🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب في إفراد الحج
باب: حج افراد کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1791
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا النَّهَّاسُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَهَلَّ الرَّجُلُ بِالْحَجِّ ثُمَّ قَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَ بِالصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ فَقَدْ حَلَّ، وَهِيَ عُمْرَةٌ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، دَخَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ خَالِصًا، فَجَعَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةً.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب آدمی حج کا احرام باندھ کر مکہ آئے اور بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر لے تو وہ حلال ہو گیا اور یہ عمرہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ایک شخص سے انہوں نے عطا سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ خالص حج کا احرام باندھ کر مکہ میں داخل ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے عمرہ سے بدل دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1791]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی نے حج کا احرام باندھا پھر مکہ آیا، بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کی سعی کر لی تو وہ حلال ہو گیا اور یہ عمرہ ہو گا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث کو ابن جریج نے ایک شخص کے واسطے سے عطاء سے یوں روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب صرف حج کا تلبیہ کہتے ہوئے (مکے میں) داخل ہوئے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عمرہ بنا دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1791]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5965) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
النھاس ضعيف (تق: 7197) يروي عن عطاء عن ابن عباس أشياء منكرة كما قال يحيي القطان (الجرح والتعديل 8/ 511 وسنده صحيح)
وحديث ابن جريج عن رجل ينظر فيه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 71

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1777
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَفْرَدَ الْحَجَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1777]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج افراد کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1777]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن الترمذی/الحج 10 (820)، سنن النسائی/الحج 48 (2716)، سنن ابن ماجہ/المناسک 37 (2964)، (تحفة الأشراف: 17517)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 11(37)، مسند احمد (6/243)، سنن الدارمی/المناسک 16 (1853) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حج کے مہینے میں میقات سے صرف حج کی نیت سے احرام باندھنے کو افراد کہتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں صحیح یہ ہے کہ آپ نے حج قِران کیا تھا، اس لئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہدی کے جانور تھے، ورنہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا تھا کہ جن کے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہو وہ عمرہ پورا کر کے احرام کھول دیں، یعنی حج قران کو حج تمتع میں بدل دیں، دیکھئے حدیث نمبر: (۷۹۵)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1211)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1792
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ شَوْكَرٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، قَالَ ابْنُ مَنِيعٍ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْمَعْنَى،عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، فَلَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ"، وَقَالَ ابْنُ شَوْكَرٍ:" وَلَمْ يُقَصِّرْ"، ثُمَّ اتَّفَقَا،" وَلَمْ يُحِلَّ مِنْ أَجْلِ الْهَدْيِ، وَأَمَرَ مَنْ لَمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَطُوفَ وَأَنْ يَسْعَى وَيُقَصِّرَ ثُمَّ يُحِلَّ"، زَادَ ابْنُ مَنِيعٍ فِي حَدِيثِهِ:" أَوْ يَحْلِقَ ثُمَّ يُحِلَّ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا جب آپ (مکہ) آئے تو آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی (ابن شوکر کی روایت میں ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بال نہیں کتروائے (پھر ابن شوکر اور ابن منیع دونوں کی روایتیں متفق ہیں کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کی وجہ سے احرام نہیں کھولا، اور حکم دیا کہ جو ہدی لے کر نہ آیا ہو طواف اور سعی کر لے اور بال کتروا لے پھر احرام کھول دے، (ابن منیع کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے): یا سر منڈوا لے پھر احرام کھول دے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1792]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ کہا؛ جب مکہ تشریف لائے اور بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لی۔ ابن شوکر نے کہا: اور آپ نے اپنے بال نہیں کتروائے۔ پھر ابن شوکر اور احمد بن منیع دونوں نے کہا: اور آپ اپنی قربانی کی وجہ سے حلال نہیں ہوئے۔ (لیکن) جن لوگوں کے ساتھ قربانی نہیں تھی، انہیں حکم دیا کہ طواف اور سعی کے بعد بال کتروا کر حلال ہو جائیں۔ ابن منیع کی روایت میں اضافہ ہے: یا بال منڈوا کر حلال ہو جائیں۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1792]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6429)، وقد أخرجہ: (حم 1/241، 338) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يزيد : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 71

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں