🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب كراهية المغالاة في الكفن
باب: کفن مہنگا بنانا مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3154
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: لَا تُغَالِ لِي فِي كَفَنٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا تَغَالَوْا فِي الْكَفَنِ، فَإِنَّهُ يُسْلَبُهُ سَلْبًا سَرِيعًا".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کفن میں میرے لیے قیمتی کپڑا استعمال نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: کفن میں غلو نہ کرو کیونکہ جلد ہی وہ اس سے چھین لیا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3154]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کفن مہنگا نہیں ہونا چاہیے۔ بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: کفن مہنگا مت بنایا کرو، بلاشبہ یہ بہت جلد چھین لیا جاتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3154]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10149) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عمرو بن ہاشم لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عمرو بن ھاشم الجنبي ضعيف وقال الحافظ ابن حجر : لين الحديث،أفرط فيه ابن حبان (تق : 5126)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 116

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو
Newعامر الشعبي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← عامر الشعبي
ثقة ثبت
👤←👥عمر بن هاشم الجنبي، أبو مالك
Newعمر بن هاشم الجنبي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
مقبول
👤←👥محمد بن عبيد المحاربي، أبو يعلى، أبو جعفر
Newمحمد بن عبيد المحاربي ← عمر بن هاشم الجنبي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3154
لا تغالوا في الكفن فإنه يسلبه سلبا سريعا
بلوغ المرام
442
‏‏‏‏لا تغالوا في الكفن فإنه يسلب سلبا سريعا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3154 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3154
فوائد ومسائل:
روایت ضعیف ہے۔
بہرحال کفن مہنگا بنانا ناجائز ہی ہے۔
نیز اس میں مال کا اسراف بھی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3154]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 442
مرنے والے کو قیمتی کفن نہ دینا
. . . رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (بہت) قیمتی کفن نہ دیا کرو، وہ تو بہت جلد بوسیدہ ہو جاتا ہے . . . [بلوغ المرام /كتاب الجنائز/حدیث: 442]
لغوی تشریح:
«لَا تُغَالُوا» «مغالاة» سے ماخوذ ہونے کی صورت میں تا اور لام دونوں مضمون ہوں گے، یا «تَغَالِي» سے ہے اور اس صورت میں ایک تا محذوف ہوگی نیز تا اور لام دونوں پر زبر ہو گی۔ اس سے مراد اسراف اور قیمت میں زیادتی کرنا ہے۔
«يُسْلَبُ» صیغہ مجہول۔ بوسیدہ ہونے سے کنایہ ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اچھا کفن دینے کے بارے میں جو حکم دیا گیا ہے اس سے مراد سفید صاف ستھرا کھلا اور ساتر ہونا ہے۔ درمیانی قیمت کا ہو، بہت گھٹیا اور ناقص نہ ہو، اس سے مراد اسراف و فضول خرچی نہیں ہے۔

فائدہ: بہت قیمتی کفن کی میت کو ضرورت ہی نہیں کیونکہ اسے دیر یا سویر بوسیدہ ہو جانا ہے۔ یہ روایت سنداً ضعیف ہے مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وفات کے وقت کا فرمان اس کو موید ہے کہ میری چادروں کو دھو کر مجھے انھی میں کفن دینا کیونکہ زندہ آدمی نئے لباس کا میت سے زیادہ حقدار ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري، الجنائز، باب موت يوم الائنين، حديث: 1387]
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 442]

Sunan Abi Dawud Hadith 3154 in Urdu