🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
65. باب في صوم يوم عاشوراء
باب: یوم عاشورہ (دسویں محرم) کے روزہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2443
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ عَاشُورَاءُ يَوْمًا نَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ہم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، پھر جب رمضان کے روزوں فرضیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ (یوم عاشوراء) اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے لہٰذا جو روزہ رکھنا چاہے رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2443]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اسلام سے پہلے ہم دسویں محرم کو روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب رمضان کا حکم نازل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے، جو چاہے اس کا روزہ رکھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 69 (2002)، والتفسیر 24 (4501)، صحیح مسلم/الصیام 20 (1126)، (تحفة الأشراف: 8146)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام 41 (1737)، مسند احمد (2/57)، سنن الدارمی/الصوم 46 (1803) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4501) صحيح مسلم (1126)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2442
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ. فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ" صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ هُوَ الْفَرِيضَةُ، وَتُرِكَ عَاشُورَاءُ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں قریش عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کا روزہ نبوت سے پہلے رکھتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو آپ نے اس کا روزہ رکھا، اور اس کے روزے کا حکم دیا، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو رمضان کے روزے ہی فرض رہے، اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا گیا اب اسے جو چاہے رکھے جو چاہے چھوڑ دے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2442]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عاشورا (دسویں محرم) کا دن ایسا تھا کہ اہل قریش اسلام سے پہلے اس کا روزہ رکھا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نبوت سے پہلے یہ روزہ رکھتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے اس دن کا روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا۔ پس جب رمضان فرض ہوا تو وہی فریضہ ہو گیا اور عاشورا چھوڑ دیا گیا، جو چاہتا رکھ لیتا اور جو چاہتا نہ رکھتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصوم 69 (2002)، (تحفة الأشراف: 17157)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصیام 19 (1125)، سنن الترمذی/الصوم 49 (753)، موطا امام مالک/الصیام 11(33)، سنن الدارمی/الصوم 46 (1803) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2002) صحيح مسلم (1125)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں