🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب النهي عن سبق الإمام بركوع او سجود ونحوهما:
باب: امام سے پہلے رکوع اور سجود وغیرہ کرنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 426 ترقیم شاملہ: -- 961
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَاتَ يَوْمٍ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي إِمَامُكُمْ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ، وَلَا بِالسُّجُودِ، وَلَا بِالْقِيَامِ، وَلَا بِالِانْصِرَافِ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ أَمَامِي، وَمِنْ خَلْفِي "، ثُمَّ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا "، قَالُوا: وَمَا رَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ "،
علی بن مسہر نے مختار بن فلفل سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، اور نماز سے فراغت کے بعد ہماری طرف رخ کیا اور فرمایا: لوگو! میں تمہارا امام ہوں، نہ قیام میں اور نہ سلام پھیرنے میں کیونکہ میں تمہیں اپنے سامنے اور اپنے پیچھے دیکھتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! اگر تم ان (تمام چیزوں) کو دیکھو جو میں نے دیکھیں تو تم کم ہنسو اور زیادہ رؤو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے کیا دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: میں نے جنت اور دوزخ کو دیکھا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 961]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی تو نماز سے فارغت کے بعد ہماری طرف منہ کر کے فرمایا: اے لوگو! میں تمہارا امام ہوں، تم رکوع، سجود، قیام اور سلام پھیرنے میں مجھ سے سبقت (پہل) نہ کیا کرو، کیونکہ میں اپنے سامنے اور اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر تم ان تمام حقائق کا مشاہدہ کر لو جن کو میں دیکھتا ہوں تو تم ہنسو کم اور روؤ زیادہ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے جنت اور دوزخ کو دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 961]
ترقیم فوادعبدالباقی: 426
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 426 ترقیم شاملہ: -- 962
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ جَمِيعًا، عَنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ: وَلَا بِالِانْصِرَافِ.
(علی بن مسہر کے بجائے) جریر اور ابن فضیل دونوں نے اپنی اپنی سند سے مختار بن فلفل سے روایت کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا روایت بیان کی، جریر کی حدیث میں نہ سلام پھیرنے میں کے الفاظ نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 962]
جریر رحمہ اللہ، ابن فضیل رحمہ اللہ دونوں نے مختار رحمہ اللہ سے انس رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا مرفوع روایت سنائی جریر رحمہ اللہ کی حدیث میں سلام پھیرنے کا تذکرہ نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 962]
ترقیم فوادعبدالباقی: 426
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں