🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب فيمن حلف على الطعام لا يأكله
باب: کسی چیز کے نہ کھانے کی قسم کھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3270
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَوْ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْهُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ:" نَزَلَ بِنَا أَضْيَافٌ لَنَا، قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَتَحَدَّثُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ، فَقَالَ:" لَا أَرْجِعَنَّ إِلَيْكَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ ضِيَافَةِ هَؤُلَاءِ، وَمِنْ قِرَاهُمْ، فَأَتَاهُمْ بِقِرَاهُمْ، فَقَالُوا: لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى يَأْتِيَ أَبُو بَكْرٍ، فَجَاءَ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَضْيَافُكُمْ، أَفَرَغْتُمْ مِنْ قِرَاهُمْ؟، قَالُوا: لَا، قُلْتُ: قَدْ أَتَيْتُهُمْ بِقِرَاهُمْ فَأَبَوْا، وَقَالُوا: وَاللَّهِ لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى يَجِيءَ، فَقَالُوا: صَدَقَ، قَدْ أَتَانَا بِهِ، فَأَبَيْنَا حَتَّى تَجِيءَ، قَالَ: فَمَا مَنَعَكُمْ؟، قَالُوا: مَكَانَكَ، قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَقَالُوا: وَنَحْنُ وَاللَّهِ لَا نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ فِي الشَّرِّ كَاللَّيْلَةِ قَطُّ، قَالَ: قَرِّبُوا طَعَامَكُمْ، قَالَ: فَقَرَّبَ طَعَامَهُمْ، فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، فَطَعِمَ وَطَعِمُوا، فَأُخْبِرْتُ أَنَّهُ أَصْبَحَ، فَغَدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صَنَعَ، وَصَنَعُوا، قَالَ: بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ وَأَصْدَقُهُمْ".
عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں ہمارے کچھ مہمان آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بات چیت کیا کرتے تھے (جاتے وقت) کہہ گئے کہ میں واپس نہیں آ سکوں گا یہاں تک کہ تم اپنے مہمانوں کو کھلا پلا کر فارغ ہو جاؤ (یعنی میں دیر سے آ سکوں گا تم انہیں کھانا وغیرہ کھلا دینا) تو وہ (عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ) ان کا کھانا لے کر آئے تو مہمان کہنے لگے: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آئے بغیر نہیں کھائیں گے، پھر وہ آئے تو پوچھا: کیا ہوا تمہارے مہمانوں کا؟ تم کھانا کھلا کر فارغ ہو گئے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: میں ان کا کھانا لے کر ان کے پاس آیا مگر انہوں نے انکار کیا اور کہا: قسم اللہ کی جب تک وہ (ابوبکر) نہیں آ جائیں گے ہم نہیں کھائیں گے، تو ان لوگوں نے کہا: یہ سچ کہہ رہے ہیں، یہ ہمارے پاس کھانا لے کر آئے تھے، لیکن ہم نے ہی انکار کر دیا کہ جب تک آپ نہیں آ جاتے ہیں ہم نہیں کھائیں گے، آپ نے کہا: کس چیز نے تمہیں کھانے سے روکا؟ انہوں نے کہا: آپ کے نہ ہونے نے، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں تو آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا، مہمانوں نے کہا: جب تک آپ نہیں کھائیں گے ہم بھی نہیں کھائیں گے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: آج جیسی بری رات میں نے کبھی نہ دیکھی، پھر کہا: کھانا لاؤ تو ان کا کھانا لا کر لگا دیا گیا تو انہوں نے «بسم الله» کہہ کر کھانا شروع کر دیا، مہمان بھی کھانے لگے۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے اطلاع دی گئی کہ صبح اٹھ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اور جو کچھ انہوں نے اور مہمانوں نے کیا تھا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان لوگوں سے زیادہ قسم کو پورا کرنے والے اور صادق ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3270]
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارے ہاں کچھ مہمان آ گئے، جبکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گفتگو میں مشغول ہو جایا کرتے تھے، تو انہوں نے کہا: میرے آنے تک تم ان کی ضیافت اور خدمت سے فارغ ہو جانا۔ چنانچہ میں ان کے پاس ان کی ضیافت لے کر آیا تو انہوں نے کہا: ہم نہیں کھائیں گے حتیٰ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آ جائیں۔ چنانچہ وہ (دیر سے) آئے اور پوچھا: تمہارے مہمانوں کا کیا ہوا، کیا تم ان کی مہمانداری سے فارغ ہو چکے ہو؟ گھر والوں نے کہا: نہیں۔ میں نے عرض کیا کہ میں ان کے پاس ان کی ضیافت لے گیا تھا مگر انہوں نے انکار کر دیا اور کہا: اللہ کی قسم! ہم نہیں کھائیں گے حتیٰ کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آ جائیں۔ ان مہمانوں نے بھی تصدیق کی کہ یہ ہمارے پاس ضیافت لایا تھا مگر ہم نے انکار کر دیا حتیٰ کہ آپ آ جائیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تمہیں (میرے بغیر) کھانے سے کیا مانع رہا؟ انہوں نے کہا: آپ کے باعث (آپ کی عدم موجودگی)۔ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں آج رات یہ نہیں کھاؤں گا۔ تو انہوں نے کہا: اور ہم بھی اللہ کی قسم! نہیں کھائیں گے حتیٰ کہ آپ کھائیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: آج جیسی بری رات میں نے نہیں دیکھی۔ اور فرمایا: کھانا لاؤ۔ چنانچہ ان کا کھانا پیش کیا گیا تو کہا: «بِسْمِ اللّٰهِ» اللہ کے نام سے۔ اور کھانے لگے اور مہمانوں نے بھی کھایا۔ (عبدالرحمن کہتے ہیں) مجھے بتایا گیا کہ صبح کے وقت وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گزار کیا جو کچھ انہوں (ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے کیا اور مہمانوں نے کیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان سے بڑھ کر صالح ہو اور سچے بھی (کہ مہمانوں کے اکرام میں ان کی قسم کے مطابق کھانا کھا لیا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/مواقیت الصلاة 41 (602)، المناقب 25 (3581)، الأدب 87 (6140)، صحیح مسلم/الأشربة 32 (2057)، (تحفة الأشراف: 9688)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/197، 198) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح ق إلا أن قوله فأخبرت... ليس عند خ وهو مدرج
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6140) صحيح مسلم (2057)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3256
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أَبِيهَا سُوَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ:" خَرَجْنَا نُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ، فَأَخَذَهُ عَدُوٌّ لَهُ، فَتَحَرَّجَ الْقَوْمُ أَنْ يَحْلِفُوا، وَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي، فَخَلَّى سَبِيلَهُ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ تَحَرَّجُوا أَنْ يَحْلِفُوا، وَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي، قَالَ: صَدَقْتَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ".
سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کا ارادہ کر رہے تھے، اور ہمارے ساتھ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہیں ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا تو اور ساتھیوں نے انہیں جھوٹی قسم کھا کر چھڑا لینے کو برا سمجھا (لیکن) میں نے قسم کھا لی کہ وہ میرا بھائی ہے تو اس نے انہیں آنے دیا، پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ اور لوگوں نے تو قسم کھانے میں حرج و قباحت سمجھی، اور میں نے قسم کھا لی کہ یہ میرے بھائی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچ کہا، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3256]
سیدنا سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی نیت سے روانہ ہوئے اور ہمارے ساتھ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ان کے ایک دشمن نے ان کو پکڑ لیا، تو قوم کے لوگ قسم کھانے سے ہچکچاتے رہے، مگر میں نے قسم کھا لی کہ یہ میرا بھائی ہے۔ تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ قوم کے لوگوں نے قسم کھانے میں حرج سمجھا تھا، مگر میں نے قسم کھائی کہ یہ میرا بھائی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے سچ کہا، مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الکفارات 14 (2119)، (تحفة الأشراف: 4809)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/79) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه ابن ماجه (2119 وسنده حسن) جدة إبراھيم بن عبد الأعلٰي وثقھا الحاكم والذهبي

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3276
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، أَوْ قَالَ: إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ يَمِينِي".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی میں کسی بات کی قسم کھا لوں اور پھر بھلائی اس کے خلاف میں دیکھوں تو ان شاءاللہ میں اپنی قسم توڑ کر کفارہ دے دوں گا اور اسے اختیار کر لوں گا جس میں بھلائی ہو گی یا کہا: میں اسے اختیار کر لوں گا جس میں بھلائی ہو گی اور اپنی قسم توڑ کر کفارہ دے دوں گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3276]
سیدنا ابوبردہ اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں کوئی قسم کھاؤں اور پھر اس کے خلاف کو بہتر پاؤں تو بالضرور «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا اور وہی کروں گا جو بہتر ہو گا۔ یا یوں فرمایا: «إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ يَمِينِي» مگر میں وہ کروں گا جو بہتر ہو گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3276]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الخمس 15 (3133)، المغازي 74 (4385)، الصید 26 (5517)، الأیمان 1 (6621)، 4 (6649)، 18 (6680)، کفارات الأیمان 9 (6718)، 10 (6719)، التوحید 56 (7555)، صحیح مسلم/الأیمان 3 (1649)، سنن النسائی/الأیمان 14 (3811)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 7 (2107)، (تحفة الأشراف: 9122)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/398، 401، 404، 418) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6623) صحيح مسلم (1649)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3277
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ يَعْنِيَ ابْنَ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ، إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ يَمِينَكَ"قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ يُرَخِّصُ فِيهَا الْكَفَّارَةَ قَبْلَ الْحِنْثِ.
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبدالرحمٰن بن سمرہ! جب تم کسی بات پر قسم کھا لو پھر اس کے بجائے دوسری چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو اسے اختیار کر لو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد سے سنا ہے وہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کو جائز سمجھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3277]
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عبدالرحمن بن سمرہ! جب تم کوئی قسم کھاؤ، پھر اس کے خلاف کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے سنا کہ وہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کرنے کی رخصت دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3277]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأیمان 1 (6622)، کفارات الأیمان 10 (6722)، الأحکام 5 (7146)، 6 (7147)، صحیح مسلم/الأیمان 3 (1652)، سنن الترمذی/الأیمان 5 (1529)، سنن النسائی/ آداب القضاة 5 (5386)، (تحفة الأشراف: 9695)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/61، 62، 63)، دی/ النذور 9 (3291) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6722) صحيح مسلم (1652)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں