سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
78. باب في الرجل ينادي بالشعار
باب: شعار (کوڈ) کو پکار کر کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2597
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَن سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنْ بُيِّتُّمْ فَلْيَكُنْ شِعَارُكُمْ حم لَا يُنْصَرُونَ".
مہلب بن ابی صفرہ کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اگر دشمن تمہارے اوپر شب خون ماریں تو تمہارا شعار (کوڈ) «حم لا ينصرون» ۱؎ ہونا چاہیئے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2597]
سیدنا مہلب بن ابی صفرہ رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ مجھے اس شخص نے بیان کیا جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم پر رات کو حملہ ہو جائے تو تمہارا شعار «حٰمٓ لَا يُنْصَرُونَ» ”حٰم، ان کی مدد نہیں کی جائے گی“ ہونا چاہیے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2597]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجھاد 11 (1682)، (تحفة الأشراف: 15679)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ السیر (8861)، الیوم واللیلة (617)، مسند احمد (4/65، 5/377) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اللہ کی قسم دشمنوں کو اللہ کی تائید و نصرت حاصل نہیں ہو گی بلکہ وہ مغلوب رہیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3948)
أبو إسحاق صرح بالسماع عند ابن أبي شيبة (7/414 ح 36787) وغيره
مشكوة المصابيح (3948)
أبو إسحاق صرح بالسماع عند ابن أبي شيبة (7/414 ح 36787) وغيره
حدیث نمبر: 2595
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: كَانَ شِعَارُ الْمُهَاجِرِينَ عَبْدَ اللَّهِ، وَشِعَارُ الأَنْصَارِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مہاجرین کا شعار (کوڈ) ۱؎ ”عبداللہ“ اور انصار کا شعار ”عبدالرحمٰن“ تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2595]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (ایک جنگ میں) مہاجرین کا شعار ”عبداللہ“ اور انصار کا ”عبدالرحمٰن“ تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2595]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4601) (حسن بصری مدلس ہیں اور روایت ’’عنعنہ“ سے ہے) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: وہ خاص لفظ جس سے پہرے دار یا فوجی کو آپس میں ایک دوسرے کی شناخت کے لئے بتا دیا جاتا ہے کہ دوران جنگ اسے دھوکہ نہ دیا جا سکے، اسے ”پردل“ کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
حجاج بن أرطاة ضعيف،مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 95
إسناده ضعيف
حجاج بن أرطاة ضعيف،مدلس
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 95