🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
87. باب التحصيب
باب: وادی محصب میں اترنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2009
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو رَافِعٍ:" لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنْزِلَهُ وَلَكِنْ ضَرَبْتُ قُبَّتَهُ فَنَزَلَهُ"، قَالَ مُسَدَّدٌ: وَكَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ عُثْمَانُ: يَعْنِي فِي الْأَبْطَحِ.
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے آپ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں وہاں (محصب میں) اتروں، میں نے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ نصب کیا تھا، آپ وہاں اترے تھے۔ مسدد کی روایت میں ہے، وہ (ابورافع) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسباب کے محافظ تھے اور عثمان رضی اللہ عنہ کی روایت میں «يعني في الأبطح» کا اضافہ ہے (مطلب یہ ہے کہ وہ ابطح میں محافظ تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2009]
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ (مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ کا یہاں انتظام کروں لیکن میں نے (اپنے طور پر) یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ لگا دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں اتر پڑے تھے۔ جناب مسدد نے کہا کہ ابورافع رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامانِ سفر کے نگران اور منتظم تھے۔ عثمان بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں «فِي الْأَبْطَحِ» ابطح میں کا لفظ ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2009]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحج 59 (1313)، (تحفة الأشراف: 12016) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1313)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2006
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَرَجْتُ مَعَهُ، تَعْنِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي النَّفْرِ الْآخِرِ، فَنَزَلَ الْمُحَصَّبَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ بَشَّارٍ قِصَّةَ بَعْثِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَتْ: ثُمَّ جِئْتُهُ بِسَحَرٍ، فَأَذَّنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ، فَارْتَحَلَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَطَافَ بِهِ حِينَ خَرَجَ ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخری دن کی روانگی میں نکلی تو آپ وادی محصب میں اترے، (ابوداؤد کہتے ہیں: ابن بشار نے اس حدیث میں ان کے تنعیم بھیجے جانے کا واقعہ ذکر نہیں کیا) پھر میں صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، تو آپ نے لوگوں میں روانگی کی منادی کرا دی، پھر خود روانہ ہوئے تو فجر سے پہلے بیت اللہ سے گزرے اور نکلتے وقت اس کا طواف کیا، پھر مدینہ کا رخ کر کے چل پڑے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2006]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے آخری دن میں نکلی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محصب میں پڑاؤ کیا۔ (مکہ اور منیٰ کے درمیان مقبرۃ المعلاۃ سے منیٰ کی طرف جانے والے راستے کا نام ابطح اور محصب ہے۔) امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن بشار نے اس حدیث میں ان کو تنعیم کی طرف روانہ کرنے کا ذکر نہیں کیا۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کہتی ہیں: چنانچہ میں سحر کے وقت (عمرے سے فارغ ہو کر) آپ کے پاس پہنچی تو آپ نے صحابہ کو کوچ کا حکم دیا اور خود سوار ہوئے اور نماز فجر سے پہلے بیت اللہ میں آئے، طواف کیا اور پھر مدینہ کی راہ کی طرف چل نکلے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2006]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 17434، 17441) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1560) صحيح مسلم (1211)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2008
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" إِنَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ، وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ فَمَنْ شَاءَ نَزَلَهُ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَنْزِلْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محصب میں صرف اس لیے اترے تاکہ آپ کے (مکہ سے) نکلنے میں آسانی ہو، یہ کوئی سنت نہیں، لہٰذا جو چاہے وہاں اترے اور جو چاہے نہ اترے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2008]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادیِ محصب میں اس لیے اترے تھے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (مکہ سے) نکلنے میں آسانی رہے۔ یہ کوئی مشروع سنت نہیں ہے۔ جو چاہے یہاں اتر جائے اور جو چاہے نہ اترے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 2008]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16785، 17330)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 147 (1765)، صحیح مسلم/الحج 59 (1311)، سنن الترمذی/الحج 82 (923)، سنن ابن ماجہ/المناسک 81 (3067)، مسند احمد (6/190) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: محصب، ابطح، بطحاء، خیف کنانہ سب ہم معنی ہیں اور اس سے مراد مکہ اور منٰی کے درمیان کا علاقہ ہے جو منٰی سے زیادۃ قریب ہے۔ محصب میں نزول و اقامت مناسک حج میں سے نہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد آرام فرمانے کے لئے یہاں اقامت کی تھی اور یہاں پر عصر، ظہر و عصر اور مغرب و عشاء ادا فرمائیں اور چودہویں رات گزاری، لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں نزول فرمایا، تو آپ کی اتباع میں یہاں کی اقامت مستحب ہے، خلفاء نے آپ کے بعد اس پر عمل کیا ہے، امام شافعی، امام مالک اور جمہور اہل علم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی اقتداء میں اسے مستحب قرار دیا ہے، اور اگر کسی نے وہاں نزول نہ کیا تو بالاجماع کوئی حرج کی بات نہیں، نیز ظہر، عصر اور مغرب و عشاء کی نماز پڑھنی، نیز رات کا ایک حصہ یا پوری رات سونا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
رواه البخاري (1765) ومسلم (1311)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں