سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب الرجل يكفر قبل أن يحنث
باب: قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3276
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنِّي وَاللَّهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، أَوْ قَالَ: إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفَّرْتُ يَمِينِي".
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی میں کسی بات کی قسم کھا لوں اور پھر بھلائی اس کے خلاف میں دیکھوں تو ان شاءاللہ میں اپنی قسم توڑ کر کفارہ دے دوں گا اور اسے اختیار کر لوں گا جس میں بھلائی ہو گی“ یا کہا: ”میں اسے اختیار کر لوں گا جس میں بھلائی ہو گی اور اپنی قسم توڑ کر کفارہ دے دوں گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3276]
سیدنا ابوبردہ اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر میں کوئی قسم کھاؤں اور پھر اس کے خلاف کو بہتر پاؤں تو بالضرور «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا اور وہی کروں گا جو بہتر ہو گا۔“ یا یوں فرمایا: «إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفَّرْتُ يَمِينِي» ”مگر میں وہ کروں گا جو بہتر ہو گا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3276]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الخمس 15 (3133)، المغازي 74 (4385)، الصید 26 (5517)، الأیمان 1 (6621)، 4 (6649)، 18 (6680)، کفارات الأیمان 9 (6718)، 10 (6719)، التوحید 56 (7555)، صحیح مسلم/الأیمان 3 (1649)، سنن النسائی/الأیمان 14 (3811)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 7 (2107)، (تحفة الأشراف: 9122)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/398، 401، 404، 418) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6623) صحيح مسلم (1649)
حدیث نمبر: 3277
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ يَعْنِيَ ابْنَ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ، إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَكَفِّرْ يَمِينَكَ"قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ يُرَخِّصُ فِيهَا الْكَفَّارَةَ قَبْلَ الْحِنْثِ.
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبدالرحمٰن بن سمرہ! جب تم کسی بات پر قسم کھا لو پھر اس کے بجائے دوسری چیز کو اس سے بہتر پاؤ تو اسے اختیار کر لو جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد سے سنا ہے وہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ دینے کو جائز سمجھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3277]
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عبدالرحمن بن سمرہ! جب تم کوئی قسم کھاؤ، پھر اس کے خلاف کو اس سے بہتر پاؤ تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے سنا کہ وہ قسم توڑنے سے پہلے کفارہ ادا کرنے کی رخصت دیتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3277]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأیمان 1 (6622)، کفارات الأیمان 10 (6722)، الأحکام 5 (7146)، 6 (7147)، صحیح مسلم/الأیمان 3 (1652)، سنن الترمذی/الأیمان 5 (1529)، سنن النسائی/ آداب القضاة 5 (5386)، (تحفة الأشراف: 9695)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/61، 62، 63)، دی/ النذور 9 (3291) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6722) صحيح مسلم (1652)
حدیث نمبر: 3278
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، نَحْوَهُ. قَالَ: فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ، ثُمَّ ائْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَحَادِيثُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، وَعَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ رُوِيَ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِي بَعْضِ الرِّوَايَةِ الْحِنْثُ قَبْلَ الْكَفَّارَةِ، وَفِي بَعْضِ الرِّوَايَةِ الْكَفَّارَةُ قَبْلَ الْحِنْثِ.
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے اس میں ہے: ”تو قسم کا کفارہ ادا کرو پھر اس چیز کو اختیار کرو جو بہتر ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوموسی اشعری، عدی بن حاتم اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کی روایات جو اس موضوع سے متعلق ہیں ان میں بعض میں «الكفارة قبل الحنث» ہے اور بعض میں «الحنث قبل الكفارة» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3278]
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند مروی ہے مگر اس روایت میں (یہ اضافہ) ہے کہ ”اپنی قسم کا کفارہ ادا کر اور پھر اس پر عمل کر جو بہتر ہو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”اس بارے میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے احادیث آئی ہیں۔ کچھ میں ہے کہ پہلے خلاف قسم عمل کرے پھر کفارہ دے اور کچھ میں ہے کہ پہلے کفارہ دے اور پھر خلاف قسم عمل کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأيمان والنذور /حدیث: 3278]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9695) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1652)