صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب الصلاة على النبي صلى الله عليه وسلم بعد التشهد:
باب: تشہد کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 406 ترقیم شاملہ: -- 908
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ ، فَقَالَ: أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً، خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: قَدْ عَرَفْنَا كَيْفَ نُسَلِّمُ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ، قَالَ: قُولُوا: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا، انہوں نے کہا: مجھے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہنے لگے: کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے تو ہم نے عرض کی: ہم تو جان چکے ہیں کہ ہم آپ پر سلام کیسے بھیجیں، (یہ بتائیں) ہم آپ پر صلاۃ کیسے بھیجیں؟ آپ نے فرمایا: ”کہو: اے اللہ! محمد اور محمد کی آل پر رحمت فرما، جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام کی آل پر رحمت فرمائی، بلاشبہ تو سزاوار حمد، عظمتوں والا ہے۔ اے اللہ! محمد پر اور محمد کی آل پر برکت نازل فرما، جیسے تو نے ابراہیم علیہ السلام کی آل پر برکت نازل فرمائی، بلاشبہ تو سزاوار حمد ہے، عظمتوں والا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 908]
ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہنے لگے، کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا، یہ تو ہم نے جان لیا، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کیسے بھیجیں تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوں کہا کرو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» اے اللہ اپنی خاص عنایت اور رحمت فرما، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور محمد کے گھر والوں پر جیسے کہ تو نے عنایت و رحمت فرمائی، ابراہیم علیہ السلام کے گھر والوں پر تو حمد و ستائش کے سزاوار اور عظمت و بزرگی والا ہے، اے اللہ خاص برکتیں نازل فرما، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں پر جیسے کہ تو نے برکتیں نازل فرمائیں، ابراہیم علیہ السلام کے گھر والوں پر تو حمد و ستائش کے لائق اور بزرگی والا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 908]
ترقیم فوادعبدالباقی: 406
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 406 ترقیم شاملہ: -- 909
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَمِسْعَرٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ مِسْعَرٍ، أَلَا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً.
وکیع نے شعبہ اور مسعر سے اسی سند کے ساتھ حکم سے اسی کی مانند روایت کی اور مسعر کی حدیث میں یہ جملہ نہیں ہے: کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں؟ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 909]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں لیکن اس میں ایک راوی کی حدیث میں یہ جملہ نہیں ہے، کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 909]
ترقیم فوادعبدالباقی: 406
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 406 ترقیم شاملہ: -- 910
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، وَعَنْ مِسْعَرٍ ، وَعَنْ مَالِكِ ابْنِ مِغْوَلٍ ، عَنِ الْحَكَمِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَلَمْ يَقُلْ: اللَّهُمَّ.
اسماعیل بن زکریا نے اعمش، مسعر اور مالک بن مغول سے روایت کی اور ان سب نے حکم سے اسی سند کے ساتھ سابقہ حدیث کی مانند روایت کی، البتہ اسماعیل نے کہا: و بارك على محمد اور (اس سے پہلے) اللہم نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 910]
امام صاحب رحمہ اللہ نے ایک اور سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ہے، صرف اتنا فرق ہے۔ اس میں «بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ» ہے «اللَّهُمَّ» نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 910]
ترقیم فوادعبدالباقی: 406
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة