سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. باب في الطاعة
باب: امیر لشکر کی اطاعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2624
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: يَأَ ايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ سورة النساء آية 59، فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ أَخْبَرَنِيه ِ يَعْلَى، عَن سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ َعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں آیت «يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم» ”اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اور اپنے میں سے اختیار والوں کی“ (سورۃ النساء: ۵۹) عبداللہ (عبداللہ بن حذافہ) قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ میں بھیجا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2624]
ابن جریج رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (آیت کریمہ) ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾ [سورة النساء: 59] ”اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اولیٰ الامر کی۔“ ”سیدنا عبداللہ بن قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک مہم میں بھیجا تھا۔“ (ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں) کہ ”مجھے یہ روایت یعلیٰ نے بواسطہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیرسورة النساء 11 (4584)، صحیح مسلم/الإمارة 8 (1834)، سنن الترمذی/الجھاد 3 (1672)، سنن النسائی/البیعة 28 (4199)، (تحفة الأشراف: 5651)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/337) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4584) صحيح مسلم (1834)
حدیث نمبر: 2625
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْمَعُوا لَهُ وَيُطِيعُوا فَأَجَّجَ نَارًا، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَقْتَحِمُوا فِيهَا فَأَبَى قَوْمٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَقَالُوا: إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنَ النَّارِ وَأَرَادَ قَوْمٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" لَوْ دَخَلُوهَا أَوْ دَخَلُوا فِيهَا لَمْ يَزَالُوا فِيهَا، وَقَالَ: لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا، اور ایک آدمی ۱؎ کو اس کا امیر بنایا اور لشکر کو حکم دیا کہ اس کی بات سنیں، اور اس کی اطاعت کریں، اس آدمی نے آگ جلائی، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس میں کود پڑیں، لوگوں نے اس میں کودنے سے انکار کیا اور کہا: ہم تو آگ ہی سے بھاگے ہیں اور کچھ لوگوں نے اس میں کود جانا چاہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ اس میں داخل ہو گئے ہوتے تو ہمیشہ اسی میں رہتے“، اور فرمایا: ”اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت تو بس نیکی کے کام میں ہے ۲؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2625]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ان پر ایک شخص (عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ) کو امیر بنایا اور ان (لشکر والوں) کو حکم دیا کہ امیر کی بات سنیں اور اس کی اطاعت کریں، تو اس نے آگ بھڑکائی اور انہیں حکم دیا کہ اس میں کود جائیں تو ایک قوم نے اس کی یہ بات ماننے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے: ”ہم آگ ہی سے تو بھاگے ہیں (مسلمان ہوئے ہیں)“ اور کچھ دوسرے لوگوں نے آگ میں کود جانے کا ارادہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ اس میں داخل ہو جاتے تو پھر ہمیشہ اسی میں رہتے۔“ اور فرمایا: ”اللہ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں، اطاعت ہمیشہ نیکی کے کاموں میں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2625]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 59 (4340)، والأحکام 4 (7145)، وأخبار الآحاد 1 (7257)، صحیح مسلم/الإمارة 8 (1840)، سنن النسائی/البیعة 34 (4210)، (تحفة الأشراف: 10168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/82، 94، 124) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس آدمی کا نام عبداللہ بن حذافہ سہمی تھا جن کا تذکرہ پچھلی حدیث میں ہے، بعض لوگ کہتے ہیں: ان کا نام ” علقمہ بن مجزر تھا “۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر امیر شریعت کے خلاف حکم دے تو اس کی اطاعت نہ کی جائے۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ اگر امیر شریعت کے خلاف حکم دے تو اس کی اطاعت نہ کی جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7257) صحيح مسلم (1840)
حدیث نمبر: 2626
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان آدمی پر امیر کی بات ماننا اور سننا لازم ہے چاہے وہ پسند کرے یا ناپسند، جب تک کہ اسے کسی نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، لیکن جب اسے نافرمانی کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ہے اور نہ ماننا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2626]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان پر واجب ہے کہ (تمام احکام) سنے اور مانے، خواہ اسے پسند آئیں یا ناپسند ہوں، جب تک اسے نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، جب معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ سننا ہے اور نہ اطاعت ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2626]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجھاد 108 (2955)، والأحکام 4 (7144)، صحیح مسلم/الإمارة 8 (1839)، (تحفة الأشراف: 8150)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجھاد 29 (1707)، سنن النسائی/البیعة 34 (4217)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 40 (2864)، مسند احمد (2/17، 42) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7144) صحيح مسلم (1839)