سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. باب فِي الاِسْتِنْثَارِ
باب: ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 140
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَاءً ثُمَّ لِيَنْثُرْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنی ناک میں پانی ڈالے، پھر جھاڑے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 140]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنی ناک میں پانی لے، پھر اسے جھاڑے (یعنی صاف کرے)۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 140]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 26 (162)، صحیح مسلم/الطھارة 8 (237)، سنن النسائی/الطھارة 70 (86)، موطا امام مالک/الطھارة 1(2)، (تحفة الأشراف: 13820)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطھارة 44 (406)، مسند احمد (2/242، 278)، سنن الدارمی/الطھارة 32 (730) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (162) صحيح مسلم (141)
حدیث نمبر: 141
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ قَارِظٍ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَنْثِرُوا مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناک میں پانی ڈال کر اسے دو یا تین بار اچھی طرح سے جھاڑو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 141]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ناک جھاڑو (اور صاف کرو) دو بار یا تین بار، خوب اچھی طرح۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 141]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الطھارة 44 (408)، (تحفة الأشراف: 6567)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/228) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 142
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ أَوْ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نُصَادِفْهُ فِي مَنْزِلِهِ وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: فَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ لَنَا، قَالَ: وَأُتِينَا بِقِنَاعٍ وَلَمْ يَقُلْ قُتَيْبَةُ الْقِنَاعَ، وَالْقِنَاعُ الطَّبَقُ فِيهِ تَمْرٌ، ثُمَّ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَلْ أَصَبْتُمْ شَيْئًا أَوْ أُمِرَ لَكُمْ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ، إِذْ دَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ إِلَى الْمُرَاحِ وَمَعَهُ سَخْلَةٌ تَيْعَرُ، فَقَالَ: مَا وَلَّدْتَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: بَهْمَةً، قَالَ: فَاذْبَحْ لَنَا مَكَانَهَا شَاةً، ثُمَّ قَالَ: لَا تَحْسِبَنَّ، وَلَمْ يَقُلْ لَا تَحْسَبَنَّ أَنَّا مِنْ أَجْلِكَ ذَبَحْنَاهَا لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ، فَإِذَا وَلَّدَ الرَّاعِي بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي امْرَأَةً وَإِنَّ فِي لِسَانِهَا شَيْئًا يَعْنِي الْبَذَاءَ، قَالَ: فَطَلِّقْهَا إِذًا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَهَا صُحْبَةً وَلِي مِنْهَا وَلَدٌ، قَالَ: فَمُرْهَا يَقُولُ: عِظْهَا، فَإِنْ يَكُ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَفْعَلْ، وَلَا تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ كَضَرْبِكَ أُمَيَّتَكَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ: أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں بنی منتفق کے وفد کا سردار بن کر یا بنی منتفق کے وفد میں شریک ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ گھر میں نہیں ملے، ہمیں صرف ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ملیں، انہوں نے ہمارے لیے خزیرہ ۱؎ تیار کرنے کا حکم کیا، وہ تیار کیا گیا، ہمارے سامنے تھالی لائی گئی۔ (قتیبہ نے اپنی روایت میں «قناع» کا لفظ نہیں کہا ہے، «قناع» کھجور کی لکڑی کی اس تھالی و طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجور رکھی جاتی ہے)۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا: ”تم لوگوں نے کچھ کھایا؟ یا تمہارے کھانے کے لیے کوئی حکم دیا گیا؟“، ہم نے جواب دیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک چرواہا اپنی بکریاں باڑے کی طرف لے کر چلا، اس کے ساتھ ایک بکری کا بچہ تھا جو ممیا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سے) پوچھا: ”اے فلاں! کیا پیدا ہوا (نر یا مادہ)؟“، اس نے جواب دیا: مادہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس کے جگہ پر ہمارے لیے ایک بکری ذبح کرو“۔ پھر (لقیط سے) فرمایا: یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے اسے تمہارے لیے ذبح کیا ہے، بلکہ (بات یہ ہے کہ) ہمارے پاس سو بکریاں ہیں جسے ہم بڑھانا نہیں چاہتے، اس لیے جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر ڈالتے ہیں۔ لقیط کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے جو زبان دراز ہے (میں کیا کروں)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو تم اسے طلاق دے دو“۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک مدت تک میرا اس کا ساتھ رہا، اس سے میری اولاد بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے تم نصیحت کرو، اگر اس میں بھلائی ہے تو تمہاری اطاعت کرے گی، اور تم اپنی عورت کو اس طرح نہ مارو جس طرح اپنی لونڈی کو مارتے ہو“۔ پھر میں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو مکمل کیا کرو، انگلیوں میں خلال کرو، اور ناک میں پانی اچھی طرح پہنچاؤ الا یہ کہ تم صائم ہو“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 142]
سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی مُنتَفِق کا جو وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تھا، میں اس کا سردار تھا یا ایک فرد۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھر میں نہ پایا۔ ہم نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو پایا۔ انہوں نے ہمارے لیے «خَزِيرَة» ”خزیرہ“ بنانے کا حکم دیا اور وہ ہمارے لیے بنا دیا گیا۔ پھر ہمارے سامنے ایک کھجوروں بھرا طبق لایا گیا، قتیبہ رحمہ اللہ نے لفظ «قِنَاع» ”قناع“ نہیں بولا۔ اور «قِنَاع» ”قناع“ ایسے طبق کو کہتے ہیں جس میں کھجوریں ہوں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور دریافت فرمایا: ”کیا تمہیں کچھ ملا ہے یا تمہارے لیے کچھ کہا گیا ہے؟“ ہم نے عرض کیا: ”ہاں اے اللہ کے رسول! (ہم نے خزیرہ کھا لیا ہے)۔“ اس اثنا میں جبکہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، چرواہے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بکریاں باڑے کی طرف چلائیں اور اس کے پاس بکری کا ایک بچہ بھی تھا جو ممیا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”ارے کیا جنوایا ہے؟“ اس نے کہا: ”ایک بچہ ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب ہمارے لیے اس کے بدلے ایک بکری ذبح کر دو۔“ پھر (ہم سے) فرمایا: ”یہ نہ سمجھنا کہ ہم تمہاری خاطر اسے ذبح کر رہے ہیں۔“ (سیدنا لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں لفظ «تَحْسِبَنَّ» سین کے کسرہ (زیر) کے ساتھ ادا فرمایا، فتحہ (زبر) کے ساتھ نہیں)۔ ”(دراصل) ہماری سو بکریاں ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ اس سے بڑھ جائیں۔ تو یہ چرواہا جب بھی کسی بکری کے بچہ جننے کی خبر لاتا ہے تو ہم اس کے بدلے ایک بکری ذبح کر لیتے ہیں۔“ سیدنا لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (اس موقع پر) میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میری بیوی ہے اور اس کی زبان میں کچھ ہے، یعنی زبان دراز اور بدگو ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس کا میرے ساتھ ایک وقت گزرا ہے اور میری اس سے اولاد بھی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اسے نصیحت کرو۔ اگر اس میں خیر ہوئی تو سمجھ جائے گی۔ اور ایسے مت مارنا جیسے اپنی لونڈی کو مارتے ہو۔“ پھر میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں ارشاد فرمائیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو خوب کامل کیا کرو اور انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو اور ناک میں خوب پانی چڑھایا کرو الا یہ کہ روزے سے ہو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 142]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 30 (38)، الصوصحیح مسلم/ 69 (788)، سنن النسائی/الطھارة 71 (87)، 92 (114)، سنن ابن ماجہ/ 44 (407)، 54 (448)، (تحفة الأشراف: 11172)، ویأتی عند المؤلف برقم (2366) و (3973)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/33)، سنن الدارمی/الطھارة 34 (732) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: خزیرہ ایک قسم کا کھانا ہے، اس کے بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کو کافی مقدار میں پانی میں ابالا جاتا ہے جب گوشت پک جاتا ہے تو اس میں آٹا ڈال کر اسے مزید پکایا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (405، 3260)
اخرجه الترمذي (788 وسنده حسن) والنسائي (114 وسنده حسن) وابن ماجه (448 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمه (150، 168 وسندھما حسن) وانظر مقالات (2/ 202) والحديث الآتي (3973)
مشكوة المصابيح (405، 3260)
اخرجه الترمذي (788 وسنده حسن) والنسائي (114 وسنده حسن) وابن ماجه (448 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمه (150، 168 وسندھما حسن) وانظر مقالات (2/ 202) والحديث الآتي (3973)
حدیث نمبر: 143
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ وَافِدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ، أَنَّهُ أَتَى عَائِشَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، قَالَ: فَلَمْ يَنْشَبْ أَنْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَلَّعُ يَتَكَفَّأُ، وَقَالَ عَصِيدَةٌ: مَكَانَ خَزِيرَةٍ.
بنی منتفق کے وفد میں شریک لقیط بن صبرہ کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، اس میں یہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے کو جھکتے ہوئے یعنی تیز چال چلتے ہوئے تشریف لائے، اس روایت میں لفظ «خزيرة» کی جگہ «عصيدة» (ایک قسم کا کھانا) کا ذکر ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 143]
عاصم بن لقیط بن صبرہ اپنے والد (لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ) سے راوی ہیں، جو کہ وفدِ بنی منتفق کے سردار تھے کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ اس روایت میں ہے: ”ہم بیٹھے ہی تھے کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زور سے قدم اٹھاتے ہوئے، آگے کو جھک کر چلتے ہوئے تشریف لائے۔“ اور اس روایت میں «خَزِيْرَةٌ» کی بجائے «عَصِيْدَةٌ» کا ذکر ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 11172) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3260)
وانظر الحديث السابق (142)
مشكوة المصابيح (3260)
وانظر الحديث السابق (142)
حدیث نمبر: 144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ فِيهِ: إِذَا تَوَضَّأْتَ فَمَضْمِضْ.
اس طریق سے بھی ابن جریج سے یہی حدیث مروی ہے، جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو کلی کرو“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 144]
جناب محمد بن یحییٰ بن فارس رحمہ اللہ کی سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے، انہوں نے کہا کہ ”جب تو وضو کرے تو کلی کر۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 11172) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح