سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب دخول مكة
باب: مکہ میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1868
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ مِنْ كَدَاءَ مِنْ أَعْلَى مَكَّةَ وَدَخَلَ فِي الْعُمْرَةِ مِنْ كُدًى"، قَالَ: وَكَانَ عُرْوَةُ يَدْخُلُ مِنْهُمَا جَمِيعًا، وَكَانَ أَكْثَرُ مَا كَانَ يَدْخُلُ مِنْ كُدًى، وَكَانَ أَقْرَبَهُمَا إِلَى مَنْزِلِهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ کے بلند مقام کداء ۱؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عمرہ کے وقت کُدی ۲؎ کی جانب سے داخل ہوئے اور عروہ دونوں ہی جانب سے داخل ہوتے تھے، البتہ اکثر کدی کی جانب سے داخل ہوتے اس لیے کہ یہ ان کے گھر سے قریب تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1868]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے سال مکہ میں اس کی بالائی جانب کداء کی طرف سے داخل ہوئے تھے، اور عمرہ میں کدی کی طرف (زیریں جانب) سے آئے تھے۔“ اور جناب عروہ رحمہ اللہ دونوں راہوں سے آتے تھے (کبھی اس سے اور کبھی اس سے) اور یہ (عروہ) اکثر اوقات کدی کی طرف (زیریں طرف) سے داخل ہوتے تھے اور یہ جانب ان کی منزل کے زیادہ قریب تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1868]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 41 (1578)، والمغازي 49 (4290)، صحیح مسلم/الحج 37 (1257)، (تحفة الأشراف: 16797)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 30 (853)، مسند احمد (6/58، 201) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”كداء“: مکہ مکرمہ کا وہ جانب جو مقبرۃ المعلی کی طرف ہے اور بلند ہے۔
۲؎: ”كدى“: وہ جانب ہے جو باب العمرہ کی طرف نشیب میں ہے۔
۲؎: ”كدى“: وہ جانب ہے جو باب العمرہ کی طرف نشیب میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1578) صحيح مسلم (1258)
حدیث نمبر: 1866
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَرْمَكِيُّ، حَدَّثَنَا مَعِنٌ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَابْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ يَحْيَى. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنْ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا"، قَالَا: عَنْ يَحْيَى، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنْ كَدَاءَ مِنْ ثَنِيَّةِ الْبَطْحَاءِ وَيَخْرُجُ مِنْ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى"، زَادَ الْبَرْمَكِيُّ:" يَعْنِي ثَنِيَّتَيْ مَكَّةَ"، وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَتَمُّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ علیا (بلند گھاٹی) سے داخل ہوتے، (یحییٰ کی روایت میں اس طرح ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ بطحاء کی جانب سے مقام کداء سے داخل ہوتے) اور ثنیہ سفلی (نشیبی گھاٹی) سے نکلتے۔ برمکی کی روایت میں اتنا زائد ہے یہ مکہ کی دو گھاٹیاں ہیں اور مسدد کی حدیث زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1866]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں بالائی جانب کی گھاٹی سے تشریف لایا کرتے تھے۔“ مسدد اور ابن حنبل نے یحییٰ سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «بَطْحَاءَ» کی گھاٹی سے «كَدَاءٍ» کی جانب سے مکہ میں داخل ہوتے تھے اور زیریں جانب کی گھاٹی سے واپس جاتے تھے۔“ برمکی (عبداللہ بن جعفر) نے مزید کہا کہ ”مکہ کی دو گھاٹیاں مراد ہیں۔“ اور مسدد کی روایت زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1866]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 40 (1576)، 41 (1577)، صحیح مسلم/الحج 37 (1257)، سنن النسائی/الحج 105 (2866)، (تحفة الأشراف: 7869، 8140، 8380)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج30 (853)، سنن ابن ماجہ/المناسک 26 (2940)، مسند احمد (2/14، 19)، سنن الدارمی/المناسک 81 (1969) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1575) صحيح مسلم (1257)
حدیث نمبر: 1869
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا دَخَلَ مَكَّةَ دَخَلَ مِنْ أَعْلَاهَا وَخَرَجَ مِنْ أَسْفَلِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوتے تو اس کی بلندی کی طرف سے داخل ہوتے اور اس کے نشیب سے نکلتے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1869]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوتے تو اس کی بالائی جانب سے تشریف لاتے۔ (اسی راستے میں مکہ کا معروف قبرستان ہے اور اس طرف سے آنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسانی تھی اور واپسی کے لیے) زیریں جانب سے نکلتے تھے۔ (اور یہی وہ راہ ہے جس میں آج کل مقام ”جرول“ آتا ہے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1869]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 41 (1577)، صحیح مسلم/الحج 37 (1258)، ن الکبری/ الحج 29 (4241)، سنن الترمذی/الحج 30 (853)، (تحفة الأشراف: 16923)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/40) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1577) صحيح مسلم (1258)