صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب تحريش الشيطان وبعثه سراياه لفتنة الناس وان مع كل إنسان قرينا:
باب: شیطان کا فساد مسلمانوں میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2813 ترقیم شاملہ: -- 7105
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ، فَيَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً ".
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ابلیس کا تخت سمندر پر ہے۔ وہ اپنے لشکر روانہ کرتا رہتا ہے تاکہ وہ فتنے برپا کریں۔ اس کے نزدیک (شیطنت کے) درجے میں سب سے بڑا وہ ہے جو زیادہ بڑا فتنہ برپا کرے“۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7105]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ابلیس کا تخت سمندر پر ہے، چنانچہ وہ اپنے دستے بھیجتا ہے جو لوگوں کے درمیان فتنہ و فساد پیدا کرتے ہیں، اس کے نزدیک سب سے بڑے مرتبہ والا وہ ہے جو سب سے بڑا فتنہ برپا کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7105]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2813
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2813 ترقیم شاملہ: -- 7106
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً، يَجِيءُ أَحَدُهُمْ، فَيَقُولُ: فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ: مَا صَنَعْتَ شَيْئًا، قَالَ: ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ، فَيَقُولُ: مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، قَالَ: فَيُدْنِيهِ مِنْهُ، وَيَقُولُ: نِعْمَ أَنْتَ "، قَالَ الْأَعْمَشُ: أُرَاهُ قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ.
ابومعاویہ نے کہا: ہمیں اعمش نے ابوسفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے پھر وہ اپنے لشکر روانہ کرتا ہے۔ اس کے سب سے زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ڈالتا ہے۔ ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے: میں نے فلاں فلاں کام کیا ہے، وہ کہتا ہے: تم نے کچھ نہیں کیا۔ پھر ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے: میں نے اس شخص کو (جس کے ساتھ میں تھا) اس وقت تک نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کرا دی۔ وہ کہتا ہے: تو وہ اسے اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے: تم سب سے بہتر ہو“۔ اعمش نے کہا: میرا خیال ہے اس (ابوسفیان طلحہ بن نافع) نے کہا: ”پھر وہ اسے اپنے ساتھ لگا لیتا ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7106]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابلیس اپنا عرش (تخت) پانی پر رکھتا ہے، پھر وہ اپنے دستے روانہ کرتا ہے اور اس کا سب سے زیادہ قریبی وہ ہے جو سب سے بڑا فتنہ گر ہو، ان میں سے کوئی آکر کہتا ہے: میں نے یہ کام کیا، یہ کام کیا، تو وہ کہتا ہے: تو نے کچھ نہیں کیا، پھر ان میں سے کوئی آکر کہتا ہے: میں نے پیچھا نہیں چھوڑا، حتیٰ کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر دی، تو وہ اسے اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے: واقعی تم نے کام کیا ہے۔“ اعمش کہتے ہیں، میرا خیال ہے، آپ نے فرمایا: ”چنانچہ وہ اسے اپنے ساتھ چمٹا لیتا ہے، گلے لگا لیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7106]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2813
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2813 ترقیم شاملہ: -- 7107
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " يَبْعَثُ الشَّيْطَانُ سَرَايَاهُ، فَيَفْتِنُونَ النَّاسَ فَأَعْظَمُهُمْ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”شیطان اپنے لشکروں کو بھیجتا ہے اور وہ لوگوں کو فتنوں میں ڈالتے ہیں۔ اس کے نزدیک ان میں سے بڑے مرتبے والا وہ ہوتا ہے جو زیادہ بڑا فتنہ ڈالتا ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7107]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”شیطان اپنے دستے روانہ کرتا ہے، چنانچہ وہ لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہیں، اس کے نزدیک اس کا درجہ سب سے بلند ہوتا ہے جو سب سے بڑھ کر فتنہ پیدا کرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7107]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2813
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة