سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب كراهية المغالاة في الكفن
باب: کفن مہنگا بنانا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 3154
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: لَا تُغَالِ لِي فِي كَفَنٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تَغَالَوْا فِي الْكَفَنِ، فَإِنَّهُ يُسْلَبُهُ سَلْبًا سَرِيعًا".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کفن میں میرے لیے قیمتی کپڑا استعمال نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: ”کفن میں غلو نہ کرو کیونکہ جلد ہی وہ اس سے چھین لیا جائے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3154]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کفن مہنگا نہیں ہونا چاہیے۔ بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”کفن مہنگا مت بنایا کرو، بلاشبہ یہ بہت جلد چھین لیا جاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10149) (ضعیف)» (اس کے راوی عمرو بن ہاشم لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمرو بن ھاشم الجنبي ضعيف وقال الحافظ ابن حجر : لين الحديث،أفرط فيه ابن حبان (تق : 5126)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 116
إسناده ضعيف
عمرو بن ھاشم الجنبي ضعيف وقال الحافظ ابن حجر : لين الحديث،أفرط فيه ابن حبان (تق : 5126)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 116
حدیث نمبر: 3150
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْكَرِيمِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبٍ يَعْنِي ابْنَ مُنَبِّهٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا تُوُفِّيَ أَحَدُكُمْ، فَوَجَدَ شَيْئًا، فَلْيُكَفَّنْ فِي ثَوْبٍ حِبَرَةٍ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کسی شخص کا انتقال ہو جائے اور ورثاء صاحب حیثیت (مالدار) ہوں تو وہ اسے یمنی کپڑے (یعنی اچھے کپڑے میں) دفنائیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3150]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ہم میں سے جب کوئی فوت ہو جائے اور اسے وسعت حاصل ہو، تو چاہیے کہ اس کا کفن «حِبَرَةٍ» ”منقش دھاری دار چادر“ کا ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود: (تحفة الأشراف: 3136)، وقد أخرجہ: حم(3/31) (صحیح لغیرہ)» (صحیح الجامع الصغیر 6585)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
وللحديث شاھد عند أحمد (3/319)
وللحديث شاھد عند أحمد (3/319)