🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. باب مِنْ فَضَائِلِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2480 ترقیم شاملہ: -- 6372
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَادِمُكَ أَنَسٌ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيمَا، أَعْطَيْتَهُ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! انس آپ کا خادم ہے آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کیجیے تو آپ نے فرمایا: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اس کو جو کچھ تو نے عطا کیا ہے، اس میں برکت عطا فرما! [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6372]
حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اس نے عرض کیا،اے اللہ کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم )!آپ کا خادم انس،اس کے لیے دعا فرمائیں تو آپ نے دعا فرمائی،"اے اللہ!اس کے مال اور اولاد کو بڑھا دے اور اسے جو کچھ عنایت فرمایا ہے،اس میں برکت ڈال دے۔" [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6372]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2480
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2480 ترقیم شاملہ: -- 6373
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ: قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَادِمُكَ أَنَسٌ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ابوداود نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! انس آپ کا خادم ہے، پھر اسی طرح بیان کیا (جس طرح پچھلی حدیث میں ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6373]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالاروایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6373]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2480
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2480 ترقیم شاملہ: -- 6374
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ، مِثْلَ ذَلِكَ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو اسی طرح کہتے ہوئے سنا (جس طرح پچھلی حدیث میں ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6374]
امام صاحب ایک اور استاد سے،حضرت انس سے مذکورہ بالاروایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6374]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2480
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2481 ترقیم شاملہ: -- 6375
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا، وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا، وَأُمِّي، وَأُمُّ حَرَامٍ خَالَتِي، فَقَالَتْ أُمِّي: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خُوَيْدِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ، قَالَ: فَدَعَا لِي بِكُلِّ خَيْرٍ، وَكَانَ فِي آخِرِ مَا دَعَا لِي بِهِ، أَنْ قَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، اس وقت گھر میں صرف میں، میری والدہ اور میری خالہ ام حرام رضی اللہ عنہا تھیں، میری والدہ نے کہا: یا رسول اللہ! انس آپ کا چھوٹا سا خادم ہے آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کیجیے۔ آپ نے میرے لیے ہر بھلائی کی دعا کی، آپ نے میرے لیے جو دعا کی اس کے آخر میں آپ نے فرمایا: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اس کو برکت عطا فرما! [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6375]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لا ئے،اس وقت گھر میں صرف میں میری والدہ اور میری خالہ ام حرا م رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں،میری والدہ نے کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! انس آپ کا چھوٹاسا خادم ہے آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کیجئے۔آپ نے میرے لیے ہر بھلا ئی کی دعا کی، آپ نے میرے لیے جو دعاکی اس کے آخر میں آپ نے فر یا:" اے اللہ!اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اس کو برکت عطافر!" [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6375]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2481
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2481 ترقیم شاملہ: -- 6376
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ، قَالَ: " جَاءَتْ بِي أُمِّي أُمُّ أَنَسٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَزَّرَتْنِي بِنِصْفِ خِمَارِهَا، وَرَدَّتْنِي بِنِصْفِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أُنَيْسٌ ابْنِي، أَتَيْتُكَ بِهِ يَخْدُمُكَ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَوَاللَّهِ إِنَّ مَالِي لَكَثِيرٌ، وَإِنَّ وَلَدِي وَوَلَدَ وَلَدِي لَيَتَعَادُّونَ عَلَى نَحْوِ الْمِائَةِ الْيَوْمَ ".
اسحاق نے کہا: مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: میری والدہ ام انس رضی اللہ عنہا مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، انہوں نے اپنی آدھی اوڑھنی سے میری کمر پر چادر باندھ دی تھی اور اوڑھنی میرے شانوں پر ڈال دی تھی۔ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! یہ انیس (انس کی تصغیر) ہے، میرا بیٹا ہے، میں اسے آپ کے پاس لائی ہوں تاکہ یہ آپ کی خدمت کرے، آپ اس کے لیے اللہ سے دعا کریں تو آپ نے فرمایا: اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میرا مال بہت زیادہ ہے اور آج میری اولاد اور اولاد کی اولاد کی گنتی سو کے لگ بھگ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6376]
انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، میری والدہ ام انس رضی اللہ تعالیٰ عنہا مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں،انھوں نے اپنی آدھی اوڑھنی سے میری کمر پر چادر باندھ دی تھی اور اوڑھنی میرے شانوں پر ڈال دی تھی۔انھوں نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ پیار انس میرا بیٹا ہے، میں اسے آپ کے پاس لا ئی ہوں تا کہ یہ آپ کی خدمت کرے، آپ اس کے لیےاللہ سے دعاکریں تو آپ نے فر یا:" اے اللہ!اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم!میرا مال بہت زیادہ ہے اور آج میری اولاداور اولاد کی اولاد کی گنتی سو کے لگ بھگ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6376]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2481
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2481 ترقیم شاملہ: -- 6377
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: " مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ صَوْتَهُ، فَقَالَتْ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ أُنَيْسٌ، فَدَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ دَعَوَاتٍ، قَدْ رَأَيْتُ مِنْهَا اثْنَتَيْنِ فِي الدُّنْيَا، وَأَنَا أَرْجُو الثَّالِثَةَ فِي الْآخِرَةِ ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ہمارے گھر کے قریب سے) گزرے، میری والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے آپ کی آواز سنی، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ انیس ہے، اس کے لیے دعا فرمائیے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے تین دعائیں کیں۔ جن میں سے دو دعاؤں (کی قبولیت) کو میں نے دیکھ لیا اور تیسری (کی قبولیت) کے متعلق آخرت میں امید رکھتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6377]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو میری ماں،ام سلیم نےآپ کی آواز سن لی،چنانچہ عرض کی،اے اللہ کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم )!میرے ماں،باپ قربان،پیارا انس تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے حق میں تین دعائیں کیں،ان میں سے دو میں دنیا میں دیکھ چکاہوں اور میں تیسری کا آخرت میں اُمیدوار ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6377]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2481
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2482 ترقیم شاملہ: -- 6378
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، قَالَ: فَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ، فَأَبْطَأْتُ عَلَى أُمِّي، فَلَمَّا جِئْتُ، قَالَتْ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ، قَالَتْ: مَا حَاجَتُهُ؟ قُلْتُ: إِنَّهَا سِرٌّ، قَالَتْ: لَا تُحَدِّثَنَّ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا، قَالَ أَنَسٌ: وَاللَّهِ لَوْ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ يَا ثَابِتُ ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، کہا: آپ نے ہم سب کو سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا تو میں اپنی والدہ کے پاس تاخیر سے پہنچا، جب میں آیا تو والدہ نے پوچھا: تمہیں دیر کیوں ہوئی؟ میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام سے بھیجا تھا۔ انہوں نے پوچھا: آپ کا وہ کام کیا تھا؟ میں نے کہا: وہ ایک راز ہے۔ میری والدہ نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز کسی پر افشا نہ کرنا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ثابت! اگر میں وہ راز کسی کو بتاتا تو تمہیں (جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے طلبگار ہو) ضرور بتاتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6378]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لا ئے اس وقت میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہا: آپ نے ہم سب کو سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا تو میں اپنی والد ہ کے پاس تا خیر سے پہنچا،جب میں آیا تو والدہ نے پو چھا: تمھیں دیر کیوں ہوئی۔؟میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کا م سے بھیجا تھا۔ انھوں نے پو چھا: آپ کا وہ کام کیا تھا؟ میں نے کہا: وہ ایک راز ہے۔ میری والدہ نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز کسی پر افشانہ کرنا۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں نے وہ کسی کو بتانا ہوتاتو اے ثابت!تمہیں بتادیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6378]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2482
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2482 ترقیم شاملہ: -- 6379
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " أَسَرَّ إِلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرًّا، فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ أَحَدًا بَعْدُ، وَلَقَدْ سَأَلَتْنِي عَنْهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَا أَخْبَرْتُهَا بِهِ ".
معتمر بن سلیمان نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ (کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک راز میں مجھے شریک کیا۔ میں نے اب تک وہ راز کسی کو نہیں بتایا، میری والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس کے متعلق پوچھا، میں نے وہ راز ان کو بھی نہیں بتایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6379]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک راز کی بات فرمائی تو میں نے آپ کے بعد کسی کو وہ نہیں بتائی،مجھ سے میری ماں ام سلیم نے اس کے بارے میں پوچھا تو میں نے وہ راز ان کو بھی نہیں بتایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6379]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2482
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں