سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
231. باب الرجل يخطب على قوس
باب: کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1100
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ، عَنْ بِنْتِ الْحَارِثِ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ: مَا حَفِظْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَخْطُبُ بِهَا كُلَّ جُمُعَةٍ". قَالَتْ:" وَكَانَ تَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَنُّورُنَا وَاحِدًا". قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: بِنْتُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، وقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: أُمُّ هِشَامٍ بِنْتُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ.
(ام ہشام) بنت حارث (حارثہ بن نعمان) بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے سورۃ ”ق“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان (مبارک) سے سنتے ہی سنتے یاد کی ہے، آپ اسے ہر جمعہ کو خطبہ میں پڑھا کرتے تھے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ہمارا ایک ہی چولہا تھا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1100]
حارث بن نعمان کی صاحبزادی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”میں نے سورۃ ﴿ق﴾ [سورة ق] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے سن کر ہی یاد کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ہر خطبہ جمعہ میں پڑھا کرتے تھے“، بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ہمارا تنور ایک ہی تھا“۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ روح بن عبادہ نے شعبہ سے روایت کرتے ہوئے اس خاتون کا نسب یوں ذکر کیا ”بنت حارثہ بن نعمان“ جبکہ ابن اسحاق نے ”ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان“ کہا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجمعة 13 (872)، سنن النسائی/الجمعة 28 (1412)، (تحفة الأشراف: 18363)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/ 432، 436، 463) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (873)
وانظر الحديث الآتي (1102)
وانظر الحديث الآتي (1102)
حدیث نمبر: 1102
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُخْتِهَا، قَالَتْ: مَا أَخَذْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَقْرَؤُهَا فِي كُلِّ جُمُعَةٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ.
عبدالرحمٰن کی بہن عمرۃ بنت ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا وہ کہتی ہیں کہ میں نے سورۃ ”ق“ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن سن کر یاد کیا آپ ہر جمعہ میں اسے پڑھا کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے یحییٰ بن ایوب، اور ابن ابی الرجال نے یحییٰ بن سعید سے، یحییٰ نے عمرہ سے، عمرہ نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان عنہا سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1102]
عمرہ اپنی بہن سے روایت کرتی ہیں، ان کا بیان ہے کہ ”میں نے ﴿ق﴾ [سورة ق] ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک ہی سے (سن کر) یاد کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ہر جمعہ (کے خطبہ میں) پڑھا کرتے تھے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یحییٰ بن ایوب اور ابن ابی الرجال نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عمرہ سے، انہوں نے ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا سے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1100، (تحفة الأشراف: 18363) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (872)