سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
61. باب الصلاة على القبر
باب: قبر پر جنازہ پڑھنا۔
حدیث نمبر: 3203
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ:" أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ، أَوْ رَجُلًا، كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقِيلَ: مَاتَ، فَقَالَ:" أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهِ؟، قَالَ: دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ، فَدَلُّوهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک کالی عورت یا ایک مرد مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے موجود نہ پایا تو لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ وہ تو مر گیا ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں نے مجھے اس کی خبر کیوں نہیں دی؟“ آپ نے فرمایا: ”مجھے اس کی قبر بتاؤ“، لوگوں نے بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3203]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک کالے رنگ کی عورت یا مرد مسجد کی صفائی کیا کرتا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غائب پایا اور اس کے متعلق دریافت فرمایا تو کہا گیا کہ وہ فوت ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟“ پھر فرمایا: ”مجھے اس کی قبر بتاؤ۔“ صحابہ نے اس کی نشاندہی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3203]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 74 (458)، صحیح مسلم/الجنائز 23 (956)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 32 (1527)، (تحفة الأشراف: 14650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/353، 388، 406) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (458) صحيح مسلم (956)
حدیث نمبر: 3196
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاق، عَنِ الشَّعْبِيِّ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَرَّ بِقَبْرٍ رَطْبٍ، فَصَفُّوا عَلَيْهِ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا"، فَقُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ: مَنْ حَدَّثَكَ؟ قَالَ: الثِّقَةُ مَنْ شَهِدَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ.
شعبی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک نئی قبر پر سے ہوا، تو لوگوں نے اس پر صف بندی کی آپ نے (نماز پڑھائی اور) چار تکبیریں کہیں۔ ابواسحاق کہتے ہیں: میں نے شعبی سے پوچھا: آپ سے یہ حدیث کس نے بیان کی؟ انہوں نے کہا: ایک معتبر آدمی نے جو اس وقت موجود تھے، یعنی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3196]
جناب شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک تازہ بنی ہوئی قبر کے پاس سے گزرے، تو صحابہ نے اس پر صف بنائی (جنازہ پڑھا گیا) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر چار تکبیریں کہیں۔“ ابواسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ آپ کو یہ کس نے بیان کیا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: ”ایک ثقہ (قابل اعتماد) شخصیت نے جو اس جنازے میں حاضر تھی یعنی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3196]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 161 (857)، والجنائز 5 (1247)، 54 (1319)، 55 (1322)، 59 (1326)، 66 (1336)، 69 (1340)، صحیح مسلم/الجنائز 23 (954)، سنن الترمذی/الجنائز 47 (1037)، سنن النسائی/الجنائز 94 (2025)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 32 (1530)، (تحفة الأشراف: 5766)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/224، 283، 338) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1247) صحيح مسلم (954)