🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(جنازے کے متعلق احادیث)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 442
وعن علي رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏لا تغالوا في الكفن فإنه يسلب سلبا سريعا» . رواه أبو داود.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ (بہت) قیمتی کفن نہ دیا کرو۔ وہ تو بہت جلد بوسیدہ ہو جاتا ہے۔ (ابوداؤد) [بلوغ المرام/حدیث: 442]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الجنائز، باب كراهية المغالاة في الكفن، حديث:3154.* عمروبن هاشم الجنبي لين الحديث، أفرط فيه ابن حبان (تقريب)، وابن أبي خالد عنعن، وفيه علة أخري.»

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3154
لا تغالوا في الكفن فإنه يسلبه سلبا سريعا
بلوغ المرام
442
‏‏‏‏لا تغالوا في الكفن فإنه يسلب سلبا سريعا
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 442 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 442
لغوی تشریح:
«لَا تُغَالُوا» «مغالاة» سے ماخوذ ہونے کی صورت میں تا اور لام دونوں مضمون ہوں گے، یا «تَغَالِي» سے ہے اور اس صورت میں ایک تا محذوف ہوگی نیز تا اور لام دونوں پر زبر ہو گی۔ اس سے مراد اسراف اور قیمت میں زیادتی کرنا ہے۔
«يُسْلَبُ» صیغہ مجہول۔ بوسیدہ ہونے سے کنایہ ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں اچھا کفن دینے کے بارے میں جو حکم دیا گیا ہے اس سے مراد سفید صاف ستھرا کھلا اور ساتر ہونا ہے۔ درمیانی قیمت کا ہو، بہت گھٹیا اور ناقص نہ ہو، اس سے مراد اسراف و فضول خرچی نہیں ہے۔

فائدہ: بہت قیمتی کفن کی میت کو ضرورت ہی نہیں کیونکہ اسے دیر یا سویر بوسیدہ ہو جانا ہے۔ یہ روایت سنداً ضعیف ہے مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا وفات کے وقت کا فرمان اس کو موید ہے کہ میری چادروں کو دھو کر مجھے انھی میں کفن دینا کیونکہ زندہ آدمی نئے لباس کا میت سے زیادہ حقدار ہوتا ہے۔ [صحيح البخاري، الجنائز، باب موت يوم الائنين، حديث: 1387]
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 442]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3154
کفن مہنگا بنانا مکروہ ہے۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کفن میں میرے لیے قیمتی کپڑا استعمال نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: کفن میں غلو نہ کرو کیونکہ جلد ہی وہ اس سے چھین لیا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3154]
فوائد ومسائل:
روایت ضعیف ہے۔
بہرحال کفن مہنگا بنانا ناجائز ہی ہے۔
نیز اس میں مال کا اسراف بھی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3154]

Bulughul Maram Hadith 442 in Urdu