سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. باب في المذي
باب: مذی کا بیان۔
حدیث نمبر: 210
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً، وَكُنْتُ أُكْثِرُ مِنَ الِاغْتِسَالِ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يُجْزِيكَ مِنْ ذَلِكَ الْوُضُوءُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي مِنْهُ؟ قَالَ: يَكْفِيكَ بِأَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَتَنْضَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَهُ".
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے مذی سے بڑی تکلیف ہوتی تھی، باربار غسل کرتا تھا، لہٰذا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ”اس میں صرف وضو کافی ہے“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کپڑے میں جو لگ جائے اس کا کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک چلو پانی لے کر کپڑے پر جہاں تم سمجھو کہ مذی لگ گئی ہے چھڑک لو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 210]
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے بہت زیادہ مذی آتی تھی اور اس بنا پر غسل بھی بہت زیادہ کرنا پڑتا تھا، لہٰذا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے تمہیں وضو ہی کافی ہے۔“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اور جو میرے کپڑے کو لگ جائے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تو محسوس کرے کہ کپڑے کو لگی ہے وہاں پانی کا ایک چلو لے کر چھڑک لیا کر، یہی کافی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 210]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أخرجه:سنن ترمذي/كتاب الطهارة/ باب ما جاء فى المذي يصيب الثوب/ ح: 115، سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/ باب: الوضوء من المذي/ ح: 506 من حديث محمد بن إسحاق بن يسار به، وقال الترمذي: ”حسن صحيح“، وصححه ابن حبان ح: 240، (تحفة الأشراف: 4664)، وقد أخرجه: مسند احمد (3/485)، سنن الدارمي/الطهارة 49 (750) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (311)
مشكوة المصابيح (311)
حدیث نمبر: 206
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الْحَذَّاءُ، عَنْ الرَّكِينِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَجَعَلْتُ أَغْتَسِلُ حَتَّى تَشَقَّقَ ظَهْرِي، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ ذُكِرَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَفْعَلْ إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ، فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، فَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے مذی ۱؎ بہت نکلا کرتی تھی، تو میں باربار غسل کرتا تھا، یہاں تک کہ میری پیٹھ پھٹ گئی ۲؎ تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، یا آپ سے اس کا ذکر کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، جب تم مذی دیکھو تو صرف اپنے عضو مخصوص کو دھو ڈالو اور وضو کر لو، جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہو، البتہ جب پانی ۳؎ اچھلتے ہوئے نکلے تو غسل کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 206]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے بہت زیادہ مذی آتی تھی۔ میں نے (اس سے) غسل کرنا شروع کر دیا حتیٰ کہ میری کمر (کی کھال بوجہ پانی) پھٹنے لگی، تو میں نے یہ مسئلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو مذی کو دیکھے تو غسل نہ کیا کر بلکہ صرف اپنی شرمگاہ کو دھو اور نماز والا وضو کر لیا کر، اور جب تو زور سے پانی نکالے (یعنی منی نکلے) تو غسل کر۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 206]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أخرجه: سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/ باب: الغسل من المني/ ح: 193 عن قتيبة به، وصححه ابن خزيمة، ح:20، وابن حبان (موارد)، ح: 241، سنن نسائي/صفة الوضوء/ باب: ما ينقض الوضوء وما لا ينقض الوضوء من المذى/ ح: 152، سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/ باب: الوضوء من المذى/ ح: 436، (تحفة الأشراف: 10079)، وقد أخرجه: صحيح البخاري/كتاب الغسل/ باب غسل المذي والوضوء منه:/ ح: 269، سنن ترمذي/كتاب الطهارة/ باب ما جاء فى المني والمذي/ ح: 114، سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/ باب: الوضوء من المذي/ ح: 504، مسند احمد (1/109، 125، 145) (صحيح)»
وضاحت: ۱؎: مذی ایسی رطوبت کو کہتے ہیں جو عورت سے بوس وکنار کے وقت مرد کے ذکر سے بغیر اچھلے نکلتی ہے۔
۲؎: یعنی ٹھنڈے پانی سے غسل کرتے کرتے پیٹھ کی کھال پھٹ گئی، جیسے سردی میں ہاتھ پاؤں پھٹ جاتے ہیں۔
۳؎: اس سے مراد منی ہے یعنی وہ رطوبت جو شہوت کے وقت اچھل کر نکلتی ہے۔
۲؎: یعنی ٹھنڈے پانی سے غسل کرتے کرتے پیٹھ کی کھال پھٹ گئی، جیسے سردی میں ہاتھ پاؤں پھٹ جاتے ہیں۔
۳؎: اس سے مراد منی ہے یعنی وہ رطوبت جو شہوت کے وقت اچھل کر نکلتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 207
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ لَهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ فَخَرَجَ مِنْهُ الْمَذْيُ، مَاذَا عَلَيْهِ؟، فَإِنَّ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ، قَالَ الْمِقْدَادُ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ، فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ".
مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اپنے لیے) یہ مسئلہ پوچھنے کا حکم دیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس جائے اور مذی نکل آئے تو کیا کرے؟ (انہوں نے کہا) چونکہ میرے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی (فاطمہ رضی اللہ عنہا) ہیں، اس لیے مجھے آپ سے یہ مسئلہ پوچھنے میں شرم آتی ہے۔ مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے جا کر پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اسے پائے تو اپنی شرمگاہ کو دھو ڈالے اور وضو کرے جیسے نماز کے لیے وضو کرتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 207]
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیجیے کہ ایک شخص جب اپنی اہلیہ کے قریب ہوتا ہے تو اس سے مذی نکلتی ہے تو اس پر کیا لازم ہے (وضو یا غسل)؟ چونکہ میرے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہے اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرنے میں حجاب محسوس کرتا ہوں۔“ مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ایسا محسوس کرے تو اپنی شرمگاہ کو دھو لے اور نماز والا وضو کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 207]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أخرجه: سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/ باب: الوضوء من المذي/ ح: 505، وقد أخرجه: سنن نسائي/صفة الوضوء/ باب: ما ينقض الوضوء وما لا ينقض الوضوء من المذى/ ح: 156، سنن نسائي/كتاب الغسل والتيمم/ باب: الاختلاف على بكير/ ح: 441 من حديث مالك به، وهو فى موطا امام مالك (يحيٰی)/الطهارة 13 (53): 40/1، وللحديث شواهد عند مسلم، ح: 303 وغيره، (تحفة الأشراف: 11544)، مسند احمد (6/4، 5) (صحيح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف لإنقطاعه
نسائي (156،441)،ابن ماجه (505)
سليمان بن يسار لم يسمع من المقداد و لا من علي رضي اللّٰه عنھما
وحديث مسلم (303) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 20
إسناده ضعيف لإنقطاعه
نسائي (156،441)،ابن ماجه (505)
سليمان بن يسار لم يسمع من المقداد و لا من علي رضي اللّٰه عنھما
وحديث مسلم (303) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 20