سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب الجمع بين الصلاتين
باب: دو نمازوں کو جمع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1213
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ، بِهَذَا الْمَعْنَى. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ ذَهَابِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا.
اس طریق سے بھی ابن جابر سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور عبداللہ بن علاء نے نافع سے یہ حدیث روایت کی ہے: اس میں ہے یہاں تک کہ جب شفق غائب ہونے کا وقت ہوا تو وہ اترے اور مغرب اور عشاء ایک ساتھ پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1213]
عیسیٰ نے ابن جابر سے اسی کے ہم معنی روایت کیا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن علاء نے نافع رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہوئے کہا ہے: ”جب شفق غروب ہونے لگی تو وہ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما) اترے اور نمازیں جمع کر کے پڑھیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/ المواقیت 44 (596)، (تحفة الأشراف: 7759) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (596 وسنده صحيح)
أخرجه النسائي (596 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 1212
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ، أَنَّ مُؤَذِّنَ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:"الصَّلَاةُ، قَالَ: سِرْ سِرْ حَتَّى إِذَا كَانَ قَبْلَ غُيُوبِ الشَّفَقِ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ صَنَعَ مِثْلَ الَّذِي صَنَعْتُ فَسَارَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ مَسِيرَةَ ثَلَاثٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ جَابِرٍ، عَنْ نَافِعٍ نَحْوَ هَذَا بِإِسْنَادِهِ.
نافع اور عبداللہ بن واقد سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے مؤذن نے کہا: نماز (پڑھ لی جائے) (تو) ابن عمر نے کہا: چلتے رہو پھر شفق غائب ہونے سے پہلے اترے اور مغرب پڑھی پھر انتظار کیا یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی تو عشاء پڑھی، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی کام کی جلدی ہوتی تو آپ ایسا ہی کرتے جیسے میں نے کیا ہے، چنانچہ انہوں نے اس دن اور رات میں تین دن کی مسافت طے کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جابر نے بھی نافع سے اسی سند سے اسی کی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1212]
جناب نافع اور عبداللہ بن واقد سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے مؤذن نے نماز کے لیے کہا: تو انہوں نے کہا: ”چلو، چلو“، حتیٰ کہ شفق غروب ہونے سے ذرا پہلے اترے اور مغرب کی نماز پڑھی، پھر انتظار کیا، حتیٰ کہ شفق غائب ہو گئی تو عشاء پڑھی، پھر فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی کام میں جلدی ہوتی تو ایسے ہی کرتے تھے جیسے کہ میں نے کیا ہے۔“ پھر آپ نے اس دن رات میں تین دن کی مسافت طے کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”ابن جابر نے نافع سے اپنی سند سے اسی کی مانند روایت کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1212]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7290) (صحیح)» (لیکن اس حدیث میں وارد لفظ «قبل غیوب الشفق» ”شفق غائب ہونے سے قبل“ شاذ ہے، صحیح لفظ «حتی غاب الشفق» ”شفق غائب ہونے کے بعد“ ہے جیسا کہ حدیث نمبر: 1207 میں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن قوله قبل غيوب الشفق شاذ والمحفوظ بعد غياب الشفق نافع نحو هذا بإسناده
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وانظر الحديث الآتي (123)
وانظر الحديث الآتي (123)