سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب في الإقران
باب: حج قران کا بیان۔
حدیث نمبر: 1795
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُمْ سَمِعُوهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا، يَقُولُ:" لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے انہیں کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھتے سنا آپ فرما رہے تھے: «لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا» ۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1795]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج اور عمرے کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے کہہ رہے تھے: «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا، لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا» ”میں حاضر ہوں عمرے اور حج کے لیے، میں حاضر ہوں عمرے اور حج کے لیے۔““ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1795]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 34 (1251)، سنن النسائی/الحج 49 (2730)، (تحفة الأشراف: 781، 1653)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 126(2986)، والمغازي 61 (4353)، سنن الترمذی/الحج 11(821)، سنن ابن ماجہ/المناسک 14 (2917)، 38 (2968، 2969)، مسند احمد (3/99، 282)، سنن الدارمی/المناسک 78 (1964) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1251)
حدیث نمبر: 1794
حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ خَيْوَانَ بْنِ خَلْدَةَ مِمَّنْ قَرَأَ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بنَ أَبي سُفْيَانَ، قَالَ لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كَذَا وَكَذَا وَعَنْ رُكُوبِ جُلُودِ النُّمُورِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ؟ فَقَالُوا: أَمَّا هَذَا، فَلَا، فَقَالَ: أَمَا إِنَّهَا مَعَهُنَّ وَلَكِنَّكُمْ نَسِيتُمْ".
ابوشیخ ہنائی خیوان بن خلدہ (جو اہل بصرہ میں سے ہیں اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں) سے روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں فلاں چیز سے روکا ہے اور چیتوں کی کھال پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، پھر معاویہ نے پوچھا: تو کیا یہ بھی معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قران) حج اور عمرہ دونوں کو ملانے سے منع فرمایا ہے؟ لوگوں نے کہا: رہی یہ بات تو ہم اسے نہیں جانتے، تو انہوں نے کہا: یہ بھی انہی (ممنوعات) میں سے ہے لیکن تم لوگ بھول گئے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1794]
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے اصحابِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں فلاں کام سے منع فرمایا ہے اور چیتے کی کھال پر سوار ہونے (بیٹھنے) سے بھی منع فرمایا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں!“ انہوں نے کہا: ”آپ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو ملانے سے بھی منع کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”نہیں، یہ بات ہم نہیں جانتے۔“ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یہ ہے تو ان (ممنوعہ چیزوں) ہی کے ساتھ مگر آپ لوگ بھول رہے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1794]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الحج 50 مختصراً (2735)، (تحفة الأشراف: 11456)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/92، 95، 98، 99)، (ضعیف)» (اس کی سند میں اضطراب ہے، نیز صحیح روایات کے خلاف ہے)
وضاحت: ۱؎: قران بعض علماء کے نزدیک افضل ہے، پھر تمتع، پھر افراد، اور بعض کے نزدیک افراد سب سے افضل ہے، پھر قران پھر تمتع، اور صحیح قول یہ ہے کہ تمتع سب سے افضل ہے، امام ابن قیم اور علامہ البانی کے بقول تمتع کے سوا حج کی دونوں قسمیں (یعنی افراد اور قران) منسوخ ہیں، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ” جو بات مجھے اب معلوم ہوئی ہے وہ اگر پہلے معلوم ہوتی تو میں بھی ہدی کے جانور لے کر نہیں آتا، (تاکہ میں بھی اپنے حج کو عمرہ بنا دیتا) “، تو اب امت کے لئے یہ پیغام ملا کہ آئندہ کوئی ہدی لے کر آئے ہی نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح إلا النهي عن القران فهو شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن وتابعه بھيس بن فھدان عندالطبراني (19 / 354) ببعضه وفيه محمد بن صالح بن الوليد النرسي : ولم أجد من وثقه
والحديث السابق (الأصل : 1793) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 71
إسناده ضعيف
قتادة عنعن وتابعه بھيس بن فھدان عندالطبراني (19 / 354) ببعضه وفيه محمد بن صالح بن الوليد النرسي : ولم أجد من وثقه
والحديث السابق (الأصل : 1793) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 71