🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. باب غسل الرجلين
باب: وضو میں دونوں پاؤں دھونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 148
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ يَدْلُكُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ".
مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب آپ وضو کرتے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں کو چھنگلیا (ہاتھ کی سب سے چھوٹی انگلی) سے ملتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 148]
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تو اپنے پاؤں کی انگلیوں کو اپنی چھنگلی سے ملتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 148]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 30 (40)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 54 (446)، (تحفة الأشراف: 11256)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/229) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (407)
ورواه الليث بن سعد وغيره عن يزيد بن عمرو به عند ابن ابي حاتم في تقدمة الجرح والتعديل، ص 31، 32 والبيهقي: 1/ 76، 77 وعندھما فائدة ھامة

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 142
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ أَوْ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُصَادِفْهُ فِي مَنْزِلِهِ وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: فَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ لَنَا، قَالَ: وَأُتِينَا بِقِنَاعٍ وَلَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ الْقِنَاعَ، وَالْقِنَاعُ الطَّبَقُ فِيهِ تَمْرٌ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَلْ أَصَبْتُمْ شَيْئًا أَوْ أُمِرَ لَكُمْ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ، إِذْ دَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ إِلَى الْمُرَاحِ وَمَعَهُ سَخْلَةٌ تَيْعَرُ، فَقَالَ: مَا وَلَّدْتَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: بَهْمَةً، قَالَ: فَاذْبَحْ لَنَا مَكَانَهَا شَاةً، ثُمَّ قَالَ: لَا تَحْسِبَنَّ، وَلَمْ يَقُلْ لَا تَحْسَبَنَّ أَنَّا مِنْ أَجْلِكَ ذَبَحْنَاهَا لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ، فَإِذَا وَلَّدَ الرَّاعِي بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي امْرَأَةً وَإِنَّ فِي لِسَانِهَا شَيْئًا يَعْنِي الْبَذَاءَ، قَالَ: فَطَلِّقْهَا إِذًا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَهَا صُحْبَةً وَلِي مِنْهَا وَلَدٌ، قَالَ: فَمُرْهَا يَقُولُ: عِظْهَا، فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلْ، وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ كَضَرْبِكَ أُمَيَّتَكَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ: أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر یا بنی منتفق کے وفد میں شریک ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ گھر میں نہیں ملے، ہمیں صرف ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ملیں، انہوں نے ہمارے لیے خزیرہ ۱؎ تیار کرنے کا حکم کیا، وہ تیار کیا گیا، ہمارے سامنے تھالی لائی گئی۔ (قتیبہ نے اپنی روایت میں «قناع» کا لفظ نہیں کہا ہے، «قناع» کھجور کی لکڑی کی اس تھالی و طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجور رکھی جاتی ہے)۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا: تم لوگوں نے کچھ کھایا؟ یا تمہارے کھانے کے لیے کوئی حکم دیا گیا؟، ہم نے جواب دیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے کر چلا، اس کے ساتھ ایک بکری کا بچہ تھا جو ممیا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سے) پوچھا: اے فلاں! کیا پیدا ہوا (نر یا مادہ)؟، اس نے جواب دیا: مادہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس کے جگہ پر ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو۔ پھر (لقیط سے) فرمایا: یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے اسے تمہارے لیے ذبح کیا ہے، بلکہ (بات یہ ہے کہ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں جسے ہم بڑھانا نہیں چاہتے، اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں۔ لقیط کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے جو زبان دراز ہے (میں کیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب تو تم اسے طلاق دے دو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا، اس سے میری اولاد بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے تم نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہے تو تمہاری اطاعت کرے گی، اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو۔ پھر میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو مکمل کیا کرو، انگلیوں میں خلال کرو، اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ الا یہ کہ تم صائم ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 142]
سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی مُنتَفِق کا جو وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تھا، میں اس کا سردار تھا یا ایک فرد۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر میں نہ پایا۔ ہم نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پایا۔ انہوں نے ہمارے لیے «خَزِيرَة» خزیرہ بنانے کا حکم دیا اور وہ ہمارے لیے بنا دیا گیا۔ پھر ہمارے سامنے ایک کھجوروں بھرا طبق لایا گیا، قتیبہ رحمہ اللہ نے لفظ «قِنَاع» قناع نہیں بولا۔ اور «قِنَاع» قناع ایسے طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجوریں ہوں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور دریافت فرمایا: کیا تمہیں کچھ ملا ہے یا تمہارے لیے کچھ کہا گیا ہے؟ ہم نے عرض کیا: ہاں اے اللہ کے رسول! (ہم نے خزیرہ کھا لیا ہے)۔ اس اثنا میں جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، چرواہے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بکریاں باڑے کی طرف چلائیں اور اس کے پاس بکری کا ایک بچہ بھی تھا جو ممیا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ارے کیا جنوایا ہے؟ اس نے کہا: ایک بچہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ہمارے لیے اس کے بدلے ایک بکری ذبح کر دو۔ پھر (ہم سے) فرمایا: یہ نہ سمجھنا کہ ہم تمہاری خاطر اسے ذبح کر رہے ہیں۔ (سیدنا لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں لفظ «تَحْسِبَنَّ» سین کے کسرہ (زیر) کے ساتھ ادا فرمایا، فتحہ (زبر) کے ساتھ نہیں)۔ (دراصل) ہماری سو بکریاں ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ اس سے بڑھ جائیں۔ تو یہ چرواہا جب بھی کسی بکری کے بچہ جننے کی خبر لاتا ہے تو ہم اس کے بدلے ایک بکری ذبح کر لیتے ہیں۔ سیدنا لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (اس موقع پر) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری بیوی ہے اور اس کی زبان میں کچھ ہے، یعنی زبان دراز اور بدگو ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے طلاق دے دو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا میرے ساتھ ایک وقت گزرا ہے اور میری اس سے اولاد بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اسے نصیحت کرو۔ اگر اس میں خیر ہوئی تو سمجھ جائے گی۔ اور ایسے مت مارنا جیسے اپنی لونڈی کو مارتے ہو۔ پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں ارشاد فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو خوب کامل کیا کرو اور انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو اور ناک میں خوب پانی چڑھایا کرو الا یہ کہ روزے سے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 142]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 30 (38)، الصوصحیح مسلم/ 69 (788)، سنن النسائی/الطھارة 71 (87)، 92 (114)، سنن ابن ماجہ/ 44 (407)، 54 (448)، (تحفة الأشراف: 11172)، ویأتی عند المؤلف برقم (2366) و (3973)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/33)، سنن الدارمی/الطھارة 34 (732) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: خزیرہ ایک قسم کا کھانا ہے، اس کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کو کافی مقدار میں پانی میں ابالا جاتا ہے جب گوشت پک جاتا ہے تو اس میں آٹا ڈال کر اسے مزید پکایا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (405، 3260)
اخرجه الترمذي (788 وسنده حسن) والنسائي (114 وسنده حسن) وابن ماجه (448 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمه (150، 168 وسندھما حسن) وانظر مقالات (2/ 202) والحديث الآتي (3973)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں