صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب في الآدعية
باب: دعاؤں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2723 ترقیم شاملہ: -- 6907
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ النَّخَعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى، قَالَ: " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ". قَالَ الْحَسَنُ: فَحَدَّثَنِي الزُّبَيْدُ أَنَّهُ حَفِظَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي هَذَا: لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ ".
عبدالواحد بن زیاد نے حسن بن عبیداللہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نخعی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرحمان بن یزید نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب شام ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: «امسینا وامسی الملک للہ والحمد للہ لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ» ”ہم نے شام کی اور سارا ملک (شام کے وقت بھی) اللہ کا ہوا، سب شکر اور تعریف اللہ کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا (مالک، معبود) ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔“ حسن (بن عبیداللہ) نے کہا: مجھے زید نے حدیث بیان کی، انہوں نے اس (دعا) میں (یہ حصہ) ابراہیم (نخعی) سے (سن کر) حفظ کہا: «لہ الملک ولہ الحمد وہو علیٰ کل شیء قدیر، اللہم انی اسألک خیر ہٰذہ اللیلة، واعوذ بک من شر ہٰذہ اللیلة وشر ما بعدہا، اللہم انی اعوذ بک من الکسل وسوء الکبر، اللہم انی اعوذ بک من عذاب فی النار وعذاب فی القبر» ”اسی کی بادشاہی اور اسی کے لیے ہر طرح کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس رات کی بھلائی مانگتا ہوں اور تجھ سے اس رات کی اور اس کے بعد (کے ہر لمحے) کی برائی سے پناہ طلب کرتا ہوں، اے اللہ! میں کسل مندی اور بڑھاپے کی خرابی سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم میں کسی بھی قسم کے عذاب سے اور قبر میں کسی بھی قسم کے عذاب سے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6907]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب شام ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے "شام اس حال میں ہو رہی ہے کہ ہم اور ساری کائنات اللہ ہی کے ہیں اور ساری حمدوستائش اللہ کے لیے ہے، اس کے سوا کوئی لائق بندگی نہیں، اس کا کوئی شریک ساجھی نہیں ہے۔"حسن کہتے ہیں،مجھے زبید رحمۃ اللہ علیہ نے بتایا میں نے ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ سے اس دعا میں یہ الفاظ بھی یاد کیے ہیں۔"اقتدار کا وہی مالک ہے، وہی حمدو ستائش کا حقدار ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے میرےاللہ! میں اس آنے والی رات کی خیر کا تجھ سے سوال کرتا ہوں اور میں اس آنے والی رات کے شر اور اس کے بعد کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں،اے اللہ!میں تیری پناہ میں آتا ہوں،سستی اور کاہلی سے اور بڑھاپے کے برے اثرات سے اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں، آگ کے عذاب ہےاور قبر کے عذاب سے۔" [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6907]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2723
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2723 ترقیم شاملہ: -- 6908
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى، قَالَ: " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ "، قَالَ: أُرَاهُ قَالَ: " فِيهِنَّ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهَا، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ، وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ "، وَإِذَا أَصْبَحَ، قَالَ: ذَلِكَ أَيْضًا أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ ".
جریر نے حسن بن عبیداللہ سے، انہوں نے ابراہیم بن سوید سے، انہوں نے عبدالرحمان بن یزید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب شام کرتے تو (دعا کرتے ہوئے) فرماتے: «امسینا وامسی الملک للہ والحمد للہ لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ» ”ہم اور سارا ملک شام کے وقت بھی اللہ کا ہوا، سب حمد اللہ کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔“ (حسن بن عبیداللہ نے) کہا: میں دیکھتا ہوں کہ انہوں (ابراہیم نخعی) نے ان کلمات میں یہ بھی کہا: «لہ الملک ولہ الحمد وہو علیٰ کل شیء قدیر، رب انی اسألک خیر ما فی ہٰذہ اللیلة وخیر ما بعدہا، واعوذ بک من شر ما فی ہٰذہ اللیلة وشر ما بعدہا، رب اعوذ بک من الکسل وسوء الکبر، رب اعوذ بک من عذاب فی النار وعذاب فی القبر» ”ساری بادشاہت اسی کی ہے، (ہر نعمت پر) ساری تعریف بھی اسی کو سزاوار ہے، وہی ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اے میرے پروردگار! جو کچھ اس رات میں ہے اور جو اس کے بعد ہے، میں تجھ سے اس کی بھلائی کا طلبگار ہوں اور جو کچھ اس رات میں ہے اور جو اس کے بعد ہے اس کی برائی سے میں تیری پناہ میں آتا ہوں۔ اے میرے پروردگار! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کسل مندی سے اور بڑھاپے کی خرابی سے۔ اے میرے پروردگار! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں جہنم میں کسی بھی قسم کے عذاب سے اور قبر میں کسی بھی قسم کے عذاب سے۔“ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کرتے تو (بالکل اسی طرح) فرماتے: «اصبحنا واصبح الملک للہ» ”ہم اور ساری بادشاہت اور اختیار صبح کو (بھی) اللہ کے ہوئے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6908]
حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں۔کہ جب شام ہو جاتی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے،"شام اس حال میں ہو رہی ہے کہ ہم اور اور ساری کائنات ہی اللہ کی ہے اور ساری حمدو ستائش اللہ ہی کے لیے ہے۔ اس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔"راوی کہتے ہیں۔ میرے خیال میں ان میں یہ کلمات بھی ہیں۔"راج اور ملک اس کا ہے وہ لائق حمدو ثنا ہے اور وہ ہر چیز قادر ہے اے میرے رب! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اس رات میں جو کچھ ہے، اس کی خیروبھلائی کا اور اس رات کے بعد کے حالات کی خیر کا اور میں تیری پناہ میں آتا ہوں، اس رات میں جو کچھ ہونے والا ہے۔اس کے شر سے اور اس کے بعد کے حالات کے شر سے، اے میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، سستی اور کاہلی سے اور کبرسنی کے برے اثرات سے، اے میرے رب! میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔ آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے۔"اور جب صبح ہو جاتی تو آپ ایک لفظ کی تبدیلی سے یوں دعا کرتے۔"ہماری صبح اس حال میں ہو رہی ہے کہ ہم اور ساری کائنات اللہ ہی کے ہیں۔" [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6908]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2723
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2723 ترقیم شاملہ: -- 6909
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمْسَى قَالَ: " أَمْسَيْنَا وَأَمْسَى الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذِهِ اللَّيْلَةِ وَخَيْرِ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَسُوءِ الْكِبَرِ وَفِتْنَةِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ "، قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ : وَزَادَنِي فِيهِ زُبَيْدٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَفَعَهُ، أَنَّهُ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ".
زائدہ نے حسن بن عبیداللہ سے، انہوں نے ابراہیم بن سوید سے، انہوں نے عبدالرحمان بن یزید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شام کے وقت (دعا کرتے ہوئے یہ) فرمایا کرتے تھے: «امسینا وامسی الملک للہ والحمد للہ لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ» ”ہم نے اور سارے ملک نے اللہ کے (حکم و فرمان کی پابندی کے) لیے شام کی۔ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔“ حسن بن عبیداللہ نے کہا: زبید نے مجھے ابراہیم بن سوید (نخعی) سے، انہوں نے عبدالرحمان بن یزید سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہوئے مزید یہ بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (جب شام کرتے تو) یہ فرماتے: «لا الٰہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وہو علیٰ کل شیء قدیر» ”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، ساری بادشاہت اسی کی ہے، سب تعریف اسی کو سزاوار ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے۔“ «اللہم انی اسألک خیر ہٰذہ اللیلة وخیر ما فیہا، واعوذ بک من شر ہٰذہ اللیلة وشر ما فیہا، اللہم انی اعوذ بک من الکسل ومن سوء العمر والہرم وفتنة الدنیا وعذاب القبر» ”اے اللہ! میں تجھ سے اس رات کی اور اس میں موجود ہر بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے اس رات کے اور اس میں موجود ہر شر سے پناہ کا طلبگار ہوں۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، سستی طاری ہو جانے سے اور عمر (کے حد سے) بڑھ جانے سے اور بڑھاپے کی خرابی سے اور دنیا کے ہر فتنے اور قبر کے عذاب سے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6909]
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب شام ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے حضور میں عرض کرتے۔" یہ شام اس حال میں ہو رہی ہے کہ ہم اور ساری کائنات اللہ ہی کے ہیں اور حمدو شکر اللہ ہی کے لیے ہے۔ اس ایک کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کا کوئی شریک ساجھی نہیں ہے۔ اے اللہ!میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس رات میں جو کچھ ہونے والا اس کی خیر کا اور اس رات کی خیر کا اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں، اس رات میں جو کچھ ہونے والا ہے۔ اس کے شر سے، اے اللہ!میں تیری پناہ میں آتا ہوں،کاہلی سے انتہائی بڑھاپے سے اور بڑی عمر کے برے اثرات سے اور دنیا کے ہر فتنہ سے اور قبر کے عذاب سے۔" حسن بن عبید اللہ بیان کرتے ہیں۔زبید نے ابراہیم سے اس روایت میں یہ اضافہ مجھے سنایا کہ آپ نے فرمایا: "اللہ کے سوا جو یکتا ہے، کوئی بندگی کے لائق نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی اقتدارو بادشاہی کا مالک ہے، وہ حمدو ستائش کے سزا وار ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار/حدیث: 6909]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2723
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة