والدہ نے کہا: یا رسول اللہ! انس آپ کا چھوٹا سا خادم ہے آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کیجیے۔ آپ نے میرے لیے ہر بھلائی کی دعا کی، آپ نے میرے لیے جو دعا کی اس کے آخر میں آپ نے فرمایا: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اس کو برکت عطا فرما! [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6375]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، اس وقت گھر میں صرف میں، میری والدہ اور میری خالہ ام حرام رضی اللہ عنہا تھیں، میری والدہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! انس آپ کا چھوٹا سا خادم ہے، آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کیجیے۔ آپ نے میرے لیے ہر بھلائی کی دعا کی، آپ نے میرے لیے جو دعا کی اس کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ» اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اس کو برکت عطا فرما! [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6375]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2481
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2481 ترقیم شاملہ: -- 6376
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ: " جَاءَتْ بِي أُمِّي أُمُّ أَنَسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَزَّرَتْنِي بِنِصْفِ خِمَارِهَا، وَرَدَّتْنِي بِنِصْفِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أُنَيْسٌ ابْنِي، أَتَيْتُكَ بِهِ يَخْدُمُكَ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَوَاللَّهِ إِنَّ مَالِي لَكَثِيرٌ، وَإِنَّ وَلَدِي وَوَلَدَ وَلَدِي لَيَتَعَادُّونَ عَلَى نَحْوِ الْمِائَةِ الْيَوْمَ ".
اسحاق نے کہا: مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: میری والدہ ام انس رضی اللہ عنہا مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، انہوں نے اپنی آدھی اوڑھنی سے میری کمر پر چادر باندھ دی تھی اور اوڑھنی میرے شانوں پر ڈال دی تھی۔ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! یہ انیس (انس کی تصغیر) ہے، میرا بیٹا ہے، میں اسے آپ کے پاس لائی ہوں تاکہ یہ آپ کی خدمت کرے، آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کریں تو آپ نے فرمایا: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرا مال بہت زیادہ ہے اور آج میری اولاد اور اولاد کی اولاد کی گنتی سو کے لگ بھگ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6376]
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میری والدہ ام انس رضی اللہ عنہا مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، انہوں نے اپنی آدھی اوڑھنی سے میری کمر پر چادر باندھ دی تھی اور اوڑھنی میرے شانوں پر ڈال دی تھی۔ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ پیار انس میرا بیٹا ہے، میں اسے آپ کے پاس لائی ہوں تاکہ یہ آپ کی خدمت کرے، آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرا مال بہت زیادہ ہے اور آج میری اولاد اور اولاد کی اولاد کی گنتی سو کے لگ بھگ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6376]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2481
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2481 ترقیم شاملہ: -- 6377
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: " مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ صَوْتَهُ، فَقَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنَيْسٌ، فَدَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ دَعَوَاتٍ، قَدْ رَأَيْتُ مِنْهَا اثْنَتَيْنِ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَرْجُو الثَّالِثَةَ فِي الْآخِرَةِ ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ہمارے گھر کے قریب سے) گزرے، میری والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کی آواز سنی، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ انیس ہے، اس کے لیے دعا فرمائیے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے تین دعائیں کیں۔ جن میں سے دو دعاؤں (کی قبولیت) کو میں نے دیکھ لیا اور تیسری (کی قبولیت) کے متعلق آخرت میں امید رکھتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6377]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو میری ماں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کی آواز سن لی، چنانچہ عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ قربان، پیارا انس۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں تین دعائیں کیں، ان میں سے دو میں دنیا میں دیکھ چکا ہوں اور میں تیسری کا آخرت میں اُمیدوار ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 6377]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2481
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں