صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب في قوله تعالى: {ولا تكرهوا فتياتكم على البغاء}:
باب: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: «وَلاَ تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ» ”اور نہ زبردستی کرو اپنی باندیوں پر بدکاری کے واسطے“۔
ترقیم عبدالباقی: 3029 ترقیم شاملہ: -- 7552
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ، يَقُولُ لِجَارِيَةٍ لَهُ " اذْهَبِي فَابْغِينَا شَيْئًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَنْ يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ سورة النور آية 33 لَهُنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 33 ".
ابومعاویہ نے کہا: ہمیں اعمش نے ابوسفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: عبداللہ بن ابی سلول اپنی ایک باندی سے کہتا تھا: جا اور (بذریعہ بدکاری) ہمارے لیے کچھ کما کر لا، تو اللہ عزوجل نے (یہ آیت) نازل فرمائی: "اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ (خصوصاً) اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں تاکہ تم دنیا کی زندگی کا ساز و سامان حاصل کرو اور جو کوئی انھیں مجبور کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کے بعد ان کے لیے بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔" [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7552]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:عبداللہ بن ابی سلول اپنی ایک باندی سے کہتا تھا:جا اور(بذریعہ بدکاری) ہمارے لیے کچھ ک کرلا،تو اللہ عزوجل نے (یہ آیت) نازل فرمائی؛" اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ(خصوصاً) اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں تاکہ تم دنیا کی زندگی کا سازوسامان حاصل کرو اور جو کوئی انھیں مجبور کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کا بعد"ان کے لیے" بڑا بخشنے والا،بڑا رحم کرنے والا ہے۔"(نور:آیت نمبر33) [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7552]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3029
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 3029 ترقیم شاملہ: -- 7553
وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنَّ جَارِيَةً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ يُقَالُ لَهَا مُسَيْكَةُ، وَأُخْرَى يُقَالُ لَهَا أُمَيْمَةُ، فَكَانَ يُكْرِهُهُمَا عَلَى الزِّنَا، فَشَكَتَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 33 ".
ابوعوانہ نے اعمش سے، انہوں نے ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عبداللہ بن ابی ابن سلول کی ایک باندی تھی، اس کا نام مسیکہ تھا، اور دوسری (باندی) کو امیمہ کہا جاتا تھا۔ وہ ان دونوں سے (زبردستی) زنا کرانا چاہتا تھا۔ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس بات کی شکایت کی تو اللہ عزوجل نے آیت: "اور اپنی نوجوان لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں۔" اس (اللہ) کے فرمان: "بڑا بخشنے والا، ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔" تک نازل فرمائی۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7553]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ عبداللہ بن ابی ابن سلول کی ایک باندی تھی،اس کا نام مسیکہ تھا،اوردوسری(باندی) کو امیمہ کہا جاتا تھا۔وہ ان دونوں سے (زبردستی) زنا کرانا چاہتا تھا۔ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس بات کی شکایت کی تو اللہ عزوجل نے آیت:"اور اپنی نوجوان لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں۔"اس(اللہ) کے فرمان:"غَفُورٌ رَّحِيمٌ "تک نازل فرمائی۔ [صحيح مسلم/كتاب التفسير/حدیث: 7553]
ترقیم فوادعبدالباقی: 3029
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة