سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. باب صيام أيام التشريق
باب: ایام تشریق (ذی الحجہ) کے روزے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2418
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَلَى أَبِيهِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَرَّبَ إِلَيْهِمَا طَعَامًا، فَقَالَ:" كُلْ. فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ عَمْرٌو: كُلْ، فَهَذِهِ الْأَيَّامُ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِإِفْطَارِهَا وَيَنْهَانَا عَنْ صِيَامِهَا. قَالَ مَالِكٌ: وَهِيَ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ".
ام ہانی رضی اللہ عنہا کے غلام ابو مرہ سے روایت ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے ہمراہ ان کے والد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے دونوں کے لیے کھانا پیش کیا اور کہا کہ کھاؤ، تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا: ”میں تو روزے سے ہوں“، اس پر عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: کھاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان دنوں میں روزہ توڑ دینے کا حکم فرماتے اور روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔ مالک کا بیان ہے کہ یہ ایام تشریق کی بات ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2418]
ابو مرہ مولیٰ ام ہانی سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے والد سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے تو انہوں نے دونوں کو کھانا پیش کیا اور کہا: ”کھاؤ۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں روزے سے ہوں۔“ تو عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کھاؤ، ان دنوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں افطار کا حکم دیا کرتے تھے اور روزوں سے منع فرماتے تھے۔“ جناب مالک رحمہ اللہ نے کہا: ”اس سے مراد ایامِ تشریق ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2418]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10751)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 44(137)، مسند احمد (4/197)، سنن الدارمی/الصوم 48 (1808) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2324
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، قَالَ:" وَفِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَأَضْحَاكُمْ يَوْمَ تُضَحُّونَ، وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ، وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ، وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ مَنْحَرٌ، وَكُلُّ جَمْعٍ مَوْقِفٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث بیان کی، اس میں ہے: ”تمہاری عید الفطر اس دن ہے جس دن تم افطار کرتے ہو ۱؎ اور عید الاضحی اس دن ہے جس دن تم قربانی کرتے ہو، پورا کا پورا میدان عرفہ ٹھہرنے کی جگہ ہے اور سارا میدان منیٰ قربانی کرنے کی جگہ ہے نیز مکہ کی ساری گلیاں قربان گاہ ہیں، اور سارا مزدلفہ وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2324]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے (یہ طویل حدیث کا ایک حصہ ہے) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عید الفطر اسی دن ہے جب تم افطار کرو اور عید قرباں اسی دن ہے جب تم قربانی کرو۔ سارا میدان عرفات وقوف کی جگہ ہے اور سارا منیٰ جائے قربانی ہے، مکہ کے تمام راستے قربانی کی جگہ ہیں اور سارا مزدلفہ وقوف کی جگہ ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2324]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14605)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصوم 11 (697)، سنن ابن ماجہ/الصیام 9 (1660) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسی جملے کی باب سے مطابقت ہے، مطلب یہ ہے کہ: جب سارے کے سارے لوگ تلاش و جستجو اور اجتہاد کے بعد کسی دن چاند کا فیصلہ کر لیں اور اسی حساب سے روزہ اور افطار اور قربانی کر لیں اور بعد میں چاند دوسرے دن کا ثابت ہوجائے تو یہ اجتماعی غلطی معاف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2416
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ، أَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى فَتَأْكُلُونَ مِنْ لَحْمِ نُسُكِكُمْ، وَأَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ".
ابو عبید کہتے ہیں کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی پھر انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے: عید الاضحی کے روزے سے تو اس لیے کہ تم اس میں اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو، اور عید الفطر کے روزے سے اس لیے کہ تم اپنے روزوں سے فارغ ہوتے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2416]
ابو عبید کہتے ہیں کہ میں عید کے روز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں حاضر تھا۔ آپ نے پہلے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عید کے) ان دو دنوں میں روزے سے منع فرمایا ہے۔ قربانی کے دن میں تم اپنی قربانیوں کے گوشت کھاتے ہو اور عید الفطر میں تم روزوں سے فارغ ہوتے ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2416]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 66 (1990)، الأضاحی 16 (5571)، صحیح مسلم/الصیام 22 (1137)، سنن الترمذی/الصوم 58 (771)، سنن ابن ماجہ/الصیام 36 (1722)، (تحفة الأشراف: 10663)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العیدین 2 (5)، مسند احمد (1/24، 34، 40) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1990) صحيح مسلم (1137)
حدیث نمبر: 2419
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، وَالْإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوم عرفہ یوم النحر اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہے، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2419]
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «يَوْمُ عَرَفَةَ» (یوم عرفہ، نویں ذوالحجہ)، «يَوْمُ النَّحْرِ» (یوم نحر، دسویں ذوالحجہ، قربانی کا دن) اور «أَيَّامُ التَّشْرِيقِ» (ایام تشریق) ہم اہل اسلام کے عید کے ایام ہیں، یہ کھانے اور پینے کے دن ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2419]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصوم 59 (773)، سنن النسائی/المناسک 195 (3007)، (تحفة الأشراف: 9941)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/152)، سنن الدارمی/الصوم 47 (1805) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه الترمذي (773 وسنده حسن) ورواه النسائي (3007 وسنده حسن)
أخرجه الترمذي (773 وسنده حسن) ورواه النسائي (3007 وسنده حسن)