🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1ق. باب ما جاء ان الدنيا سجن المؤمن وجنة الكافر 
باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2979 ترقیم شاملہ: -- 7462
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ " أَلَسْنَا مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ؟، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: " أَلَكَ امْرَأَةٌ تَأْوِي إِلَيْهَا؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَلَكَ مَسْكَنٌ تَسْكُنُهُ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ، قَالَ: فَإِنَّ لِي خَادِمًا، قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الْمُلُوكِ ".
ابوہانی نے ابوعبدالرحمٰن کو کہتے ہوئے سنا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے کسی آدمی نے پوچھا تھا: کیا ہم فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہیں؟ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تمھاری بیوی ہے جس کے پاس تم آرام کرنے کے لیے جاتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ پوچھا: کیا تمھارے پاس رہائش گاہ ہے جہاں تم رہتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ کہا: پھر تو تم بادشاہوں میں سے ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7462]
ابوعبدالرحمن حبلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے کسی آدمی نے پوچھا تھا: کیا ہم فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہیں؟ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: کیا تمہاری بیوی ہے جس کے پاس تم آرام کرنے کے لیے جاتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں، انہوں نے پوچھا: کیا تمہارے پاس رہائش گاہ ہے جہاں تم رہتے ہو؟ اس نے کہا: میرے پاس تو خادم (بھی) ہے، انہوں نے کہا: پھر تو تم بادشاہوں میں سے ہو (جن کو یہ سہولت میسر ہوتی ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7462]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2979
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2979 ترقیم شاملہ: -- 7463
(حديث موقوف) قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : وَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالُوا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ: إِنَّا وَاللَّهِ مَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ، لَا نَفَقَةٍ، وَلَا دَابَّةٍ، وَلَا مَتَاعٍ، فَقَالَ لَهُمْ: مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْنَا، فَأَعْطَيْنَاكُمْ مَا يَسَّرَ اللَّهُ لَكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ، وَإِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا "، قَالُوا: فَإِنَّا نَصْبِرُ لَا نَسْأَلُ شَيْئًا.
ابوعبدالرحمٰن نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس تین شخص آئے جبکہ میں ان کے ہاں تھا، وہ کہنے لگے: ابومحمد! اللہ کی قسم! ہمیں کوئی چیز میسر نہیں ہے، نہ خرچ، نہ سواری اور نہ سامان (وہ لوگ واقعتاً فقیر تھے)۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم پسند کرو تو دوبارہ ہمارے پاس آؤ، اللہ تعالیٰ جو تمھارے لیے مہیا کرے گا ہم تمھیں دے دیں گے۔ اگر چاہو تو ہم تمھارا ذکر بااختیار حاکم کے پاس کر دیں گے (وہ تمھاری ضرورتوں کا خیال رکھے گا)۔ اور اگر تم چاہو تو صبر کرو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک ہجرت کر کے آنے والے فقیر قیامت کے روز اغنیاء کی نسبت چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ ان (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: ہم صبر کریں گے، کوئی چیز نہیں مانگیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7463]
ابو عبدالرحمان بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس تین شخص آئے جبکہ میں ان کے ہاں تھا، وہ کہنے لگے: ابو محمد! اللہ کی قسم! ہمیں کوئی چیز میسر نہیں ہے، نہ خرچ، نہ سواری اور نہ سامان۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم پسند کرو تو دوبارہ ہمارے پاس آؤ، اللہ تعالیٰ جو تمہارے لیے مہیا کرے گا ہم تمہیں دے دیں گے۔ اگر چاہو تو ہم تمہارا ذکر بااختیار حاکم کے پاس کر دیں گے (وہ تمہاری ضرورتوں کا خیال رکھے گا) اور اگر تم چاہو تو صبر کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بے شک ہجرت کر کے آنے والے فقیر قیامت کے روز اغنیاء کی نسبت چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ ان (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے کہا: ہم صبر کریں گے اور کوئی چیز نہیں مانگیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزهد والرقائق/حدیث: 7463]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2979
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں