صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب تستر المغتسل بثوب ونحوه:
باب: غسل کرنے والا کپڑے وغیرہ کے ساتھ پردہ کرے۔
ترقیم عبدالباقی: 336 ترقیم شاملہ: -- 764
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ ، تَقُولُ: " ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ ".
ابونضر سے روایت ہے کہ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابومرہ نے خبر دی کہ انہوں نے ام ہانی رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ کہتی تھیں کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی، میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا، آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایک کپڑے کے ذریعے سے آپ (کے آگے) پردہ بنایا ہوا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 764]
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل کرتے ہوئے پایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے سے پردہ کیے ہوئے تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 764]
ترقیم فوادعبدالباقی: 336
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 336 ترقیم شاملہ: -- 765
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَتْهُ، " أَنَّهُ لَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِأَعْلَى مَكَّةَ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى غُسْلِهِ، فَسَتَرَتْ عَلَيْهِ فَاطِمَةُ، ثُمَّ أَخَذَ ثَوْبَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ، ثُمَّ صَلَّى ثَمَانَ رَكَعَاتٍ سُبْحَةَ الضُّحَى ".
یزید بن ابی حبیب نے سعید بن ابی ہند سے روایت کی کہ عقیل بن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ابومرہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ جس سال مکہ فتح ہوا وہ آپ کے پاس حاضر ہوئیں، آپ مکہ کے بالائی حصے میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہانے کے لیے اٹھے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کے آگے پردہ تان دیا، پھر (غسل کے بعد) آپ نے اپنا کپڑا لے کر اپنے گرد لپیٹا، پھر آٹھ رکعتیں چاشت کی نفل پڑھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 765]
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ فتح مکہ والے سال، مکہ کے بلند حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہانے کے لیے اٹھے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پردہ کی آڑ کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا لے کر اپنے گرد لپیٹا، پھر چاشت کے آٹھ نفل ادا فرمائے۔ سبحة الضحی، چاشت کے نفل، چاشت کی نماز۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 765]
ترقیم فوادعبدالباقی: 336
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 336 ترقیم شاملہ: -- 766
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَال: فَسَتَرَتْهُ ابْنَتُهُ فَاطِمَةُ بِثَوْبِهِ، فَلَمَّا اغْتَسَلَ أَخَذَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانَ سَجَدَاتٍ، وَذَلِكَ ضُحًى.
سعید بن ابی ہند کے ایک اور شاگرد ولید بن کثیر نے اسی سند سے حدیث بیان کی اور یہ الفاظ کہے: تو آپ کی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کے کپڑے کے ذریعے سے آپ کے لیے اوٹ بنا دی۔ آپ جب غسل سے فارغ ہوئے تو وہی کپڑا لیا، اسے اپنے گرد لپیٹا، پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعات نماز ادا کی، یہ چاشت کا وقت تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 766]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں جس میں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑے کی اوٹ مہیا کی، غسل کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کپڑا لے کر اپنے گرد لپیٹ لیا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور آٹھ رکعتیں پڑھیں، اور یہ چاشت کا وقت تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 766]
ترقیم فوادعبدالباقی: 336
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 336 ترقیم شاملہ: -- 1667
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى، إِلَّا أُمُّ هَانِئٍ ، فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَصَلَّى ثَمَانِي رَكَعَاتٍ، مَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يُتِمُّ الرُّكُوعَ، وَالسُّجُودَ "، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ قَوْلَهُ: قَطُّ.
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں شعبہ نے عمرو بن مرہ سے، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے سوا کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تشریف لائے اور آپ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں، میں نے آپ کو کبھی اس سے ہلکی نماز پڑھتے نہیں دیکھا، ہاں آپ رکوع اور سجود مکمل طریقے سے کر رہے تھے۔ ابن بشار نے اپنی روایت میں قط (کبھی) کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 1667]
عبدالرحمٰن بن ابی یعلیٰ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوا کسی نے نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا۔ ام ہانی نے بتایا کہ فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعات پڑھیں۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اس سے ہلکی یا خفیف نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود مکمل طریقہ سے کرتے تھے۔ ابن بشار نے اپنی روایت میں قَطُّ کا لفظ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 1667]
ترقیم فوادعبدالباقی: 336
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 336 ترقیم شاملہ: -- 1668
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ وَحَرَصْتُ عَلَى أَنْ أَجِدَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ يُخْبِرُنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ سُبْحَةَ الضُّحَى، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُحَدِّثُنِي ذَلِكَ، غَيْرَ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَتْنِي، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَى بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَأُتِيَ بِثَوْبٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، لَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ فِيهَا أَطْوَلُ، أَمْ رُكُوعُهُ، أَمْ سُجُودُهُ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْهُ مُتَقَارِبٌ "، قَالَتْ: فَلَمْ أَرَهُ سَبَّحَهَا قَبْلُ، وَلَا بَعْدُ، قَالَ الْمُرَادِيُّ: عَنْ يُونُسَ، وَلَمْ يَقُلْ: أَخْبَرَنِي.
حرملہ بن یحییٰ اور محمد بن سلمہ مرادی دونوں نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے عبداللہ بن حارث کے بیٹے نے حدیث سنائی کہ ان کے والد عبداللہ بن حارث بن نوفل نے کہا: میں نے (سب سے) پوچھا اور میری یہ شدید خواہش تھی کہ مجھے کوئی ایک شخص مل جائے جو مجھے بتائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی ہے۔ مجھے ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کے سوا کوئی نہ ملا جو مجھے یہ بتاتا۔ انہوں نے مجھے خبر دی کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن بلند ہونے کے بعد تشریف لائے، ایک کپڑا لا کر آپ کو پردہ مہیا کیا گیا، آپ نے غسل فرمایا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ میں نہیں جانتی کہ ان میں آپ کا قیام (نسبتاً) زیادہ لمبا تھا یا آپ کا رکوع یا آپ کا سجود، یہ سب (ارکان) قریب قریب تھے اور انہوں نے (ام ہانی رضی اللہ عنہا) بتایا، میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے یہ نماز پڑھی ہو۔ (محمد بن سلمہ) مرادی نے اپنی روایت میں ”یونس سے روایت ہے“ کہا، ”مجھے یونس نے خبر دی“ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 1668]
عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں میں نے پوچھا اور میری یہ آرزو اور خواہش تھی کہ مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے بتائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی ہے تو مجھے ام ہانی کے سوا کوئی نہ ملا جو مجھے یہ بتاتا۔ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے خبر دی کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن بلند ہونے کے بعد آئے تو کپڑا لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پردہ مہیا کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آٹھ رکعات پڑھیں، میں نہیں جانتی کہ ان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام طویل تھا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع یا سجدہ یہ سب ارکان قریب قریب تھے اور ام ہانی نے بتایا میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔ راوی نے اپنی روایت میں اَخْبَرَنِیْ یونس کی جگہ عَنْ یُوْنُسُ کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 1668]
ترقیم فوادعبدالباقی: 336
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 336 ترقیم شاملہ: -- 1669
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ ، تَقُولُ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ، وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، قَالَتْ: فَسَلَّمْتُ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ؟ قُلْتُ: أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ، " قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ "، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانُ ابْنُ هُبَيْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ، قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ: وَذَلِكَ ضُحًى.
ابونضر سے روایت ہے کہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہاتے ہوئے پایا جبکہ آپ کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کو کپڑے سے چھپائے ہوئے تھیں (آگے پردہ کیا ہوا تھا) میں نے سلام عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: ام ہانی بنت ابی طالب ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”ام ہانی کو خوش آمدید!“ جب آپ نہانے سے فارغ ہوئے تو کھڑے ہوئے اور صرف ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے آٹھ رکعتیں پڑھیں، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ماں جایا بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ چاہتا ہے کہ ایک ایسے آدمی کو قتل کر دے جسے میں نے پناہ دے چکی ہوں، یعنی ہبیرہ کا بیٹا، فلاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام ہانی! جس کو تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 1669]
حضرت ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہاتے ہوئے پایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑے سے پردہ کیے ہوئے تھی۔ میں نے جا کر سلام عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام ہانی کو خوش آمدید“ تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہانے سے فارغ ہوئے تو اٹھے اور آٹھ رکعات نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا ماں جایا بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ایسے آدمی کو قتل کرنا چاہتا ہے جسے میں پناہ دے چکی ہوں جو فلاں ہے اور ہبیرة کا بیٹا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام ہانی جس کو تو نے پناہ دی ہم نے بھی پناہ دی“ ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا یہ چاشت کا وقت تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 1669]
ترقیم فوادعبدالباقی: 336
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 336 ترقیم شاملہ: -- 1670
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " صَلَّى فِي بَيْتِهَا عَامَ الْفَتْحِ، ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، قَدْ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ ".
جعفر بن محمد رحمہ اللہ کے والد محمد باقر رحمہ اللہ نے عقیل کے آزاد کردہ غلام ابومرہ سے اور انہوں نے حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں ایک کپڑے میں جس کے دونوں کنارے ایک دوسرے کی مخالف جانب ڈالے گئے تھے، آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 1670]
حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گھر میں ایک کپڑے میں، جس کے دونوں جانب آپس میں مخالف جانب ڈالے گئے تھے آٹھ رکعات نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحيض/حدیث: 1670]
ترقیم فوادعبدالباقی: 336
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة